گناہوں کی سزا
24 ستمبر 2018 2018-09-24

گوجرانوالہ حافظ آباد میں پیدا ہونے والے دیوان سنگھ مفتون 1957ء میں اپنی یاداشتوں کو تحریر کرتے ہوئے مختلف واقعات لکھتے ہیں جن میں اپنے آپ کو ایڈیٹر ریاست کے نام سے رقم کرتے ہیں کہ
ایڈیٹر ’’ ریاست‘‘ نہ تو خدا پر یقین رکھتا ہے نہ خدا سے منکر ہے مگر وہ تین باتوں کا قائل ضرور ہے (1 ) جوتش یعنی ستاروں کی گردش کا اثر انسانوں پر (2 ) پچھلا اور آئندہ جنم یعنی مسئلہ تناسخ اور ( 3 ) دعایا بدُعا کا اثر یعنی اس کے خیال ، یقین اور تجربہ میں ستاروں کا اثر ہوتا ہے۔ جوجوتش کے ذریعہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔ دعاؤں اور بدوعاؤں کا اثر بھی لازمی ہے ۔
لکھتے ہیں ’’مرحوم لالہ رام رچھپال سنگھ شیدا سابق ایڈیٹر ’’ ہندوستان‘‘ لاہور بہت مخلص اور محبت کے بزرگ و دوست نواز شخصیت تھے ۔ ایڈیٹر ریاست کے ہاں چھ چھ ماہ تک قیام کرتے ۔ جب شیدا صاحب یہاں تشریف رکھتے تو میں شام کو ہر روز ان کی موٹر میں سیر کے لیے دہلی اور نئی دہلی اور قرب و جوار کی دیہاتی سڑکوں پر لے جاتا اور کبھی کبھی مہینہ میں ایک آدھ بار دو چار گھنٹہ کے لیے ہم لوگ دہلی سے دور میرٹھ وغیرہ بھی چلے جاتے۔ ایک روز میں شیدا صاحب سردار بھگوان سنگھ لونگو والیہ مسٹر محمد یوسف جمالی اور لالہ امیر چند کھنہ میرٹھ کے لیے نکلے۔ چنانچہ ہم پانچوں کار میں میرٹھ کے لیے روانہ ہوئے۔ میرٹھ کے راستہ میں جب بڑی نہر کے دوسری طرف پہنچے تو کسی نے کہا کہ جنگل کی تازہ ہوا کا لطف لینے کے لیے تھوڑی دیر سڑک کے کنارے بیٹھا جائے۔ جہاں ایک گڑھا اور چند درخت تھے۔ ہم نصف گھنٹہ کے قریب یہاں بیٹھے تھے۔ کہ قریب کی جھاڑی میں سے ایک خرگوش نکلا۔ ایڈیٹر ریاست نے جب اس خرگوش کو دیکھا تو اس نے دفعتاً شیدا صاحب کی لکڑی جوکافی موٹی تھی ) اٹھا کر اس خرگوش کو ماری لکڑی خرگوش کے لگی اور خرگوش لنگڑا ہوا یا اس کی کوئی ہڈی ٹوٹ گئی یا یہ مر گیا۔
اس کے بعد ہم لوگ میرٹھ گئے۔ وہاں ایک کانگرسی دوست مل گئے۔ شیدا صاحب کو گانا سننے کا بہت شوق تھا ۔ اور آپ اکثر راگوں اور راگنیوں سے واقف تھے۔ ان کانگرسی دوست کے ساتھ ہم بازار گئے۔ سیر کرتے رہے اور ایک جگہ گانا سنا۔ گانا سننے کے بعد ان کانگرسی دوست کے ہاں کھانا کھایا اور رات کو گیارہ بجے کے قریب موٹر میں ہی واپس دہلی کے لیے روانہ ہوئے۔ سردی کا زمانہ تھا اور غالباً نومبر یا دسمبر کا مہینہ تھا۔ سڑک پر آمد ورفت کم تھی۔ میں موٹر کو پینتالیس میل کی رفتار سے چلا رہاتھا۔ میں نے دیکھا کہ سڑک کے بائیں طرف ایک بیل گاڑی جارہی ہے۔ چونکہ وہ بیل گاڑی سڑک سے بائیں طرف تھی میں نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گاڑی کی رفتار کم نہ کی مگر جس وقت موٹر اس بیل گاڑی کے قریب پہنچی تو تیز روشنی کو دیکھ کر بیل چونک اٹھے اور وہ گاڑی چلانے والے سے بے قابو ہو کر داہنی یعنی سڑک کے درمیان کی طرف مڑے۔ اب اس وقت اگر میں موٹر روکتا نہیں تو موٹر سیدھی اس بیل گاڑی میں جاکر لگتی۔ چنانچہ میں نے فوراً بریکوں کو زور سے دبایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بیل گاڑی تو بچ گئی مگر کاریک لخت کھڑے ہونے کے باعث سڑک سے پھسل گئی جس کو سکڈ ہونا کہتے ہیں۔ کار کو سخت دھکا لگا۔ شیدا صاحب اچھل کر زمین پر گرے اور ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ میرے دماغ پر چوٹ آئی اور میں بے ہوش ہو گیا۔ موٹر کے دروازے ٹوٹ گئے اور ہم جاتو رہے تھے۔شمال سے جنوب کی طرف۔ مگر سکڈ ہونے کے باعث موٹر کا رخ شمال کی طرف پھر گیا چنانچہ لالہ امیر چند یوسف صاحب اور سردار بھگوان سنگھ نے مجھے بے ہوشی کی حالت میں ہی موٹر کے نیچے سے نکالا۔ شیدا صاحب شدت درد کے باعث بہت بے چین تھے اور دیکھا گیا کہ ہم بالکل اس جگہ ہی اس وقت اس حالت میں پڑے ہیں ۔ جہاں کے میرٹھ جاتے ہوئے گڑھے اور درختوں کے پاس بیٹھے تھے اور جہاں میں نے شیدا صاحب کی لکڑی کے ساتھ خرگوش کو زخمی کیا تھا ہم لوگ اس بے کسی کی حالت میں نصف گھنٹہ تک وہاں ہی رہے۔ اتنے میں میرٹھ کی طرف سے ایک موٹر آتی دکھائی دی۔ اس موٹر میں پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے ایک صاحب مسٹر پریش چندر تھے ان کو جب معلوم ہوا کہ میری موٹر ہے اور میں بے ہوش پڑا ہوں تو انہوں نے مجھے اپنی موٹر میں ڈالا میری موٹر کے دروازے وغیرہ جو ٹوٹ گئے تھے۔ ،مگر انجن درست حالت میں تھا اور موٹر چل سکتی تھی۔ شیدا صاحب کو میری موٹر میں ڈالا گیا جسے یوسف صاحب نے چلانا شروع کیا اور دونوں موٹریں آہستہ آہستہ دہلی پہنچیں شیدا صاحب کو تو موٹر سول ہسپتال میں لے گئی ۔ جہاں ان کے فریکچر کو سیٹ کیا گیا اور آپ دوماہ کے قریب ہسپتال میں رہے۔ مجھے ہریش چندر جی میرے مکان پر لے آئے۔ ڈاکٹر بیری کو ٹیلیفون کیا۔ رات کو دو تین بجے کے قریب ڈاکٹر صاحب آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا۔ کہ کنکشن آف برین ( دماغی حادثہ، ہے میں بھی دوماہ کے قریب چار پائی پر پڑا رہا اور علاج کراتا رہا دو ماہ کے بعد ہم دونوں اچھے ہوئے۔ اس کے بعد شیدا صاحب مرحوم ہمیشہ کہا کرتے کہ بے گناہ خرگوش کو دیوان سنگھ نے میری لاٹھی سے زخمی کیا اور دونوں کو سزا ملی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر خرگوش کو زخمی کرنا یا مارنا گناہ نہیں اور یہ حادثہ بھی اتفاقاً ہوا تو اس کی وجہ کیا ہے کہ یہ حادثہ عین اس جگہ ہوا جہاں چند گھنٹے پہلے ہم لوگ بیٹھے تھے اور جس جگہ خرگوش زخمی کیا گیا تھا۔
ایڈیٹر ریاست کا ایمان ہے کہ ہر گناہ کی سزا ملتی ہے چاہے وہ اس جنم میں ملے یا اگلے جنم میں ۔ اور فوراً ملے یا دیر میں اور چند سال یا چند ماہ کے بعد ۔ مگر یہ ہو نہیں سکتا۔ کہ انسانوں اور جانوروں ( جن میں دکھ یا سکھ محسوس کرنے کا احساس موجود ہے ) کی دعاؤں یا بدوعاؤں کا اثر نہ ہو۔ اور اگر ہم کوئی گناہ کرتے ہیں ( ایڈیٹر ریاست کے خیال میں گناہ صرف وہ ہے جو کسی کا دل دُکھانے یا کسی کا حق غصب کرنے کی ذیل میں آئے تو اس کی سزا کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔
رب پر پکا یقین نہ رکھنے والا اگر عمال کے بدلے پر یقین رکھتا ہے تو ہم جن تک ہدایت کا پیغام پہنچ چکا نسلی طور پر یا انفرادی طو رپر اور اسے قبول کر چکے کیوں
بار بار تجربے کے عمل سے گزرتے بھی ہیں اور پھر یقین نہیں کرتے وطن عزیز میں تو جگہ جگہ عبرت، مکافات عمل اور قدرت کے لازوال قانون کی نشانیاں پائی جاتی ہیں کوئی میرا اور میں کسی کا ، کوئی آپ کا اور آپ کسی کا لحاط رکھ سکتے ہیں مگر قدرت اپنے نظام کی کامیابی کے لیے کسی کا لحاظ نہیں رکھتی ۔ مجھے حضرت بلالؓ کی دعا یاد آتی ہے کہ کوئی ظالم ظلم کرتے وقت اپنے آپ کو مظلوم میں محسوس کرے۔


ای پیپر