چند ہفتے انتہائی اہم !!
24 ستمبر 2018 2018-09-24

عمران خان کی حکومت کے دن گننے والے کہتے ہیں کہ ایک مہینہ گزر گیا بس دو ماہ رہ گئے ہیں اگر خان صاحب حکومتی پالیسیاں واضح کرنے اور اتحادیوں سے کیے گئے وعدے نبھانے میں کامیاب نہ ہوئے اور دوسری جانب اہم ترین بات یہ کہ نواز شریف کی مدد کی درخواست زرداری نے مان لی تو حکومت زیادہ دن تک قائم رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔ اتحادیوں کے وعدوں میں مسنگ پرسنز ، سرائیکی صوبہ ، غیر ملکیوں کو ان کے ملکوں میں چلتا کرنا وغیرہ شامل ہے لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے انتخابات میں جو کچھ بھگتا ہے اس کے بعد وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ انتخابات فوری طور پر ہوں اور پیپلزپارٹی مزید خفت اٹھائے جبکہ نوجوان لیڈر شپ کو بھی جوان ہونے اور اپنے بازوں میں سیاسی دم خم پیدا کرنے کے لیے وقت درکار ہے پھر زرداری نواز شریف پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ اس کی وجہ نواز شریف کا زرداری کے ساتھ روا رکھا گیا منفی رویہ ہی نہیں ہے بلکہ پیپلزپارٹٰی اگر مسلم لیگ ن کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر تحریک انصاف کی حکومت کی اپوزیشن کرتی ہے تو دونوں میں سے ایک پارٹی اپنی مقبولیت ہمیشہ کے لیے کھو دے گی اور اس کا براہ راست فائدہ تحریک انصاف کو ہی ہوگا۔ لیکن سیاست میں سب کچھ ممکن ہے۔ کلثوم نواز کے افسوس کیلئے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے تحریک انصاف کے سخت مخالف تجزیہ کارکہہ رہے ہیں کہ کچھ نہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے؛ عین ممکن ہے کوئی نئی سیاسی چال مارکیٹ میں متعارف کروائی جائے جو کہ نئے منظر نامے کے عین مطابق ہو۔
دوسری جانب حکومت تیز تر گامزن ہے۔ ایک کے بعد ایک تبدیلی بھرا سرپرائز دے رہی ہے چند ہفتوں میں ڈیم فنڈ ، بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلیاں ، سادگی ، سول ملٹری ہم آہنگی ، تمام وزارتوں کو کرپشن کے خلاف باضابطہ طور پر گزشتہ ادوار کا کچہ چٹھہ سامنے لانے اور اس پر کاروائی کا حکم ، احتساب کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات ، کراچی کو اضافی پانی دینے اور صفائی کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ حکومت کو واقعی آئندہ دو ماہ میں اپنی حتمی پالیسیوں کو عوام کے سامنے لانا ہوگا۔ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی حکومت کو تو شائید کوئی خطرہ نہیں ہے البتہ عمران خان اور تحریک انصاف کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ملک میں تبدیلی اگرچے ایک دم کسی جادوئی عمل سے نہیں آسکتی۔ اس کے لیے حکومت کو وقت دینا ہوگا۔ عوام کو کئی کڑوے گھونٹ پینے ہوں گے۔ تب کہیں جا کر حکومت کی پالیسوں کے ثمرات عوام تک منتقل ہونا شروع ہوں لیکن یہ حقیقت بھی اظہر من شمس ہے کہ عمران خان کو آئندہ چند ماہ میں عوام اور خاص کر حکومت کے اتحادیوں کو وعدوں کے مطابق اعتماد میں لینا ہوگا۔ وزیر اعظم کو خود صورت حال سے آگاہی حاصل کرکے جنگی بنیادوں پر مسائل اور ان کا حل عوام کے سامنے رکھنا ہوں گے۔ لوگوں کو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سرکاری سکولوں میں بہتر معیار تعلیم اور مہنگے سکولوں میں بھیجے جانے والے بچوں کے لیے ایک تعلیمی نظام چاہئے ، تعلیم یافتہ بچوں کے لیے نوکریاں اور کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے بڑے پیمانے پر اجرا کے زریعے ریلیف چاہیئے۔ صحت کی سہولیات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ عوام کو اعتماد میں لے کر ٹھوس اور جامع منصوبہ بندی پر عمل درآمد کروانا ہوگا۔ بلدیاتی نظام میں اصلاحات سے تحریک انصاف کے وہ کارکنان جو پہلے دن سے تحریک انصاف کا ساتھ دے رہے ہیں انھیں ٹکٹ جاری کر کے پارٹی تو مضبوط ہو جائے گی اور کسی حد تک ان کی محرومی کا تدارک بھی ہوجائے گا لیکن واضح پالیسیوں اور نچلی سطح پر پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے انتخابات کی راہ ہموار کرکے ہی آنے والے دور میں پڑھے لکھے اور با شعور سیاستدانوں کی امید کی جاسکتی ہے بصورت دیگر یہ ملک کم پڑھے لکھے وڈیروں یا پھرگلیوں کے راجوں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہے گا۔ احتساب کے وعدے پورے کرنے میں دیر لگے گی مگر احتساب کے شکنجے سے کوئی نہ بچ سکے اس کے لیے حکمت عملی عوام کے سامنے پیش کرنا ہوگی۔ معیشت کے نامناسد حالات سے عوام کو روشناس کروا کر اس کی بحالی کے لیے موجودہ حکومت کے پاس کیا حکمت عملی ہے اس سے عوام کو آگاہ کرنا ہوگا۔ پولیس رفامز کے لیے بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔ عوامی مسائل کے بعد آجائیں آئی ایم ایف کا قرضہ اتارنے سے لیکر امریکہ کے دباو تک اور مسئلہ کشمیرسے لیکر سی پیک کے منصوبوں تک ان تمام امور پر بھی حکومتی اقدامات پر پڑھے لکھے صاحب الرائے تجزیہ کار نظر جما کر بیٹھے ہیں کہ تبدیلی آخر کس کروٹ بیٹھتی ہے۔
حکومت کے لیے چیلنجز بے شک بہت بڑے ہیں لیکن کچھ بھی ناممکن نہیں اور نہ ہی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا دنیا میں پہلی بار پاکستان میں ہونے جا رہا ہے۔ دنیا میں مثالیں موجود ہیں البتہ پاکستان کی تاریخ ایسے انقلاب سے عاری ہے۔ نیک نیتی اور قابلیت سے پاکستان میں بہتری آسکتی ہے لیکن اس وقت بہتری لانے سے بھی پہلے بہتر پالیسیاں عوام کے سامنے رکھنا لازمی ہے تاکہ حکومت کو مایوس اور فاقہ زدہ قوم کا ساتھ میسر رہے۔ اگر عمران خان حکومت کی پالیسیاں واضح کرنے اور عوام کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہا تو بد اعتمادی کی ایک فضا قائم ہوجائے گی۔ جس سے ایک بار پھر واضح کردیں حکومت کو تو خیر فلفور کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوگا البتہ تحریک انصاف اور عمران خان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہیں!


ای پیپر