دنیا دیکھ رہی ہے
24 ستمبر 2018 2018-09-24

وہ آسٹریلیا کا رہنے والااور دنیا کی سیر کیلئے نکلا ہوا تھا دنیابھر میں اس کے شاگرد موجود تھے وہ تحقیق کا پر وفیسر ولیم ہے جس نے یہاں کھڑے ریلوے اسٹیشن اور اس کے نظام کے متعلق لمبی بات سنی تھی مگر اس کے جواب میں بہت چھوٹی بات کہہ کے خاموش ہو گیا تھا۔ یہ اسٹیشن بڑے آباد تھے، ٹرین چلتی تھی، لوگ سفر کرتے تھے۔ سستا اور محفوظ سفر ریاست کی ذمہ داری ہوتا ہے ۔ دنیا بھر میں یہ ایسے ہی ہے مگر یہاں ریل اور اس کے نظام کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ کسی اور نے نہیں بلکہ ہم نے خود کیا ہے ۔ کہیں اسی ریلوے اسٹیشن سے بائیس ٹرینیں گزرتی تھیں مگر آج صرف دو ٹرینیں ہیں اور ان کا بھی جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ پروفیسر کا بھی کہنا تھا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ، دنیا کے بڑے ممالک جنہیں آپ بھاگ بھاگ کے اپنا کہتے ہیں کبھی بھی آپ کے اس نظام کو ٹھیک کرنے کیلئے کچھ نہیں کریں گے۔ کیونکہ ان کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس سے عام شہری کو فائدہ پہنچتا تھا۔ اسے ریاست نے ہی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ وہ تو کاریں بیچیں گے، بڑی بڑی بسیں بیچیں گے، لینڈ کروز ر اور پراڈو بیچیں گے۔ جس میں پیٹرول جلے گا۔ جس کا سارے کا سارا فائدہ انہیں کو ہوگا، ہمیں یا ہماری عوام کو قطعی نہیں۔
ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہماری عوام کو جب بھی موقع ملا انہوں نے بڑے اچھے نتائج دئیے ہیں۔ کبھی دریائے رسی اس علاقے کو سیراب کرتا جو جموں کی پہاڑیوں سے آتا تھا اس دریاکے آثار آج بھی ڈھابان سنگھ اور خانقاہ ڈوگراں ان کے نواحی گاؤں میاں علی کے پاس ملتے ہیں۔ یہ علاقہ راجہ کامروپ کی راج دھانی تھی ۔ کہتے ہیں کہ جموں کے راجہ کے کامروپ کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ جموں کے راجہ نے اپنے راجکمار کو سیروتفریح اور شکار کیلئے یہاں بھیجا جو کامروپ کا مہمان ٹھہرا۔ کامروپ کی بھی بیٹی چند ربدن بڑی ذہین فطین اور حسین و جمیل تھی۔ جموں کا راجکمار چندربدن کی تیز نظر کا شکالر ہو گیا۔ جب شکار اور سیروتفریح سے فارغ ہو گر وہ واپس گیا تو اس نے اپنے باپ سے چندربدن کا زکر کیا۔ چنانچہ جموں کے راجہ نے کامروپ سے چندربدن کا رشتہ مانگا، تو کامروپ نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔ جموں کے راجہ نے اس انکار کواپنی توہین جانا اور دریائے رسی کا پانی بند کر دیا، جو کہ یہاں کے علاقے کو سیراب کرتا تھا۔ پانی بند ہونے سے زمینیں ویران ہو گئیں۔ لوگ نقل مکانی کرگئے۔ یہ کئی صدیاں پہلے کی بات ہے ۔ ہندؤوں کی مذہبی کتب میں بھی اس علاقے کا ذکر ملتا ہے ۔ اب کے یہاں ریل اورنہروں ک نظام انگریز کے دور میں شروع ہوا تھا۔ دریائے چناب سے نکلنے والی نہریں اس علاقے کو سیراب کرتی ہیں۔ دریائے چناب جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس میں پانی محبت کرنے والوں کو خون بہتا ہے ۔ محنت اور محبت سے زمین کے سینے سے رزق تلاش کرنے والے آج بھی اس حالت میں ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ ہم ستر سال بعد بھی یہ طے کرنے سے قاصر ہیں کہ ہم کیا کرنے آیءں ہیں اور آئندہ کیا کریں گے۔ ہم نے اپنے لوگوں کو اعتماد نہیں دیا۔جبکہ جسے اسے شہر کے لوگ کئی طرح باتیں کرتے ہیں ۔مگر وہ جو بات کرتا ہے وہ سیدھی سیدھی ریاست کے معاملات کو ٹھیک کرنے کی ہے وہ شو کیس میں پیسے رکھ کے شہر کے مین بازار میں بیٹھا ہے ۔ساتھ والی دوکان حقے ٹھیک کرنے کی ہے وہ سارا سارا دن دیکھتا رہتا ہے کہ ایک حقہ گاؤں سے پانچ پانچ چھ چھ لوگ تھیک کر وانے آ تے ہے سارا دن دوکان پے بیٹھے شام حقہ ٹھیک کر وایا اور گھروں کو چل دئیے۔اس سے ریاست کبھی ترقی نہیں کر سکتی ۔ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی پہلے ہی گھروں میں بیٹھی ہے ۔اور باقی کی آدھی آبادی کیلئے کوئی ڈھنگ کا پروگرام نہیں ہے کو پالیسی نہیں ہے ایسے ترقی نہیں ہوتی بلکے ترقی کا در وازا بند ہو جاتا ہے بھیک مانگنا تبعی بند ہو سکتاہے جب ہم محنت اور دنیات کو اپنا شیوہ بنائیں گے۔معاشرو ں نے محنت اور دیانت سے ایسے ایسے پائیدار محل تعمیر کئے ہیں جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ سائن اور ٹیکنالوجی کے شعبے پہ خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی مزید بڑھتی جائے گی کیونکہ زیادہ تعداد نوجوان طبقے کی ہے ، آئندہ چھ ماہ شادیوں کی تعداد اگلے سال افراد شماری کے اعداد و شمار کو ماضی کا قصہ بنادیں گے۔ چھوٹے چھوٹے کام شروع کرنے ہونگے، بڑے بڑے دعوے نہیں۔ چھوٹے چھوٹے پودے لگانے ہونگے ، بڑے بڑے درخت نہیں۔ چھوٹے چھوٹے دریاؤں کی دیکھ بھال کرنا ہو ی، بڑے بڑے سمندروں کی نہیں۔ چھوٹے چھوٹے تحقیق اور جستجو کے در کھولنا ہونگے، ماضی کی قصیدہ گوئی نہیں۔ چھوٹے
چھوٹے راستے ٹحیک کرنا ہونگے، بڑے بڑے موٹر وے نہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بڑا کرنا ہوگا ناکارہ قسم کے بڑوں کو نہیں۔ چھوٹے چھوٹے نصاب طے کرنا ہوں گے، بڑی بڑی نفرتیں نہیں۔ ماضی کو دیکھتے ہوئے آج یہ طے کرنا ہو گا کہ ہمیں کدھر جانا ہے اور کیسے جانا ہے ۔ دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے مگر ہم دنیا کی طرف نہیں دیکھ سکتے ہیں، ہمیں دنیا کی طرف سیکھنے سے پہلے نہایت باریک بینی سے اپنے اندر دیکھنا ہو، جانچنا ہو گا، پرکھنا ہوگا۔ یہ سب کرلیں تو پھر کام شروع کرنا ہو گا، جب کام کریں گے تو پھر صرف کام کریں گے۔ دنیا دیکھ رہی ہے پھر ایک دن آئے گا جب دنیا دیکھ رہی ہو گی اور ایک آواز آرہی ہو گی کہ مملکت خداد پاکستان ایک تبدیل ہوتا ہوا ملک ہے ، ترقی کرتا ہوا ملک ہے ۔ یہ تبھی ہو گا جب ٹھنڈے دل و دماغ سے بیٹھ کے طے کریں گے، نہیں تو جتنی مرضی تبدیلی کی باتیں وہ صرف باتیں ہی ہوں گی نظر کچھ نہیں آئے گا۔اور یہ پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے ۔


ای پیپر