Source : Yahoo

طالبان نے پاکستان اور مسلم ممالک کو الٹی میٹم دیدیا
24 ستمبر 2018 (19:07) 2018-09-24

کابل : افغانستان کے طالبان نے پاکستانی علماءسے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان  پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی علماءکانفرنسز میں شرکت نہ کریں , مذکو رہ کانفرنسوں میں طالبان کے خلاف فتوی جاری کر کے جہاد کی شرعی حیثیت کو اسلامی نکتہ نگاہ سے چیلنج کیا جائےگا تاکہ کانفرنسوں کے ذریعے افغانستان میں جاری جہاد کو کمزور کر سکے , اگر امریکا اس مذموم مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے پاکستان ، بھارت، وسطی ایشیا اور عرب مسلمانوں کے مصائب و مشکلات میں اضافہ ہوگا اور امت مسلمہ کے زوال کا ایک اور سلسلہ شروع ہوگا .

دشمن آپ کی شرکت محض سے بھی فائدہ اٹھائےگا , ایسے اجتماعات میں علمائے کرام جتنی بھی حق بات کر لیں , دشمن اسے کوئی اہمیت نہیں دےگا۔افغان طالبا ن نے پاکستانی علمائے کرام و مشائخ عظام ایک خط لکھا ہے ”این این آئی “ کو موصول ہونے والے خط میں کہاگیا کہ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے امید ہے آپ صحت و عافیت کے ساتھ ہوں گے ,ہم امارت اسلامیہ افغانستان کے منسوبین و متعلقین اور تمام افغان عوام کی نمائندگی کے ساتھ نیک تمنائیں اور اسلامی اخوت کی محبتیں آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ خط میںکہاگیا کہ آپ جانتے ہیں افغانستان گزشتہ سترہ سال سے امریکا کی جارحیت کا شکار ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ افغانستان اس کی ایک مقبوضہ ریاست بن جائے وہ یہاں عسکری مراکز اور انٹیلی جنس اڈے قائم کرے تاکہ’افغانسان‘ کی اسٹریٹجک حیثیت استعمال کر کے عالم اسلام کو کمزور اور ختم کرنے کی سازشیں کر سکے۔

خط میں کہاگیا کہ اگر امریکا اس مذموم مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے پاکستان ، بھارت، وسطی ایشیا اور عرب مسلمانوں کے مصائب و مشکلات میں اضافہ ہوگا اور امت مسلمہ کے زوال کا ایک اور سلسلہ شروع ہوگا۔ خط میں کہاگیا کہ ماضی قریب کے عظیم مفکرعلامہ اقبال نی افغانستان کو ایشیا کا’دل‘ قرار دیا ہے اگر خدانخواستہ امریکا ایشیا کا دل اجاڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس طرح ایشیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خط میں کہاگیا کہ تاریخ کے اس خطرناک موڑ پر نجات کا راستہ یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی جارحیت کے خلاف امارت اسلامیہ افغانستان کی جہادی صف کو مضبوط کیا جائے اسے جانی، مالی اور اخلاقی تعاون پہنچایا جائے۔

خط میں کہاگیا کہ الحمد اللہ ! امارت اسلامیہ کے جنگجوﺅں نے 17 سال تک جارح قوتوں کے خلاف استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں امریکا افغانستان میں کامیاب ہونے کےلئے اپنی تمام تر عسکری طاقت آزما چکا ہے وہ اپنے تمام خطرناک ہتھیار استعمال کر چکا ہے جبکہ کامیابی کا اب بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کےلئے اپنی نئی حکمتِ عملی سامنے لائی۔ ایک حصے کے طورپر افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل نیکولسن نے 18 مارچ 2018ءکو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ”امریکا اس سال طالبان (امارت اسلامیہ) پر مختلف طریقوں سے دباو¿ بڑھانا چاہتاہے۔ عسکری، سیاسی، حتی کہ مذہبی دباو¿ بھی ڈالیں گے تاکہ وہ جنگ سے دست بردار ہو جائیں۔ مذہبی دباو سے مطلب یہ ہے کہ افغانستان، پاکستان اور کچھ دیگر ممالک کے مسلم علماءکی کانفرنسز منعقد کی جائیں گی۔ ان کانفرنسوں میں طالبان کے خلاف فتوی جاری کر کے ان کے جہاد کی شرعی حیثیت کو اسلامی نکتہ نگاہ سے چیلنج کیا جائےگا۔

بیان میں کہاگیا کہ اب جب کہ ان کانفرنسوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ عنقریب،اندونیشیا، کابل اور سعودیہ کی بعد اورجھنکومیں بھی ایسے اجتماعات منعقد کیے جائیں گے ہم علمائے کرام اور مشائخِ عظام سے یہ درخواست اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس جیسی کانفرنسوں میں شرکتِ محض سے بھی احترازکیا جائے کیوں کہ سمجھنے کی پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ اس کانفرنس کا موضوع اور عنوان دینی ہے اسے مسلم علماءکی مجلس قرار دیا جاتا ہے، مگر اس کا ہدف اور مقصد غلط ہے۔ اس کا اصل محرِّک اسلام کا شدید مخالف امریکا ہے ¾وہ چاہتا ہے ان کانفرنسوں کے ذریعے افغانستان میں جاری جہاد کو کمزور کر سکے۔ خط میں کہاگیا کہ دوسری بات یہ ہے کہ علمائے کرام اس طرح کی کانفرنسوں میں جس نیت سے بھی شریک ہوں جس مجبوری کی وجہ سے بھی شرکت کریں، دشمن بہرحال آپ کی وہاں شرکتِ محض سے بھی فائدہ اٹھائےگا .

ایسے اجتماعات میں علمائے کرام جتنی بھی حق بات کر لیں  دشمن اسے کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ طالبان کے خط میں کہاگیا کہ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اس طرح کی کانفرنسوں میں شرکت علماءکی معاشرتی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔جس سے علمائے طلباء عام مسلمان اور مجاہدین کے درمیان بداعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے  ہمارے جن قابل قدر علمائے عظام نے ساری زندگی مدرسہ و مسجد کے استغناءمیں گزار دی ہے جو کہ للہ فی اللہ امتِ مسلمہ کے شان دار مستقبل کےلئے ایک عظیم دینی خدمت ہےہماری نظر میں علمائے کرام کی عزت و توقیر اسی میں ہے کہ ایسی مجالس سے گریز کیا جائے تاکہ اسلام دشمن قوتیں انہیں اپنے شیطانی اہداف کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ اللہ رب العزت ہم اور آپ سب کو دشمن کی دسیسہ کاریوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔یاد رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے رواں ماہ دورہ افغانستان کے دور ان افغان حکام سے ملاقاتوں میں اتفاق کیا گیا تھا کہ کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اسٹیرنگ کمیٹی قائم کی جائے جس کے ذریعے دوطرفہ رابطوں کو بڑھایا جاسکے ۔


ای پیپر