بلاول اور مریم کا صحافی علی عمران سید کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار
کیپشن:   file photo
24 اکتوبر 2020 (13:26) 2020-10-24

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صحافی علی عمران سید کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیا ہے۔

مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لوگوں کو حق اور سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ اب عمران خان کو این آر او کی ضرورت ہے۔ کراچی واقعہ کی انکوائری کی ضرورت نہیں، سارے واقعہ کی لائیو رپورٹنگ ہوئی ، سب کو علم ہے۔

ادھر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا صحافی علی عمران سید کی گمشدگی پر اظہار تشویش، بلاول بھٹو زرداری نے صحافی علی عمران سید کی گمشدگی کو آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دے دیا۔ بلاول بھٹو نے کہا آوازوں کو کچلنے کے عمل کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے، صحافیوں کی گمشدگی جیسے واقعات سے دنیا بھر میں پاکستان کا منفی تاثر پیدا ہوتا ہے، عمران خان کی حکومت میں میڈیا جبر کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ امید کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ علی عمران جلد اپنی فیملی اور دوستوں سے ملیں۔ معاون خصوصی شہباز گل نے ٹویٹ کیا کہ اگر جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید اغوا ہوئے ہیں تو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے، اور اگر یہ بات آئی جی کے اغوا کی طرح جھوٹ ہے تو وہ بھی عوام کو بتائیں۔

واضح رہے کہ جیو نیوز کے سینئر رپورٹر علی عمران سید کا کئی گھنٹے بعد بھی پتا نہ چل سکا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے علی عمران کی گمشدگی کا نوٹس لے لیا، آئی جی سندھ سے تفتیش سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے پیش رفت رپورٹ دینے کی ہدایت کر دی۔

علی عمران سید کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ علی عمران گزشتہ روز شام 7 سے 8 کے درمیان گھر سے نکلے تھے، کافی دیر کے بعد واپس نہیں آئے تو تلاش شروع کر دی، علی عمران موبائل فون بھی گھر چھوڑ گئے تھے، گاڑی بھی گھر کے باہر کھڑی ہے۔


ای پیپر