حقیقی عشقِ رسولؐ!
24 اکتوبر 2020 (11:53) 2020-10-24

رسولِ رحمتؐ کی زندگی کا ہر لمحہ بندہئ مومن کے لیے دستورِ حیات ہے۔ سچا عشق یہی ہے کہ آپؐ کے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کر دیا جائے، اگر ایسا نہ ہو تو ایمان کا دعویٰ محض دھوکا ہے۔ سیرت طیبہ میں معاہدہئ حدیبیہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ معاہدے کی شرائط بظاہر کفار کے حق میں اور اہلِ اسلام کے خلاف نظر آتی تھیں۔ عمرہ کیے بغیر واپس چلے جانا صحابہ کو ناگوار گزر رہا تھا۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ ابوجندلؓ جو مکہ میں قبولِ اسلام کی پاداش میں زنجیروں میں جکڑے گئے تھے، کسی نہ کسی طرح گرتے پڑتے حدیبیہ آپہنچے اور آپؐ کے قدموں میں گرگئے۔ اس وقت تک آپؐ معاہدہ کرچکے تھے جس کے مطابق مکہ سے مدینہ آنے والوں کو واپس بھیجنے کی شرط طے پاگئی تھی۔ ابوجندلؓ کو جب واپس کیا جا رہا تھا تو صحابہ کے دلوں پر آرے چل رہے تھے مگر سوچیے کہ دشمنوں کی تکلیف پر بھی بے چین ہو جانے والے رحمۃ للعالمینؐ کے دل کی کیا کیفیت ہوگی۔ اس کے باوجود آپؐ نے معاہدے کی پاسداری کی اور اپنے جاں نثار ابوجندلؓکو شفقت و پیار کے ساتھ واپس بھیج دیا۔ اطاعت و وفا شعاری کا کمال دیکھیے کہ ظلم رسیدہ صحابی کوئی حرفِ شکایت زبان پر لائے بغیر خود کو کفار کے حوالے کر دیتے ہیں۔

بظاہر یہ نظر آرہا تھا کہ مسلمانوں نے دب کر معاہدے کی شرائط مان لی ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے اسے فتح مبین قرار دیا تو واقعی یہ فتح مبین ثابت ہوئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ قریش نے آنحضورؐ کے ساتھ معاہدہ کرکے آپؐ کی حیثیت اور اسلامی ریاست کے وجود کو عملاً تسلیم کرلیا۔ قریش سے جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تو اسلامی ریاست کو جزیرہ نمائے عرب میں اپنے سب سے بڑے دشمن کی طرف سے امن میسر آگیااور مدینہ میں دشمن کے حملوں سے عام آبادی کو بھی امن و اطمینان نصیب ہوا۔ پھر نبی اکرمؐ نے گردونواح کے ملوک و شاہان اور ان کے ذریعے ان کی اقوام کو اسلام کی دعوت کے لیے خطوط لکھے۔ آپؐ پوری بشریت کی طرف ہادی بنا کر مبعوث کیے گئے تھے۔ اس عرصہ میں آپؐ نے اپنا عالمگیر فریضہئ ابلاغ بطریق احسن ادا کیا۔ کئی بادشاہوں نے آپؐ کی دعوت و شخصیت کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے تو اسلام قبول کر کے آپؐ کو اپنی مکمل وفاداری کا یقین دلا دیا۔

اس تاریخی معاہدے کے نتیجے میں قریش نے مسلمانوں کو نا صرف ایک سیاسی قوت مان لیا بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی ان کے وجود کو ان معنوں میں تسلیم کرلیا کہ اگلے سال مسلمان اجتماعی طور پر خانہ کعبہ کا طواف اور مناسک عمرہ ادا کریں گے۔ تین دن اُن کا مکے میں قیام رہے گااور قریش اپنے گھر بار چھوڑ کر پہاڑوں پر چلے جائیں گے۔ اس معاہدے نے یہ بات پورے عرب میں تمام لوگوں کے دلوں میں ثبت کردی کہ اگر مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بزور قوت نکالا گیا تھا تو قریش کو بھی اس معاہدے کی بدولت اپنے گھروں سے نکلتے ہی بنی۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مکہ بھی فتح ہو گیا۔

کئی قبائل جو ابھی تک حالات کے انتظار میں گومگو میں تھے، اب سنجیدگی سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصے میں ان علاقوں پر فتوحات بھی حاصل کیں، جن کے نتیجے میں اسلامی ریاست اور اس کے شہری طویل عرصے کی معاشی تنگی اور فقرو فاقہ سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ فتح کے یہ اثرات تو بالکل ظاہر تھے اور سب لوگوں کو نظر آرہے تھے لیکن اس 

کے علاوہ بھی قدم قدم پر اللہ نے یہ ثابت کیا کہ کفار کی قوت زوال پذیر ہوتی چلی گئی اور مسلمان سیاسی و عسکری پیش قدمی کے ساتھ نظریاتی و فکری میدان میں بھی مسلسل آگے بڑھتے چلے گئے۔ 

حضرت ابو جندلؓ اور ان کی طرح دیگر مسلمان نوجوانوں کی مدینہ آمد پر پابندی کو قریش اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہے تھے لیکن یہی چیز ان کے لیے وبالِ جان بن گئی۔ ابو جندلؓ کو ان کے ساتھیوں نے بندی خانے سے نکال لیا اور یہ لوگ ایک پہاڑ پر مقیم ہوگئے۔ اسی طرح سے ابوبصیرؓ اور ان کے ساتھیوں نے بھی مکہ کے باہر ڈیرے ڈال لیے۔ یہ مدینہ کے شہری نہیں تھے اس لیے ان کے کسی عمل کی ذمہ داری بھی نبی اکرمؐ یاریاست مدینہ پر عائد نہیں ہوتی تھی۔ ان مسلمان نوجوانوں کا وجود قریش کے تجارتی قافلوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن گیا۔ چنانچہ قریش نے آنحضورؐ سے درخواست کرکے اس شرط کو ختم کرایا اور یہ مسلمان باعزت اور آزادانہ مدینہ جانے میں کامیاب ہوگئے۔ اب سب کو معلوم ہوا کہ یہ شرط عملاً اہلِ ایمان کے حق میں اور کفار کے خلاف تھی۔ سب سے اہم بات اس وقت لوگوں کی سمجھ میں آئی جب مکہ سے مسلمان خواتین کسی نہ کسی طرح ہجرت کرکے مدینہ آپہنچیں۔

جب حضرت اُمِّ کلثومؓ بنت عقبہ بن ابی معیط ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں تو مکہ سے ان کے بھائی صلح حدیبیہ کے معاہدے کو بنیاد بنا کر انہیں واپس لینے کے لیے آگئے۔ سورۃ الممتحنہ اس عرصے میں نازل ہوچکی تھی اور اس میں ہجرت کرکے مدینہ آنے والی خواتین کو کافروں کے حوالے کرنے سے منع کر دیا گیا تھا۔ ارشادِ ربانی ہے: ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار اُن کے لیے حلال۔ یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔“ (سورۃ الممتحنہ۶۰:۱۰) 

اگر مسلمان انہیں یہ کہتے کہ ہمیں اللہ نے ان خواتین کو واپس کرنے سے روک دیا ہے تو کافروں کے لیے یہ دلیل کوئی حقیقت نہیں رکھتی تھی۔ اللہ رب العالمین نے سورۃ الفتح میں حدیبیہ کو فتحِ مبین قرار دیا تھا اور حقیقت یہ ہے کہ قدم قدم پر اس سے فتوحات برآمد ہوتی چلی گئیں۔ آپؐ نے حضرت ام کلثومؓ کے برادران سے فرمایا کہ جس معاہدے کا تم حوالہ دے رہے ہو، اس میں مردوں کا ذکر تو ہے، تمہارے سفیر نے عورتوں کا ذکر نہیں کیا تھا۔ جب معاہدے کے الفاظ دیکھے گئے تو اس میں مرد تو مذکور تھے، عورتیں نہیں۔ آپؐ نے معاہدے کے الفاظ دہراتے ہوئے فرمایا: شرط مردوں کے بارے میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارے میں۔ پس سردارانِ قریش ناکام ہوئے اور فتح مبین یہاں بھی ظاہر ہوئی۔ 

حدیبیہ کا صلح نامہ طے ہونے کے بعد جب لکھا جارہا تھا تو اس وقت بھی بڑا دلچسپ بحث مباحثہ ہوا اور بڑی ردوکد ہوتی رہی۔ زبانی طور پر شرائط طے ہوجانے کے بعد جب معاہدہ تحریری شکل میں کاغذ پر منتقل کرنے کا مرحلہ آیا تو سب سے پہلے سوال یہ پیدا ہوا کہ کون لکھے۔ یہ کوئی اہم بات نہیں تھی البتہ سہیل بن عمرو نے کہا کہ اس معاہدے کو علی بن ابی طالب لکھے یا عثمان بن عفان۔ یہ دونوں صحابہ لکھنے پڑھنے میں مہارت رکھتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو معاہدہ لکھنے کا حکم دیا۔ انہوں نے معاہدے کے آغاز میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھا تو سہیل بن عمرو نے رحمان کے لفظ پر اعتراض کیا۔ قریش کے لوگ اللہ کے صفاتی نام رحمان کو جانتے تھے نہ مانتے تھے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ ربانی ہے: ”ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمان کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اُسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟ یہ دعوت ان کی نفرت میں اُلٹا اور اضافہ کردیتی ہے۔“(الفرقان۲۵:۶۰) 

مسلمانوں کو سہیل بن عمرو کے اس اعتراض پر بڑا تعجب بھی ہوا اور غصہ بھی آیا مگر آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل سے پوچھا کہ کیا لکھا جائے تو اس نے کہا: بِسْمِکَ اللّٰھُمَّ (اے اللہ تیرے نام سے ہم آغاز کررہے ہیں) لکھیں۔ چنانچہ آپؐ کے حکم سے یہی الفاظ لکھے گئے۔ اسی طرح جب یہ لکھا گیا کہ یہ معاہدہ محمد رسول اللہ اور قریش کے درمیان طے پایا ہے تو سہیل بن عمرو نے اعتراض کیا کہ ہم تو ان کو رسول اللہ نہیں مانتے۔ اصولی طور پر اس کی بات درست تھی کیونکہ اگر وہ آپؐ کو رسول اللہ مان لیتے تو جھگڑا کاہے کو ہوتا۔ حضرت علیؓ کے لیے بڑا مشکل تھا کہ وہ اپنے قلم سے رسول اللہ کے الفاظ کاٹ دیں۔ آنحضورؐ نے خود قلم پکڑ کر ان الفاظ پر پھیر دیا اور فرمایا کہ لکھو یہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبد اللہ اور قریش کے درمیان طے پایا ہے۔

اللہ رب العالمین نے اس پورے واقعہ اور معاہدہ کا تذکرہ کرنے کے بعد خود اپنی گواہی اور شہادت کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ مْحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا۔ سورۃ الفتح میں اللہ نے آپؐ کے جاں نثار صحابہ کی بھی تعریف و تائید کی ہے۔ صحابہ کرامؓ واقعی سیرت رسولؐ کا عکس تھے۔ ہمارے لیے بھی وہی روشنی کے مینار ہیں۔ آج ہم فتح مبین کے متمنی تو ہیں مگر نہ وہ ایمان و ایقان ہے، نہ وہ اخلاص و اطاعت جو صحابہ کی پہچان تھی۔ پھر تمنا کیسے پوری ہو؟ اللہ ہمیں صحابہ کرامؓکی روشن زندگیوں کو اپنانے کی توفیق بخشے۔

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے


ای پیپر