مجھے عشق ہے تو نبیؐ سے ہے!
24 اکتوبر 2020 (11:47) 2020-10-24

ربیع الاول کا مبارک مہینہ شروع ہوگیا ہے جس میں محبوب خدا، امام الانبیا اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی۔ کبھی میں سوچتی ہوں کہ نبی ِمحترم کی شان ہم کیا بیان کریں گے جن پر خود اللہ تعالیٰ اور ان کے فرشتے درود وسلام بھیجتے ہیں۔

 سورہ احزاب کی آیت نمبر چھپن میں ارشاد ہوتا ہے۔بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔اس آیت سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوجو شرف بخشا وہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو بخشے گئے شرف سے کہیں زیادہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ساتھ سجدے میں شریک ہونا ممکن ہی نہیں جبکہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرود بھیجنے کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق خبر دی ہے اور پھر فرشتوں کے متعلق خبر دی ہے، پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو شرف حاصل ہو وہ اس شرف سے بڑھ کر ہے جو صرف فرشتوں سے حاصل ہو اور حضرت محمد کو بخشے جانے والے شرف میں اللہ تعالیٰ خود شریک ہیں۔ 

حسن یوسف دم عیسٰی ید بیضا داری 

آنچ خوباں ہمہ دارد تو تنہا داری 

آپؐ کو جو قدر و منزلت اللہ نے دی ہے اس کا اندازہ بھی ہم نہیں لگا سکتے۔ معراج کی رات آپؐ کو ساتوں آسمانوں کی سیر کرائی گئی آپؐ کو تمام انبیا کی امامت کا شرف حاصل ہوا جس کے بعد آپؐ سدرہ المنتہیٰ سے آگے تشریف لے گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی جانے کی اجازت نہیں۔ 

یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟ 

کہ رسول پاکؐ اللہ کو اس قدر محبوب ہیں کہ زندگی میں ہی ان کو اپنے پاس بلا کرملاقات کرلی۔ یہ چیزنا صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبے کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ان کی امت کے لیے بھی باعث افتخار ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اور بے شک آپﷺ عظیم الشان 

خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)“۔(القلم، 68: 4)

خود ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمینﷺ نے اخلاقی اقدار کی تکمیل کو ہی وجہِ بعثت قرار دیتے ہوئے فرمایا،”میں تو اعلیٰ اخلاقی اقدار کو ہی مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں“۔

اب ذرا دیکھیں کہ ہمارے نبیؐ اپنی امت سے کس قدر محبت کرتے تھے ان کے لیے فکر مند رہتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے خود ان کو تسلی دی کہ عنقریب ہم آپؐ کو اتنا دیں گے کہ آپؐ خوش ہو جائیں گے اور ان کی رضا ہر امتی کو جنت میں داخل کرانا ہوگی۔

یہ تھی ہمارے نبیؐ کی اپنی امت سے محبت! 

آپؐ  کی پوری زندگی سادگی، اخلاق، ہمدردی، مساوات،  اخلاص  کا  پیکر  تھی! 

آپؐ تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔بیواؤں اور یتیموں کے لیے خصوصی شفقت فرماتے تھے۔ چودہ سو سال پہلے جو اصول دئیے وہ لازوال ہیں۔ ہم آج بھی سائنس، معیشت، طب، علم، نفسیات کے کسی بھی پہلو کو دیکھیں تو سیرت کی روشنی ہمارے سامنے موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے خطبہ حج میں فرما یا۔ کہ کسی کالے کو گورے،گورے کو کالے پر فضیلت حاصل نہیں اور آج یورپ نے بلیک لائف میٹرز کا سلوگن اٹھا رکھا ہے۔ 

آپؐ نے چودہ سو سال پہلے حکم دیا کہ جہاں وبا ہو وہاں سے مت نکلو اور اگر وبا کے علاقے سے باہر ہو تو وہاں مت داخل ہو۔ آج کرونا میں عالمی طاقتیں جب دن رات تحقیق کے بعد لاک ڈاؤن، سمارٹ لاک ڈاؤن جیسی اصطلاحات استعمال کر رہی ہیں جبکہ ہمارا دین اتنا مکمل اور جدید ہے کہ ہر مسئلے کا حل قرآن، نبیؐ کی سیرت اور احادیث کی شکل میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ 

آپ پیارے نبیؐ کی کوئی حدیث اٹھا کر دیکھ لیں، حکمتوں کا خزانہ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپؐ مجھے کوئی وصیت کیجئے، آپؐ نے فرمایا: غصہ مت کرو، اس نے کئی باریہی سوال دہرایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی جواب دیتے رہے: غصہ مت کرو۔(بخاری)

اب اگر اس پر غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ صرف ایک اسی بات پر عمل کرنے سے ہم کتنے بڑے نقصانات اور نفس،زبان اور ہاتھ کی لغزشوں سے بچ سکتے ہیں اور جس نے اپنے نفس پر قابو پالیا وہ لازمی طور پر گناہ سے بچے گا اور جنت کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔

سبحان اللہ کیا حکمت ہے میرے نبیؐ کی سنت میں 

آئیے اب ذرا ایک جائزہ ہوجائے کہ ہم نبی پاکؐ سے کتنی محبت کرتے ہیں اور کیا واقعی ہم ان کی محبت کا حق ادا کر رہے ہیں؟ 

کیا حضورﷺسے محبت کا بس یہی تقاضا ہے کہ ربیع الاول میں میلاد کرا لیا جائے، نعتیں پڑھ لی جائیں اور اس کے بعد پورا سال رشوت، کرپشن، جھوٹ، بغض اور منافقت کا بازار گرم کیا جائے۔میں نے اپنے ارد گرد سچے عاشق رسول ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی مگر دکھ ہوا جب دیکھا۔ نعت خواں اپنی عقیدت کو پبلسٹی کا ذریعہ بنا رہے ہیں ارے بھئی کہاں کی عقیدت! آپ تو محبت کا سودا کر رہے ہیں! 

علما کو دیکھا تووہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ 

سیاستدانوں کو دیکھا تو وہ ایک دوسرے کی عورتو ں پر کیچڑ اچھال رہے ہیں، سود، زنا، شراب،بے حیائی، ناانصافی کا بازار گرم ہے۔ 

پیارے نبیؐ کی سیرت اور حکمتوں سے استفادہ غیر مسلم کر رہے ہیں اور ہم آج تک اس بحث میں الجھے ہیں کہ  میلاد کرانا بدعت ہے یا جائز؟ نبی اکرم بشر تھے یا نور؟ کس قدر بد قسمت ہیں ہم، یاد رکھیں حوض کوثر سے آپؐ  کے مبارک ہاتھوں سے جام وہی پئیں گے اور وہی شفاعت کے حقدار ہوں گے جنہوں نے دنیا میں ان کی محبت کا حق ادا کیا ان کی سنتوں کو زندہ رکھا،دین میں خرافات پیدا نہیں کیں۔ ان کے موئے مبارک یا نعلین سے عقیدت اپنی جگہ لیکن اگر ان کے اخلاق اور اطوار کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یقین مانیں ان کی شفاعت یقینی ہے اور حق بھی ادا ہوجائے گا۔


ای پیپر