مریم نواز، پنجاب کی باہمت بیٹی
24 اکتوبر 2020 (11:42) 2020-10-24

مریم نواز نے ٹویٹ کیا ہے کہ ہم اپنی نالائقی کو ”سیاسی انجینئرنگ“ کے پیچھے چھپانا چاہتے ہیں۔ بزدلی ہمیشہ حماقت کی طرح دکھائی دیتی ہے جبکہ خوش قسمتی بہادری کے ساتھ ہوتی ہے۔ وہ نڈر سیاسی رہنما ثابت ہو رہی ہیں جنہوں نے پاکستان میں طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کیا ہے۔ چونکہ ان کے والد نواز شریف کو 2017 میں ”ایماندار نہ ہونے“ کے الزام میں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا لہٰذا وہ اپنے والد کی جنگ لڑتے ہوئے آگے آئیں۔ اپنی استقامت اور جرأت مندانہ موقف کی وجہ سے اب انہیں اپنے والد کی سیاسی وارث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بلاشبہ، مریم پاکستان کی ایک ابھرتی ہوئی رہنما ہیں اور ان کی مقبولیت ہر گزرتے دن کے ساتھ زور پکڑتی جا رہی ہے، انہیں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے بعد پاکستان کی دوسری طاقتور ترین خاتون رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اپنے والد نواز شریف اور چچا شہباز شریف، جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں، کی غیر موجودگی میں، مریم اس ماہ شروع کی جانے والی حکومت مخالف مہم بہترین انداز سے چلا رہی ہیں۔ رواں ماہ کے اوائل میں گوجرانوالہ میں مریم نے سخت سیاسی پیغام دیا کہ وہ بزدل نہیں اور انہیں اپنے والد، چچا اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں کی غیر موجودگی میں خوف زدہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ مقدمات جن کا ان کے خاندان کو سامنا ہے وہ سیاسی انتقام کا حصہ ہیں۔ مریم، جو 28 اکتوبر کو 47 سال کی ہوں گی، ایک سمجھدار سیاستدان کے طور پر ابھری ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے اشتراک سے پاکستان میں احتجاجی سیاست کا آغاز کر دیا ہے۔ جس کا مطمع نظر پاکستان تحریک انصاف حکومت کا خاتمہ ہے۔

مریم، جو حیرت انگیز سیاسی مبصر ہیں، 2013 میں والد کی انتخابی مہم کی انچارج بنیں تو وہ سیاسی دلدل میں کود گئیں، انہوں نے نوازشریف کو تیسری بار وزیر اعظم پاکستان بننے میں مدد فراہم کی۔ اس وقت تک، وہ زیادہ تر گھریلو مصروفیات ہی رکھتی تھیں، انہوں نے 1992 میں 19 سال کی عمر میں پاک فوج میں سابق کپتان صفدر اعوان سے شادی کی تھی۔ ان کے تین بچے ہیں۔ ان کی بیٹی کے ایک بیٹی کو جنم دینے کے بعد وہ 2018 میں نانی بن گئیں۔ مریم کی ایک خوبی جو مسلم لیگ (ن) کے بیشتر رہنماؤں کو پسند نہیں وہ ان کی جرأت اظہار ہے، وہ رات کے اندھیرے میں ملاقاتیں پسند نہیں کرتیں اور بیک چینلز تلاش کرنے کے بجائے مسائل کا سامنا کرنے میں یقین رکھتی ہیں۔ مریم کی مقبولیت اس وقت عروج پر پہنچی جب انہوں نے والد کے ساتھ مل کر سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو چیلنج کیا۔ گوجرانوالہ میں حکومت مخالف ریلی کے دوران نوازشریف کی ویڈیو تقریر نے پاکستان میں پاور کوریڈورز کو ہلا کر رکھ دیا جب انہوں نے واضح طور پر اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگایا کہ اس نے نہیں ملک بدر کرنے اور خان کو وزیر اعظم بنانے کی راہ ہموار کی۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق نوازشریف کی تقریر نے سیاسی مفاہمت کے دروازے بند کر دیئے ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ مریم نے نا صرف عمران خان کو پکارا بلکہ اس نے ایوانہائے اقتدار کے دیگر اہم کھلاڑیوں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کی حالیہ پریس کانفرنس میں شاید سب سے ایماندارانہ بیان ان کا یہ اعتراف تھا کہ غیر جمہوری قوتوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں، ججوں، سیاستدانوں سب پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اصولوں پر سمجھوتا کریں۔ کراچی میں حزب اختلاف کے دوسرے جلسے میں مریم کی تقریر نے ثابت کیا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ وہ احتجاجی ریلی کے فوراً بعد ہوٹل کے کمرے سے کراچی پولیس کے ذریعہ اپنے شوہر صفدر کو گرفتار کر کے دھمکی دینے کی کوشش کے باوجود پُرعزم دکھائی دیتی ہیں۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا مرحلہ وار احتجاج اور ریلیاں جو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ پر اختتام پذیر ہو گا، مسلم لیگ(ن) کے سیاسی عزم اور اعصاب کا بھی امتحان لے گا۔ مریم کو مزاحمتی تحریک کی قیادت کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ سخت تقریریں کرنا اور سیاسی جلسوں میں ہجوم اکٹھا کرنا اور ہے لیکن احتجاجی تحریک کا کامیابی کے ساتھ چلانا دوسری بات ہے۔ مریم اب تک متاثر کن رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی اور غربت کیخلاف شدید عوامی ردعمل حکومت مخالف جلسوں میں مسلم لیگ(ن) کے لئے ایک بڑا سہارا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی خاتون رہنما پنجاب سے سیاسی مزاحمت کی تحریک چلا رہی ہے۔ مریم اپنے سیاسی ارتقا کے امتحان کے طور پر مسلم لیگ ن کی قیادت کر رہی ہیں۔ وہ ایک کرشماتی رہنما، باشعور سپیکر اور حقیقی طور پر مجمع لگانے والی شخصیت ہیں لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا وہ ایسے مشکل حالات میں پارٹی کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور نوجوان نسل کے ووٹ بینک کی نمائندگی کرتی ہیں۔ پاکستان میں ان کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بی بی سی اور نیو یارک ٹائمز دونوں نے ان کا نام 2017 میں دنیا کی 100 طاقتور ترین خواتین میں شامل کیا تھا۔ اگرچہ مریم نے کبھی الیکشن نہیں لڑا لیکن بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر پارٹی میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں۔ ان مشکل ایام میں ان کا پارٹی کو سنبھالنا اور حکومت پر دباؤ بڑھانا ناصرف ان کا بلکہ ان کی پارٹی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

(بشکریہ: گلف نیوز۔23-10-2020)


ای پیپر