نوازشریف کا رویہ اور 21 توپیں
24 اکتوبر 2020 (11:32) 2020-10-24

پاکستان کی فوج پر زیادہ تر تنقید ہندوستان کرتاہے اور نوازشریف صاحب نے وہ کام کیا ہے جو ہندوستان کے سرکاری حلقے پاکستان کی فوج کے خلاف کرتے ہیں گزشتہ تہتر سال میں کسی بھی سیاستدان نے فوج کے خلاف ایسی زبان استعمال نہیں کی جیسی کہ نوازشریف نے کی ایسی گستاخی تو مودی بھی نہ کرسکا ہے نوازشریف نے براہ راست جنرل باجوہ پر الزام عائد کیے، جو زہرپاک فوج کے خلاف میاں نوازشریف نے اگلا ہے، ہندوستان کا میڈیا پاکستان کی حکومت اوراس کی فوج کے خلاف ایسے پروگرام کرتا ہے نوازشریف کی متنازع تقریر کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے بیانیے کو آگے چلانا شروع کر دیا ہے یعنی نوازشریف صاحب اس وقت ہندوستان کے ترجمان بنے ہوئے ہیں اور ان کا نقطہ نظر نا صرف خود پیش کر رہے ہیں بلکہ مسلم لیگ ن کو بھی اس بات پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اس منفی بیانیے کو آگے لیکر بڑھیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کے مخالف بیانیے کی حمایت نہیں کرتے اور وہ لیگی رہنما گرفتاریوں کے خوف سے بھی ایسا کر سکتے ہیں کہ وہ ملکی مفاد کے خلاف ہونے والے پروگراموں سے خود کو دوررکھیں کیونکہ پاک فوج مخالف تقریر سے مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادی پی ڈی ایم کے لوگ بھی شدید پریشانی میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ پارٹی کو کسی ایک فرد پر قربان نہیں کیا جا سکتا یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ میاں نوازشریف کی اس حرکت کے بعد مسلم لیگ ن اب دو حصوں میں تقسیم ہو سکتی ہے، جبکہ نوازشریف کی کوشش یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے فوج اور حکومت کو آپس میں لڑا دیا جائے وہ شاید حکومت اور فوج کے درمیان ملکی ترقی میں جڑی ہم آہنگی کو ختم کرنا چاہتے مگر ان کے بیان کا اثر ملک میں نہ تو حکومت پر پڑا ہے اور نہ ہی قوم نے اس بیانیے کو قبول کیا ہے بلکہ ہم نے دیکھا کہ نوازشریف کی اس متنازع تقریر کے بعد بھارت میں بہت خوشیاں منائی گئی جو بھارت کا میڈیا آج تک دکھا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا فوج کے خلاف بیانیہ ملکی مفاد کی 

نفی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ میاں نوازشریف نے خود کو احتساب سے بچانے کے لیے اب ہر حد کو عبور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے یعنی وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میری بات مانو ورنہ میں سب کو خراب کر دوں گا، یعنی ان کا خیال ہے کہ فوج کے خلاف گفتگو کرنے سے انہیں بھارت اور امریکا کی حمایت مل جائے گی اور پھر اس کے بعد پاکستان کی موجودہ حکومت مجبور ہو جائیگی کہ ان کے خلاف مقدمات ختم کئے جائیں اور ظاہر ہے کہ نوازشریف کی یہ کوشش اپنے لوٹے ہوئے اس  پیسے کو بچانے کے لیے ہے جو انہوں نے ملک سے باہر اکٹھا کیا ہوا ہے، اسی طرح نوازشریف کا خیال ہے کہ وہ ڈرا دھمکا کر نا صرف خود کو بچا لینگے بلکہ اس سے وہ اقتدار کو حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائینگے اسی لیے انہوں نے تمام اصولوں اور حدوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے ملک دشمن رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔2016 میں ڈان لیکس کا معاملہ اسی قسم کی ایک کوشش تھا جو بعد میں پوری مسلم لیگ ن کے گلے کی ہڈی بن گیا تھا اور بہت کوششوں کے بعد یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھا تھا جبکہ پاک فوج نے بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کو رفع دفع کر دیا تھا مگر آج ایک بار پھر نوازشریف بغیر کسی وجہ کے فوج کے ساتھ ٹکرانے کو تیار ہیں، دراصل وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ اس آڑ میں پاکستان کی قوم اور ریاست سے ٹکرا رہے ہیں، مگر ہر بار ایسا نہیں ہوتا اس بار تو پوری قوم کے ساتھ ساتھ نوازشریف کے اس بیانیے سے فوج میں بھی شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے، گزشتہ حکومت میں جب پرویز مشرف صاحب نے ان کی حکومت کو ہٹایا تو اس وقت بھی یہ فوج کے خلاف ہی سازشیں کر رہے تھے یعنی یوں کہا جائے کہ فوج نے ہمیشہ ملکی مفاد میں نوازحکومتوں میں ان کا ساتھ دیا مگر نوازشریف نے ہمیشہ افواج پاکستان کو دھوکا  ہی دیا ہے، آج نوازشریف کا ایک حامی گروپ جو ان کے ہر پاکستان مخالف بیانیے کو درست مانتاہے انہوں نے اپنے کراچی جلسے کے روز مزار قائد کی بے حرمتی کی اور مزار قائد پر پہنچ کر وہ کام کیا جسے کرنے کی آج تک کسی نے جرأت نہیں کی، یعنی مزار قائد پر قائد اعظم کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر سیاسی نعرے بازی جنگلے توڑ کر مزار میں گھس کر ہنگامہ آرائی کرنا یہ سب کچھ پاکستان کی قوم کے لیے بھی نیا تھا کیونکہ یہ نظارہ بھی ملکی تاریخ میں کسی نے نہ دیکھا تھا مزار قائد جو ہمارا یک قومی ورثہ اور اور قومی شناخت کا حصہ ہے اس کی بے حرمتی کی گئی جس کا باقاعدہ ایک قانون ہے جسے توڑنا جر م ہے وہ جرم سرعام کیا گیا، جو ایک خود غرضانہ سیاسی مقصد تھا جو کہ مسلم لیگ ن کی مریم نواز ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڑ صفدراور دیگر رہنماؤں کی سیاسی بلوغت کی جانب اشارہ کرتا ہے جنہوں نے مل کر مزار قائد پر ایسی صورتحال پیدا کی جس سے بانی پاکستان کی روح کو بھی شرمندہ ہونا پڑا ہو گا، کیپٹن صفدر صاحب جو خود بھی پاک فوج کا حصہ رہے ہیں وہ اس قسم کے شخص کا ساتھ دینے کے ساتھ مزار قائد پر ایسی سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرینگے اس پر بھی سخت حیرانگی ہوتی ہے کہ وہ پاک فوج کے کپتان رہے ہیں وہ اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ یہاں کھڑے ہو کر دعا مانگی جاتی ہے یا پھر سیاسی نعرے بازی کی جاتی ہے ایسا لگتا ہے کہ کیپٹن صفدر کا بھی مائنڈ سیٹ اس وقت چینج ہو چکا ہے، جو کبھی اپنے قائدکی محبت میں سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑتے ہیں تو کبھی مقدس مقامات پر غیر ضروری حرکتیں کر ڈالتے ہیں، یعنی ووٹ کو عزت دلوانے کے نعرے لگوا کر قائداعظم کی عزت کو تار تار کرنا ان لوگوں نے ضروری سمجھا، اب سوچنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے تمام کارکنوں کو اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ وہ ملک پاکستان کی فوج اور ریاست کے ساتھ ہیں یا بھارت کے بیانیے کو آگے لیکر بڑھنے والے ترجمانوں کے ساتھ ہیں، اس پی ڈی ایم میں جہاں چور ڈاکو سیاستدان اپنی اپنی جماعتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں وہاں دین کے کچھ جعلی ٹھیکیدار بھی اس گروہ میں شامل ہیں جو بھارت کی زبان میں اپنے جلسے جلوسوں میں تقریریں کر رہے ہیں، پہلے ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان ایف اے ٹی ایف کو لیکر ایک سرد جنگ جاری ہے پاکستان گرے لسٹ میں بھی ان ہی لوگوں کی کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے ہے جبکہ اس پر نوازشریف کی یہ تقریر عالمی سطح پر پاکستان کی کس قدر بڑی بدنامی کی وجہ بن رہی ہے یہ بھی سب جان چکے ہیں یعنی ہمارا ازلی دشمن اس تقریر کو کہاں کہاں استعمال کر سکتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے، اب کوئی بتائے کہ ایسے اپوزیشن کے اتحاد کو اکیس توپوں کی سلامی دی جائے یا پھر ان توپوں کے سامنے کھڑا کیا جائے۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔


ای پیپر