لیگل نوٹس!
24 اکتوبر 2020 2020-10-24

بُری شہرت کے رسیا ایک ریٹائرڈ پولیس افسر نے اگلے روز میرے کالموں پر اپنے معزز وکلاءکے ذریعے مجھے لیگل نوٹس بھیجا ہے، اُن کی طرف سے بھجوائے جانے والے لیگل نوٹس کا جواب میرے وکلاءتیار کررہے ہیں، اِس ضمن میں، میں نے اُن وکلاءکی خدمات حاصل کی ہیں، جو مجھ سے زیادہ اُنہیں جانتے ہیں، میرے معزز وکلاءاُن کے لیگل نوٹس کا کیا جواب تیاکررہے ہیں؟ یہ مجھے ابھی معلوم نہیں، میں حیران اِس بات پر ہوں میرے جِن دوکالموں کا اپنے لیگل نوٹس میں اُنہوں نے حوالہ دیا اُن میں کہیں میں نے اُن کا نام نہیں لکھا، اگر اُنہوں نے اپنے طورپر یہ محسوس کرلیا ہے یہ دونوں کالم اُن کے بارے میں ہیں اس کا مطلب ہے جو واقعات میں نے لکھے وہ اُنہیں اپنے بارے میں خود ہی ایک حقیقت تصورکررہے ہیں، اُن کے لیگل نوٹس کا جواب تیار کرنے والے اپنے وکلاءسے میری گزارش ہے لیگل نوٹس کا تفصیلی جواب دینے سے پہلے جوابی نوٹس میں ایک سوال اُن سے ضرور کرلیں”حضور آپ کو کیسے معلوم ہوا جس فضول ترین ریٹائرپولیس افسر کا ہمارے کلائنٹ نے اپنے کالموں میں بغیر کسی کا نام لیے ذکر کیا وہ آپ ہی ہیں؟“، مجھے اِس پر بھارتی شاعر راحت اندوری یاد آگئے، ایک بار اُنہوں نے ایک نظم لکھی جس میں سرکار کو اُنہوں نے چور قرار دیا، اُنہیں گرفتار کرلیا گیا، پولیس افسر جب اُن کی تفتیش کررہے تھے تو اُنہوں نے فرمایا ”بھئی ہم نے تو ” سرکار“ کو چور کہا ہے، ہم نے ہندوستانی سرکار کو چور تھوڑی کہا ہے“ ....پولیس افسر نے جواب دیا ”آپ نے بے شک نہیں کہا پر ہمیں تو معلوم ہے ناں“ .... میں نے بھی اپنے کالموں میں ریٹائرڈ پولیس افسر کا نام نہیں لکھا، اُنہیں خود معلوم ہوگیا ہے، یا اُن کا دل گواہی دے رہا ہے کہ جن خامیوں کا میں نے ذکر کیا وہ اُن میں ہی ہیں، اُن کے علاوہ اور کسی میں نہیں ہوسکتیںتو اِس صورت میں، میں کیا کرسکتا ہوں؟ بطور پولیس افسر خود سے معافیاں منگوانے کی اُنہیں عادت پڑی ہوئی ہے، بے چارے جب سے بطور آئی جی موٹروے ریٹائرڈ ہوئے ہیں کسی نے اُن سے معافی ہی نہیں مانگی، سو اُن کی تڑپ بالکل جائز ہے، اگر اُنہوں نے مجھے لیگل نوٹس صرف خود سے معافی منگوانے کی کمی پوری کرنے کے لیے دیا ہے تو میں یہ کمی پوری کرنے کے لیے تیار ہوںیا کسی ایسے شخص سے معافی مانگ لینا ہی بہتر ہوتا ہے، اور اگر اُنہوں نے یہ سمجھ کر مجھے لیگل نوٹس دیا کہ میں اس سے خوفزدہ ہو جاﺅں گا اور گندے افسروں کو ایکسپوز کرنے کی اپنی روایت سے ہٹ جاﺅں گا یہ اُن کا بالکل اُسی طرح کا ”وہم“ ہے جس طرح کا اُنہیں ”یقین “ تھا کہ اپنی بے پناہ سیاسی کوششوں کے نتیجے میں وہ اِک نہ اِک دن آئی جی پنجاب ضرور بن جائیں گے، پھر مرتے دم تک آئی جی پنجاب ہی رہیں گے، .... اُن کا بس چلتا اپنے پسندیدہ شریف حکمرانوں سے ایک بِل پارلیمنٹ میں یہ پاس کروالیتے ”چاروں صوبوں بلکہ بشمول گلگت بلتستان ایک ہی آئی جی ہوگا اور وہ وہی ہوں گے اور تاحیات ہوں گے“ .... اس کے بعد واہیات اور تاحیات میں کوئی فرق ہی نہ رہتا، .... ہونا تو یہ چاہیے تھا میں اُن کی ”خوبیاں“ کسی کالم میں لکھتا وہ اُس پر مجھے لیگل نوٹس بھجواتے کہ آپ نے میرے بارے میں جھوٹ کیوں لکھا؟ جیسا کہ اُسی جیسے ایک شخص سے کسی نے کہا تھا ”یار لوہاری گیٹ جاﺅ وہاں تمہارے بارے میں کوئی شخص جھوٹی باتیں کررہا ہے“ ....وہ شخص بولا ” میں پہلے لوہاری گیٹ کے بجائے بھاٹی گیٹ جاﺅں گا کیونکہ وہاں میرے بارے میں کوئی سچی باتیں کررہا ہے “.... ریٹائرڈ پولیس افسر کی مرضی ہم ایسے”چھوٹے اور جھوٹے لوگوں“ کے منہ لگنا اُنہوں نے پسند کیا، لیگل نوٹس بھجوا کر ہمارے مقابلے پر وہ اُتر آئے، ویسے یہ اچھا ہی ہوا ہمارے دل سے کبھی کبھی دبی دبی سی یہ جو آواز اُٹھتی تھی وہ ایک اعلیٰ ظرف انسان ہیں وہ اب شاید کبھی نہ اُٹھے، البتہ اُن کے اِس لیگل نوٹس نے ایک راز مجھ پر ضرور کھول دیا اُن کے مقابلے میں کچھ سابق اور کچھ اعلیٰ پولیس افسران مشتاق سکھیرا ، حاجی حبیب الرحمان، خان بیگ، ڈاکٹر شعیب دستگیر بی اے ناصر خصوصاً ڈی آئی جی آپریشن پنجاب سہیل اختر سکھیرا کے کچھ رویوں پر میں نے سخت تنقید کی، کسی ایک نے بھی اِس پر کسی قسم کا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، وہ اِسے میری ”بکواس“ سمجھ کر ہمیشہ نظرانداز کرتے رہے، اُن کے اِس رویے سے میں اکثر اِس احساس میں مبتلا ہو جایا کرتا تھا ”میری تحریریں کوئی پڑھتا ہی نہیں ہے“ .... مذکورہ بالا اِن اعلیٰ افسران کے اس رویے سے کبھی کبھی میں بڑا بددل ہوجایا کرتا تھا کہ ”میں اتنا اِن کے خلاف لکھتا ہوں یہ کوئی لفٹ ہی نہیں کرواتے، اب ایک ریٹائرڈ پولیس افسر نے لیگل نوٹس بھجوا کر میرا جی خوش کردیا ہے، میں اِس یقین میں مبتلا ہوگیا ہوں میرے کالم، میری تحریر کی ایک ”ورتھ“ ہے، بلکہ اِس یقین میں بھی مبتلا ہوگیا ہوں مذکورہ بالا تمام افسران، اِس انتہائی چھوٹے دل کے ریٹائر پولیس افسر کے مقابلے میں انتہائی اعلیٰ ظرف ہیں، اصل میں جس طرح کے سیاسی حکمرانوں نے دوران سروس اِس ریٹائرپولیس افسر کی تربیت کی اُس کے مطابق اُن کا یہ عمل بالکل درست ہے، اپنے خلاف لکھا گیا ایک لفظ تک یہ ریٹائرآئی جی موٹروے برداشت نہیں کرتے البتہ یہ خواہش ہروقت اُن کے دل میں پلتی رہتی ہے نہ صرف پاکستانی یونیورسٹیوں بلکہ فارن یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی اُن کی شخصیت پر پی ایچ ڈی کے تھیسس لکھیں،.... خودپسندی میں وہ اتنے خود کفیل ہیں کوئی اور پسند کرے نہ کرے خود کو بخود ہی پسند وہ کرتے رہتے ہیں، اس کا ایک ثبوت یہ ہے مجھے جو لیگل نوٹس اُنہوں نے اپنے معزز وکلاءکے ذریعے بھجوایا اُس میں اُنہوں نے اتنا میرے خلاف نہیں لکھا جتنا اپنے حق میں لکھا۔ اُنہوں نے تو اپنی کتاب کا نام بھی ”دوٹوک باتیں“ رکھا تھا، بندہ پوچھے یہ موقع آپ اپنے قارئین کو کیوں نہیں دیتے وہ آپ کی باتوں کو ”دوٹوک باتیں“ قرار دیں؟ آپ خودہی اپنی باتوں کو ”دوٹوک باتیں“ قراردے کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟، لیگل نوٹس میں کچھ قوانین کا اُنہوں نے حوالہ دیا جس کے تحت وہ میرے خلاف عدالتی کارروائی کرنا چاہتے ہیں، اُنہیں شاید معلوم نہیں ایک قانون اظہار رائے کی آزادی کا بھی ہے، اِسی قانون کا سہارا لے کر وہ مختلف چینلز پر بیٹھ کر لوگوں کے نام لے لے کر اُن پر کیچڑاُچھالنے کی ناکام کوشش کررہے ہوتے ہیں، تازہ ترین کوشش آئی جی پنجاب انعام غنی پر کیچڑاُچھال کر اُنہوں نے کی۔ انعام غنی نے بھی ایک لیگل نوٹس اُنہیں بھجوایا ہے، اُمید ہے مجھے اپنی جانب سے دیئے جانے والے لیگل نوٹس کے جواب کا انتظار کرنے سے پہلے وہ آئی جی پنجاب انعام غنی کے لیگل نوٹس کا جواب بھجواچکے ہوں گے، ہوسکے تو اس جواب کی ایک کاپی مجھے بھی بھجوا دیں تاکہ اس کی روشنی میں، میں بھی اپنا جواب تیار کرسکوں، .... ایک سیاسی پولیس افسر گوجرانوالہ میں بطور آرپی او تعینات ہوا، وہ جہاں بھی تعینات ہوتا اپنے ماتحتوں خصوصاً اپنے ایس ایچ اوز کو مسجدوں میں لیجا لیجا کر قرآن پاک اُٹھواتا کہ وہ کرپشن نہیں کریں گے، یہ عمل وہ شاید اِس لیے کرتا اُسے اپنی ”کمانڈ“ پر یقین نہیں تھا، اِس عمل کا اختتام تب جاکر ہوا جب ایک ایس ایچ او نے موقع پر قرآن پاک اُٹھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ”سرجی پہلے تُسی چُکو“.... میں اُس آرپی او کا نام نہیں لکھ رہا، وہ جب مجھے لیگل نوٹس بھجوائے گا اپنا نام خود لکھ لے گا!!


ای پیپر