”جواب کون دے گا؟“ 
24 اکتوبر 2020 2020-10-24

 معززقارئین، اللہ سبحان وتعالیٰ نے عادل حاکم کے انصاف وعدل کو جو بلاامتیاز امیر وغریب ہو، نہایت پسند فرمایا ہے، اور قرآن پاک میں ہرشخص کے لیے یہ حکم ہے، کہ وہ روزمرہ زندگی میں بھی عدل وانصاف سے کام لے، اور یہ بھی کہا گیا ہے، کہ ذاتی زندگی میں بھی اسی اصول کو مدنظر رکھاجائے، اور رشتہ داری میں ذاتی پسند اور ناپسند کو انصاف کرتے وقت حائل نہ کیا جائے، حتیٰ کہ اس میں اگر انسان کا جانی اور ذاتی دشمن، مخالف قبیلہ یا قوم بھی سامنے آئے، تو انسان کو حق کا ساتھ دینا چاہیے، خواہ وہ اس کا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ فارمولااور اقوال تمام رشتہ ہائے زندگی پر محیط ہے، بلکہ حاوی ہونا ضروری ہے، اور خاص طورپر کالم نگاری، تبصرہ آرائی، تنقید نگاری پر منطبق اور صادق آنا اس لیے بمطابق اخلاق ہیں کہ فطرتی اور قدرتی طورپر بعض اوقات کوئی حاکم، یا کوئی بھی فرد پسند ہوتا ہے، مگر تقاضاصحافت وسچائی یہ ہے کہ وہ بوقت تحریر بالکل غیرجانبدار ہو جیسے کہ عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ منصف اور مصنف بوقت کار تابعدار اصول اسلاف بن جائیں۔ مثلاً ایک جج وقت انصاف چاہتے ہوئے بھی فریق مخالف کے خلاف فیصلہ بوجہ حقائق مجبور محض ہوتا ہے، چونکہ ہرشخص کا براہ راست مخاطب اور براہ راست واسطہ حاکم وقت سے ہوتا ہے ، لہٰذا زیادہ تر للکار بھی نباض جمہور بن کر حکومت وقت کے بارے میں بمطابق ضمیر وظرف لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں ،میں سمجھتا ہوں کہ مخالفت برائے مخالفت کا نظریہ یا اپنی پسند یا ناپسند کی حکومت کی جابے جا تعریف وتنقید ومخالفت سے مبرا ہوکر تحریر لکھنا ہی میرے نزدیک اور قارئین کے مزاج کے لحاظ سے زیادہ تسکین کا باعث بنتی ہے۔ حاکم وحکمران وقت کے ہراچھے اقدام کی تعریف اور کسی بھی خامی کی نشاندہی کرنا ہی اصل میں اصول صحافت ہے، چونکہ زیادہ تر کالم ہمیشہ تنقیدی نقطہ نظر سے لکھے جاتے ہیں لہٰذا ہرایک کو اس میں اصلاح کا پہلو ڈھونڈنا چاہیے، بقول مفکر اسلام اقبالؒ

گرہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہر

وائے صورت گری، وشاعری وفائے وسرود

شاید اسی لیے ہماری تاریخ گواہ ہے، کہ رسول پاک کی ریاست مدینہ کے مبارک دورسے دورمشرف، اور دورتبدیلی کے وقت بھی کلمہ حق لکھنے اور بولنے والوں کی کمی کبھی نہیں رہی ہمارے ہادی وبرحق نے کبھی مصلحت پسندی کو حق وسچ پر ترجیح نہیں دی، بلکہ ان کا فرمان عالی شان ہے کہ مسلمان ، چور ہوسکتا ہے مسلمان بزدل ہوسکتا ہے، مگر وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ 

آپ نے ہمیشہ ، خوشامد ، چاپلوسی کو ناپسند فرمایا، حتیٰ کہ انہوں نے حکم دیا، کہ ان کی تعظیم واحترام کے لحاظ سے نشست سے اٹھنا بھی نہیں چاہیے، اب مقام غوروفکر ہے کہ یہ بقول رسول عربی کے یہ مخالف مذاہب کا شیوہ ہے، کیا کبھی ہم نے اس پر عمل کیا ہے؟ اگر آج کل کے دور میں ہم دیکھیں بلکہ میرے خیال میں حضور نے جتنی تنقید اور مخالفت کا سامنا خندہ پیشانی سے برداشت کیا میری دانست میں آج کل اس کا تصور ہی ناممکن ہے،حدتو یہ ہے کہ تعریف وتنقید تو ہم جیسے نامعروف لکھاریوں کو کبھی فون، کبھی لمبے لمبے خطوط جس میں یہاں تک لکھا ہوتا ہے، کہ آپ پہ ہماری جان قربان، کبھی خاتم النبین کی شان میں، مگر قادیانیوں کی طرف سے غلیظ زبان بھی زاد راہ سمجھ کر صدق دل سے قبول کرکے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا شکریہ اور حمدوثنا کی سعادت حاصل کرنی پڑتی ہے، جس کا جس قدر شکر ادا کیا جائے کم ہے، ہمارا ایمان ہے کہ رزق اور موت اٹل ہے، اور وقت مقررہ پر مل کر رہتی ہے، تو پھر اس سے ڈرنا کیسا؟ بہرحال دعائیں اور کبھی ہدایات پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین لکھی گئی ایک ایک سطر بلکہ ایک ایک حرف کا بھی نیب کی طرح احتساب کرتے ہیں، مگر ہمارا دل ہماری جیب کی طرح صاف ہے کیونکہ جب ذرائع آمدنی تبدیل شدہ پاکستان کے آتے ہی بند ہوگئے تو پھر حساب کس چیز کا ؟

قارئین احتساب کے ساتھ ساتھ ایک ایک سطر کا بھی اثر قبول کرتے ہیں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ اگر میری ساری زندگی کی نمازوں میں سے ایک نفل نماز بھی قبول ہوگئی ، تو میں سمجھوں گا، کہ میری عبادت اکارت نہیں گئی، اور میں خوش نصیب ہوں ۔

قارئین ہماری بھی لکھی گئی مثبت بات اگر کسی ہمارے بھائی کے دل پہ اثر کرگئی تو میں سمجھتا ہوں، کہ ہماری بھی محنت ضائع نہیں گئی، یہی قطرہ قطرہ ہی تو دریا بنتا ہے، مختصر یہ کہ دورموجودہ میں یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، کہ معاشرے میں رائج عادات، بدعات، رسومات، خرافات، حاکمیت وقت کا عکس ہوتا ہے کمی علم حاکم سے محکوم اور مرید سے مخدوم تک جب جھلکتی ہے تو ذہن فوراً اللہ تعالیٰ، اور محبوب خدا کی طرف مبذول ہوجاتا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام نے آکر حضورکامل واکمل سے فرمایا تھا کہ اقرا 

لہٰذا میں ملتمس ہوں کہ عوام کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ تربیت دینے کی بھی کوشش کو ترجیح اول دی جائے .... لیکن سمجھ نہیں آتی کہ، اس کا سرا کہاں سے شروع ہوگا، حاکم سے یا محکوم سے ؟ مگر میں اس کا جواب بھی کس سے مانگوں، حاکم سے یا مخدوم سے ؟


ای پیپر