” چار مرغیاں ایک مرغا“ تقسیم کا آغاز
24 اکتوبر 2019 2019-10-24

ایک روز بادشاہ ہارون الرشید نے خواب میں دیکھا کہ اس کے تمام دانت ٹوٹ گئے ہیں۔ صبح اٹھ کر وہ اس خواب کے بارے میں بہت فکر مند تھا۔ اس نے خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لیے شاہی نجومیوں کو بلایا اور خواب کا ماجرا کہہ سنایا: ایک نجومی نے کہا: ” بادشاہ سلامت! اللہ آپ کی عمر دراز کرے آپ کے رشتہ دار آپ کے سامنے مریں گے۔ “ ہارون یہ سن کر رنجیدہ ہوگیا اور نجومی کو کوڑے لگانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد دوسرے نجومی کو بلایا‘ اُس نے خواب سن کر کہا: ” اے امیر المومنین! اللہ آپ کی عمر میں برکت دے گا اور آپ کو تمام رشتہ داروں اور عزیزوں سے زیادہ طویل عمر ملی ہے۔“

بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اُس نے نجومی کو سو دینار انعام پیش کرنے کا حکم دیا۔ ایک مصاحب بول اٹھا کہ بات دونوں نجومیوں نے ایک ہی کہی ہے پھر یہ آپ کے ردِ عمل میں تضاد کیوں ہے؟“

اس پر ہارون بولا: ” پہلے نجومی نے سخت زبان استعمال کر کے مجھے رنج پہنچایا، دکھی کر دیا لیکن دوسرے نجومی کو سخت اور کڑوی بات کہنے کا ڈھنگ آتا تھا۔ اس کا اندازِ بیان تکلیف دہ نہیں تھا۔“ 

ہمارے وزیر اعظم بھی پہلے نجومی کی طرح ہیں۔ باتیں تو وہ بھی سچی کھری کرتے ہیں جو تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ مگر انہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ کون سی بات کب اور کیسے کہنی ہے؟ اپوزیشن کو اچھی طرح پتہ ہے کہ قومی خزانے کا کیا حال تھا کہ وہ خود حکومت میں رہ کر خزانے کو خالی کر کے گئے تھے اور دانستہ ایسا کر کے گئے تھے۔ انہیں علم تھا کہ آنے والی حکومت عمران خان کی ہے، سو وہ سب کچھ چٹ کر گئے۔ عمران خان ایک نااہل ٹیم کے ساتھ بڑے بڑے خواب دکھا کر میدان میں اُترے مگر خزانہ ”سائیں سائیں“ کر رہا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت کو جان کے لالے پڑ گئے۔ ابھی تک وہ معاشی طور پر سنبھل نہیں سکے ۔ جبکہ عوام سمجھتے تھے کہ عمران خان آتے ہی سب کچھ بدل کر رہ جائے گا۔ ادھر عمران خان کو حکومت کرنے کا براہِ راست کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ گھاگ اور چالاک پرانے سیاستدانوں کی چالوں کو اب تک نہیں سمجھ سکا ۔ تجربہ کار لوگ تو اس کے پاس تھے ہی نہیں۔ چند لوگ دوسری پارٹیوں کے روایتی سیاست کرنے والے ہیں جو انتخاب لڑتے ہی اس لیے ہیں کہ پیسہ کیسے بنایا جائے اور اقتدار کا مزا لیا جائے۔ سو اب تک عمران خان کو ناکام کرنے کی کوشش جاری ہے۔ وہ میرٹ میرٹ کی بات کرتا ہے جبکہ ہماری اخلاقیات کا بطور قوم پہلے ہی جنازہ نکل چکا ہے۔ اوپر سے نیچے تک عام سبزی بیچنے والا بھی کسی نہ کسی طرح کرپٹ ہے۔ پرانے گھسے پسے بیانیے سے کام چلانا بہت مشکل ہے۔ لہٰذا ہر جگہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں کا مذاق بن رہا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر میں عام شخص کی رسائی ناممکن ہے۔ عمران تک بات پہنچانے کے لیے تو اس کے کئی دیرینہ صحافیوں اور دوستوں کے لیے بھی دشوار ہے۔ اردگرد ایک ایسا خوشامدی ٹولہ ہے جو عمران تک حقیقی صورت حال پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ 

اگلے روز ایک خاتون وزیر اعظم کی نشست پر بیٹھی دکھائی دی۔ وہ کیسے پہنچی اس کی تحقیق جاری ہے۔ یہ بھی ایک بھونڈا مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ ایسی خواتین مختلف وزراءکے دفاتر تک نہ صرف رسائی رکھتی ہیں بلکہ سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا تک پھیلانے میں یدِ طولیٰ رکھتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ کیمرے کا کمال ہے، ایڈیٹنگ سے یہ سب کچھ کیا جاسکتا ہے مگر کیا ایسی خبروں کی بروقت کبھی تردید آئی ہے؟ خیر ایک بات اس حکومت کی اچھی لگی کہ اب وعدے کے مطابق غربا میں مرغیاں تقسیم ہونے لگی ہیں۔ عمران خان نے غریب لوگوں کے کاروبار کے لیے انہیں سرکاری سطح پر مرغیوں اور کٹوں کی تقسیم کا جو وعدہ کیا تھا اس پر صوبہ کے پی کے سے آغاز ہوا چاہتا ہے۔ ایک کلب میں چار مرغیاں اور ایک مرغا ڈبے میں بند کر کے خواتین میں تقسیم کیا جا رہا تھا۔ غالباً کے پی کے وزیر اعلیٰ یہ مرغیاں تقسیم کر رہے تھے۔ جلد ہی بھینس کے کٹے (کٹڑے) بھی تقسیم ہونے لگیں گے۔ ” کامیاب جوان “پروگرام تو اپنے نام سے کامیاب ہوچکا۔ سو اس پروگرام کی ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نوجوانوں کو قرضے دیئے جائیں گے۔ لیکن کیا یہ کوئی نئی سکیم ہے؟ نواز شریف نے بھی قوم کے نوجوانوں کو قرض پر لگایا۔ اور یہ قرض بھی اثر رسوخ والا ہی کوئی لے سکتا ہے۔ کوئی عام مزدور پیسہ ، نوجوان تو اس قرض کا شاید فارم بھی پُر نہ کر سکے۔ 

کیا قرض دے کر کسی قوم کے نوجوانوں کو کامیابی کا راستہ دکھایا جاسکتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے؟ لیکن غور کرنے والا کون ہے ؟ آپ تعلیم اور روز گار کے مواقع پیدا کریں۔ اور ایسی سکیموں کو انتہائی آسان بنائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ بغیر کسی سفارش کے ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ 

نجانے پنجاب میں بکریاں کب تقسیم کی جائیں گی کم از کم بزدار صاحب کے ہوتے یہ کام تو شروع کر دیا جائے تا کہ مزید بزدار پیدا کیے جاسکیں۔ جو کم از کم اس بچے کی طرح ذہین تو ہوں: ایک شخص نے ذہین بچے سے پوچھا: ڈاک خانہ کہاں ہے؟

بچے نے کہا ہمارے گھر کے سامنے۔

آدمی نے پوچھا تمہارا گھر کہاں ہے؟ بچے نے کہا ڈاک خانے کے سامنے، آخر آدمی نے تنگ آکر پوچھا کہ ” یہ دونوں جگہیں کہاں ہیں؟“

بچے نے کہا : ”آمنے سامنے “

” ہمارے بیشتر وزراءعوام کو اسی طرح کے جوابات دے رہے ہیں۔“


ای پیپر