ایک اور نام نہاد بھارتی سرجیکل سٹرائیک
24 اکتوبر 2019 2019-10-24

بھارت نے ہفتہ کی رات مظفر آباد کے مختلف مضافاتی علاقوں میں بھاری توپ خانے سے گولہ باری اور جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے شہری آبادی کو جارحیت کا نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں پانچ سویلین اور ایک فوجی جوان شہید ہوا، جسے بعد میں بھارت نے سرجیکل سٹرائیک کا نام دیا اور دعویٰ کیا کہ اس میں مظفر آباد میں قائم عسکری تربیتی کیمپوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ پاک فوج نے منہ توڑ جوابی کاروائی میں 9 بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیا اور دو بنکروں کو نقصان پہنچایا۔ بھارت نے ایک طرف تو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے ضم کر لیا ہے اور وہاں 80 روز سے کرفیو نافظ کیا ہوا ہے دوسری طرف وہ پاکستان سے بھی جنگی ماحول پیدا کئے ہوئے ہے۔ بھارت پر جنگی جنون سوار ہے، بھارت اپنے ہاں اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے اور اسی چیز کا اسے نشہ ہے جو اسے جارحیت پر مجبور کر رہا ہے۔ گزشتہ روز نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف پین راوت نے کہا ہے کہ بھارت کا دفاعی بجٹ 2024ء تک 35 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔ پاکستان کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا اگر کسی نے بھارت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بھارت 2014ء سے دنیا میں ہتھیار درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہتھیاروں کی درآمد کا 15 فیصد حصہ بھارتی درآمدات پر مبنی ہے۔ بھارتی اسلحہ کی درآمدات میں جنگی جہاز، بحری جہاز اور میزائل سرِ فہرست ہیں۔ بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں اس قدر اضافہ کر کے اپنے توسیع پسندانہ جنونی کھیل کو فروغ دینے کا عندیہ دیا ہے جو علاقے کے دیگر ممالک ہی نہیں بھارت کی اپنی سلامتی اور اس خطے میں آباد انسانوں، جانوروں اور چرند پرند تک کی زندگیوں پر خطرات کی مہیب چادر تان دے گا۔ اس کے دفاعی اخراجات اور ہر قسم کے جدید اور روایتی اسلحہ کے ڈھیر لگانے اور امریکی تعاون سے ملک کے اندر ہی اسلحہ ساز فیکٹریاں لگانے کی منصوبہ بندی سے پہلے ہی علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

کنٹرول لائن پر بڑھتی ہوئی کشیدگی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی صورت پیدا ہو سکتی ہے ۔ ان عالمی طاقتوں کو فکر مند ہونا چاہئے جو اسلام دشمنی اور معاشی مفادات کی بناء پربھارت کی ہاں میں ہاں ملا کر اس کی بد مستیوں میں اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔یقیناً یہ کرۂ ارض کی بقاء کا سوال ہے کیونکہ بھارتی جنونیت سے علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ بھارت طاقت کے نشے میں حواس باختہ ہو چکا ہے لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں کہ جو وہ حرکات کر رہا ہے اس کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی ان حرکات سے خطے میں ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس سے جنوبی ایشیاء کی صورتحال بگڑ جائے گی۔ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ عالمی طاقتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کیونکہ کنٹرول لائن پر بھارتی سیکورٹی فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے اور اگر جنگ کی کوئی چنگاری بھڑک اٹھی تو اس سے پیدا ہونے والے شعلے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ دو ایٹمی طاقتوں میں اگر جنگ کا آغاز ہو گیا تو یہ کسی صورت روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہے گی اور ایٹمی ہتھیار کس قدر تباہی پھیلا سکتے ہیں اس کی ایک جھلک دنیا دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں دیکھ چکے ہیں جب 6 اگست اور9اگست 1947ء کو امریکہ کی طرف سے گرائے گئے بموں سے 16ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زبردست تھر تھراہٹ اور زلزلے کا شدید جھٹکا پیدا ہوا، صرف ایک سیکنڈکے ہزارویں حصے میں شدید آگ کا ایک گولہ نمودار ہوا جس کا کا اندرونی درجہ حرارت 3لاکھ درجے فارن ہیٹ تھا، یہ بم 20ہزار ٹی این ٹی بارودی قوت کے برابر تھا جس سے 20کھرب کیلوریز حرارت خارج ہوئی۔ ایٹمی دھماکے کے بعد بلڈنگیں،درخت، چرند پرند، گاڑیاں ، مشینیں، ریلوے لائنیں سب جل کر راکھ ہو گئے۔ دھماکے کے بعد انتہائی تابکار شعاعیں کئی کلومیٹر کے قطر میں پھیل گئیں، ہر قسم کی خوراک اور پانی زہریلا ہو گیا، دریاؤں کا پانی اور پہاڑوں کی مٹی بخارات و دھواں بن کر اڑ گئے۔یہ تو پرانے وقت کے ایٹم بم تھے جب کہ آج پاکستان اور ہندوستان کے پاس امریکہ کی طرف سے پھینکے گئے بموں سے 100 گنا زیادہ طاقتور بم اور ایٹمی وارہیڈ کو لے جانے والے میزائل ہیں جو ایک بٹن دبانے پر دونوں ملکوں میں ایسی تباہی لے آئیں گے جس کے نتیجے میں 15 کروڑ افراد 15منٹوں میں لقمۂ اجل بن جائیں گے، اوزون لہر شدید متاثر ہو جائے گی اور اس نیو کلئیر جنگ میں بچ جانے والے باقی ماندہ افراد کی اکثریت کئی سالوں تک کینسر اور دوسری مہلک بیماریوں کا شکار ہو جائے گی۔ اس جنگ سے صرف برِ صغیر ہی متاثر نہیں ہو گا بلکہ پوری دنیا کو ایٹمی تابکاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس تباہی سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے کوششیں کی جانی چاہئیں، پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر بنیادی تنازعہ ہے جو ہنوذ حل طلب ہے جب تک حل نہیں ہوتا اس خطے میں امن پیدا نہیں ہو سکتا ہے ۔

ایشیا میں نئی دہلی کی بھارتی پالیسی در اصل ہندوستان ارتکازی پالیسی ہے حالانکہ ہندوستان نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ بھارت کے متعدد صوبوں کے اندر ایسے مراکز موجود ہیں جہاں علیحدگی پسندانہ عناصر پرورش پا رہے ہیں، جن کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ واحد بھارتی قوم کا کوئی وجود نہیں ہے نہ ہی کسی واحد قوم کا وجود بھارت کی قدیم تاریخ میں ملتا ہے ۔ یہ ایک بکھرا ہوا خطہ ہے جسے مسلمانوں اور ان کے بعد انگریزوں نے اپنی ضرورت کے تحت متحد کیا اور یہ انہی کے مرہونِ منت ہے کہ آج یہ خطہ ایک ملک انڈیا کی صورت میں نقشے پر موجود ہے۔ بھارتی حکمرانوں کے ذہن میں شروع سے ہی نہ صرف خطے کی بڑی طاقت بننے کا خبط سمایا ہوا ہے بلکہ وہ اس پورے خطے میں ایک ایٹمی سپر پاور بننے کا خواہاں ہیں جو چین، پاکستان اور علاقے کے چھوٹے ملکوں کے علاوہ خلیجی ممالک پر اپنی قوت کا پرچم لہرا سکے۔


ای پیپر