قومی ثقافتی ادارے کے سربراہ کی تلاش
24 اکتوبر 2019 2019-10-24

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) اپنی قسم کا واحد ادارہ ہے جو ملک بھر میں فنون لطیفہ کو فروغ دینے کے لیے 1973ء میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا تاکہ فن اور فنکاروں کے لیے فنون لطیفہ کو آگے بڑھانے کے لیے مناسب اور حوصلہ افزاء ماحول پیدا کیا جائے اور فنکاروں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ فنون لطیفہ میں کلچر، آرٹ، موسیقی، فلم اور تھیٹر شامل ہیں۔

ان دنوں اس قومی ثقافتی ادارے کے نئے سربراہ کی تلاش جاری ہے کیونکہ سیّدجمال شاہ اپنی مدت ملازمت (کنٹریکٹ) مکمل کرنے کے بعد رُخصت ہوچکے ہیں۔ اس ضمن میں گرم جوشی کا ذکر کرنا مناسب نہیں ہو گا کیونکہ ایسی کوئی گرم جوشی یا تیزی کہیں نظر نہیں آرہی۔

قیام کے بعد قومی ثقافتی ادارہ کو ابتدائی طور پر وزارت ثقافت کے ماتحت رکھا گیا۔ اس کے بعد اسے وزارت اطلاعات ونشریات کے حوالے کردیا گیا جس کے پاس نیشنل ہسٹری اینڈ لٹریری ہیرٹیج جیسے کئی اور ادارے بھی تھے۔ کچھ عرصہ قبل جب قومی تاریخ اور ادبی ورثہ کے اس ادارے کو وزارت اطلاعات سے الگ کر کے علیحدہ ڈویژن بنا دیا گیا تو PNCA کو اس کے ماتحت کردیا گیا۔ وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کے پاس ڈویژن کا اضافی چارج ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت اس بارے میں کوئی خاص ترجیح نہیں رکھتی ہے۔

اسی لیے قومی ثقافتی ادارے کے نئے سربراہ کے لیے کسی خاص گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے جیسا کہ اُوپر بھی ذکر کیا جاچکا ہے۔ پہلے تو PNCA کی ویب سائٹ پر اس بارے میں اعلان کیا گیا کہ قومی ثقافتی ادارے کے لیے نئے ڈائریکٹر جنرل کی خالی آسامی کے لیے موزوں اُمیدواروں سے درخواستیں مطلوب ہیں جس کے مطابق تقرر کنٹریکٹ پر دو سال کے لیے ہو گا۔ درخواست دہندگان کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر 63سال رکھی گئی اور منتخب اُمیدوار مدت ملازمت یا 65سال کی عمر تک پہنچنے پر ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

PNCA کی ویب سئاٹ پر خالی آسامی کے اعلان کے چند روز بعد اخبارات میں اس بارے میں اشتہار دیا گیا ۔ اس بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ قومی ثقافتی ادارے کے سربراہ کی تلاش کے لیے اُردو اور انگریزی کے تمام قومی اخبارات کی بجائے دوچار اخبارات میں اشتہار دینے پر اکتفا کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے کیونکہ اس اہم قومی ادارے کی سربراہی کے لیے اُمیدوار ملک کے کسی بھی حصے سے ہوسکتے ہیں اور فنون لطیفہ اور فنکار کے لیے حدبندی نہیں کی جاسکتی۔

اس ضمن میں دیئے گئے اشتہار میں متوقع اُمیدواروں سے کہا گیا ہے کہ درخواست کا فارم پی این سی اے اور ڈویژن کی ویب سائٹ سے ڈائون لوڈ کرسکتے ہیں۔ اشتہار میں جہاں دیگر شرائط دی گئی ہیں وہاں بوجوہ یہ نہیں کہا گیا کہ متوقع اُمیدواروں کو Visual and Performing Arts کا لازمی علم ہونا ہے۔

فارم دو صفحات پر مشتمل ہے جس میں بے شمار معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ریسرچ کام کی تفصیل، پیسہ ورانہ تنظیموں کی ممبرشپ، تین حوالہ جات، پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت، خاص اقسام کے کورسز، سیمیناروں، ورکشاپس اور ٹریننگ میں شمولیت اور اس بارے میں بیان حلفی قسم کا سرٹیفکیٹ کہ وہ کسی اخلاقی نوعیت کے جرائم میں ملوث نہیں پائے گئے اور نہ ہی انہیں کسی عدالت سے کسی بھی جرم میں سزا دی گئی ہے اور یہ بھی کہ ان کو کرپشن، نظم وضبط کی خلاف ورزی یا مس کنڈکٹ کی بنا پر Penalty عائد نہیں کی گئی ہے۔

متوقع اُمیدوار کوئی مصور بھی ہوسکتا ہے لیکن فارم میں ملازمت کے تجربہ کے بارے میں تو پوچھا گیا ہے لیکن انفرادی یا اجتماعی طور پر قومی اور علاقائی سطحوں پر نمائشوں میں شرکت کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

وفاقی وزیرتعلیم کے پاس نئے ڈویژن کا اضافی چارج ہے جس کے تحت قومی ثقافتی ادارہ بھی ہے لیکن بتایا یہ جاتا ہے کہ وفاقی وزیرتعلیم نے ابھی تک نیشنل آرٹ گیلری کا دورہ نہیں کیا جہاں پی این سی اے کے دفاتر ہیں کہ وہاں حالات کا جائزہ لے سکیں اور ان کی کارکردگی کے بارے میں آگاہی حاصل کرسکیں۔

پی این سی اے کی ایک سابق خاتون ڈائریکٹر Visual Art کا ڈویژن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ قومی ثقافتی ادارے کی سربراہی کے لیے کوشاں ہیں۔ نام لیے بغیر اگر انہیں Trouble Shooter کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔

وہ 2016ء میں ریٹائر ہوئیں اور اخبارات میں ان کے بارے میں بہت کچھ آتا رہا ہے لیکن وہ متعلقہ اعلیٰ حکام سے تعلقات کی بنا پر بچتی رہی ہیں۔

جولائی 2014ء میں دی نیشن میں ایک تفصیلی خبر شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ جنوری 2014ء میں 16 الزامات میں چارج شیٹ کیا گیا تھا جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ کئی سال گزرنے کے باوجود انہوں نے ادارہ کو اپنی تعلیمی اسناد فراہم نہیں کیں۔ مختلف مواقع پر کونسل کو مس گائیڈ Misguide کر رہی ہیں اور ایک یا دو مواقع پر جب وہ رخصت پر بیرون ملک گئی ہیں تو مقررہ مدت سے زیادہ قیام کیا۔ ان الزامات کی بنا ء پر ان کو ملازمت سے برطرفی کی بڑی سزا دی جاسکتی تھی لیکن وہ اقتدار کے ایوانوں میں اپنے تعلقات کی وجہ سے بچ گئیں۔

موصوفہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں لاہور میں مقیم 77سالہ ایک جانی پہچانی خاتون کی سرپرستی حاصل ہے اور اتفاق کی بات ہے کہ اُن کی سرپرست خاتون وفاقی وزیرتعلیم کی قریبی عزیزہ ہیں اور وہ پہلے بھی ہر مشکل مرحلہ پر موصوفہ کی پشت پناہی کرتی رہی ہیں۔

وفاقی حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی اور خاص ترجیح کی عدم موجودگی کے باعث پی این سی اے میں صورتحال خاصی تشویشناک ہو چکی ہے۔ وہاں ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنے مفادات کی خاطر قومی ادارہ کے خفیہ دستاویزات بیرونی عناصر کو فراہم کرتے ہیں اور بدلے میں ان سے ذاتی فائدے حاصل کرتے ہیں۔

طوالت سے بچنے کے لیے مفروضات کو مختصر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ اس قومی ثقافتی ادارے کو بچانے کے لیے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فوری حکم دیں۔ اس ادارے کو کُل وقتی وفاقی وزیر کے سپرد کریں جنہیں فنون لطیفہ کی زیادہ نہیں تھوڑی شُدبُد اور دلچسپی ضرور ہو اور ادارے کو شرپسند عناصر سے پاک کیا اور سابق ڈائریکٹر خاتون کو چارج شیٹ کیا گیا تھا انہیں اس قومی ادارے میں واپسی اور سربراہی سے روکا جائے اور پی این سی اے کے اُن کو مذموم ارادوں سے بچایا جائے۔ یہ وفاقی حکومت، شفافیت، میرٹ اور کرپشن کے بارے میں واضح ترجیحات کے بھی ضروری ہے۔ قومی ثقافتی ادارے کو قومی سطح پر بھرپور توجہ کی فوری اور شدید ضرورت ہے۔


ای پیپر