کشمیر.... اور کاں، کراڑ، کتا
24 اکتوبر 2019 2019-10-24

دنیا کی ہر زبان میں کہاوتیں، ضرب المثل ، پہیلیاں، محاورے وغیرہ موجود ہیں، جو اپنے اندر کوزے میں سمندر کو بند کیے ہوئے ہیں، میں ابھی بہت چھوٹا تھا اور پرائمری کا طالب علم تھا، مجھے میرے بہنوئی اور چچازاد بھائی نے ایسے ہی سرائیکی زبان کی ضرب المثل سنا کر فرمایا تھا، نواز خان اسے یاد کرلو، یہ زندگی بھر کام میں آنے والی بات ہے۔

انہوں نے کہاکہ

”کاں“ کراڑ کتے تے

پت نہ رکھیں سُتے تے

اس کامطلب ہے ، کہ کوے، کافر، اور کتے پہ کبھی یہ سوچ کر کہ یہ سوئے ہوئے ہیں، اعتبار نہ کرنا، کیونکہ ان کا سونا اور جاگنا ایک برابر ہے، اسے زیادہ آسانی سے سمجھنا ہو، تو صرف کتے کے سونے پہ غور کرلیں، کیونکہ کتا چاہے، سویا ہوابھی ہو، تو بھی وہ ایک سیکنڈ سے بھی وقت میں یعنی فوراً جاگ کر دشمن پر لپکتا ہے، مگر اگر مودی کو اس ضرب المثل کے حوالے سے جانچا جائے، تو اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ مکمل سویا ہوا ہے، اس کے چہرے پہ پڑی پھٹکار کا سبب کچھ اور ہے، قارئین میں کوشش کروں گا کہ اس کی بولتی کس نے بند کی، اس حقیقت سے آپ لوگوں کو بھی آگاہ کردوں، تاہم ہماری حکومت کی یہ کوشش اور مودی کے حق میں دعائیں، عظیم مسلمان دانشور جن کا تعلق ایران سے تھا، فرماتے ہیں کہ جو دشمنوں سے صلح کی کوشش کرتا ہے، دراصل وہ دوستوں کو دکھ پہنچانے کا تردد کررہا ہوتا ہے، تمہیں تو دوست کے ساتھ بات چیت میں بھی آہستگی اختیار کرنی چاہیے، کہیں کم بخت دشمن ہی نہ سنتا ہو، مگر یہاں تو آوے کا آوا ہی بدلا ہوا ہے، آہستگی خاک اختیار کرنی ہے، ہمارا تو دشمن بھی ہمارے نام نہاد دوستوں کا ایوارڈ یافتہ بدمعاش ہے اگر آپ اب بھی نہیں سمجھ پائے تو سرائیکی کی دوسری یہ مثال آپ کو اپنا مطلب بخوبی واضح کردے گی۔

ککا ،کیرا، کربرا، سینے بال نہ ہو

اس سے بات تب کریو، جب کھلہ ہاتھ میں ہو

اس کا مطلب ہے، کہ بھورے رنگ وبدن کا انسان، اور وہ شخص جس کے سینے پہ بال نہ ہوں، تو اس سے اتنی احتیاط کرنی چاہیے، کہ جب تک آپ کے ہاتھ میں جوتا نہ ہو، اس سے بات بھی نہیں کرنی چاہیے، اب مجھے نہیں معلوم کہ مودی منحوس ان دو ضرب المثل کے کن الفاظ پہ پورا اترتا ہے، مگر مجھے اتنا ضرور یقین ہے، کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ، جس کا عرش مظلوموں کی آہ سے کانپ اٹھتا ہے، وہ ڈھیل ضرور دیتا ہے، مگر بالآخر وہ ظالم کو نشان عبرت بنا دیتا ہے، دنیا بھر کے ظالموں کا انجام آپ کے سامنے ہے، اور تاریخ اقوام عالم اس کی گواہ ہے۔

قارئین میں نے آپ کو ایک دفعہ ظہیرالدین بابر بادشاہ کے خیالات سے آگاہ کیا تھا کہ وہ ہندوستان کی آب وہوا کو بھی غیر یقینی سمجھتا تھااچانک طوفان بادوباراں کی وجہ شہزادہ ولیم بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ ریلوے کا مسافر بن گیا، اور انسانوں کی طبیعت اور ان کے اعمال و افعال کو بھی، اب مودی کی شخصیت کو دیکھ کر کہ وہ دنیا بھر میں امن کا پیام بر ہے، جب کہ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں فوجیوں کے ساتھ وہ جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، اس ظلم کی غمازی اور عکاسی جناب مظفر علی شاہ صاحب کچھ اس طرح سے کرتے ہیں، کہ

ہر سحر کی خنکی میں

دوپہر کی گرمی میں

شام کے دھندلکے میں

رات کی سیاسی میں

ایک درد ایسا ہے

کچھ کمی نہیں جس میں

قارئین تاریخ ہندوستان کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے، اور ابھی تک صورت حال یہی ہے کہ کافر بہت بڑی بڑی مونچھیں رکھ کر یہ سمجھتے ہیں، کہ وہ بہت زیادہ طاقت ور ہیں، امیر تیمور جب دہلی پہ قبضہ کرنے کی غرض سے قلعہ پر حملہ کرنے کے لیے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ نہایت بڑی بڑی مونچھوں والے آدمی کھڑے تھے، تیمور کہتا ہے کہ میرے تجربے کے مطابق داڑھی مونچھ کا دلیری اور بہادری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور نہ ہی قوت وطاقت سے اس کا کوئی تعلق ہوتا ہے۔

ہمارے رسول پاک اور آپ کے صحابہ کرام کی مونچھیں بھی نہیں تھیں اور نہ ہی داڑھی لمبی تھی، مگر اس کے باوجود بھی آغاز اسلام میں ستر اسی جنگوں میں وہی فاتح ٹھہرے، اور وہ کیوں فاتح نہ ٹھہرتے، ان کی مدد کے لیے تو آسمان سے فرشتے اتر آتے تھے، بقول مظفر شاہ صاحب

پیش خدمت ہیں ملائک لیے اہدائے درو

ہم نے دیکھا ہے، مواجہ سے نظارہ کرتے

دہر ظلمات میں آیا وہ سویرا کرتے

ایک بے سایہ کو دیکھا گیا سایہ کرتے !

قارئین میں امیر تیمور کی بات کررہا تھا، کہ اس نے ہندوستان کیسے فتح کرلیا، وہ کہتے ہیں کہ یہ بے وقوف انسان مونچھوں کی پرورش کرنے کے بجائے، اگر اپنے زور بازو کی پرورش کرتے، تو یہ بات ان کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتی، اس لیے کہ میدان جنگ میں تو بازو کام آتے ہیں، مونچھیں نہیں۔

تیمور نے دیکھا کہ ان مونچھوں والوں کے ہاتھ میں نیزے اور سروں پہ خود تھے، میں بھی اپنے چند افسروں کے ساتھ شہر کے اطراف میں گھوم پھر رہا تھا، تاکہ فصیل، اور اس خندق کا جائزہ لے سکوں، جو انہوں نے قلعے کے ساتھ ساتھ بنائی ہوئی تھی، مجھے اس طرح جگہ کا جائزہ لینے کے بعد وہ شخص سمجھ گیا کہ میں سپہ سالار ہوں، چنانچہ ان میں سے ایک نے میرا نشانہ لے کر مجھے تیر مارا ، میرے ہمراہیوں میں سے ایک نے فوراً میرے چہرے اور سینے کے آگے ڈھال رکھ دی، تاکہ مجھے نقصان نہ پہنچے، مگر اس شخص کا تیر مجھ سے پہنچنے کے بجائے پندرہ بیس گز پہلے ہی زمین پر گرا، حالانکہ وہ اوپر فصیل سے تیر چلا رہا تھا۔

میں نے اپنے ہاتھ سے تیر پکڑا، اور اس آدمی کا نشانہ لے لیا، جس نے مجھ پہ تیر اندازی کی تھی، میں نیچے سے بلندی کی طرف تیر پھینک رہا تھا، چونکہ اس شخص کو علم تھا، کہ وہ بلندی پہ کھڑا ہے، لہٰذا اس غلط فہمی کی بنا پر وہ بجائے اس کے کہ وہ فصیل پہ پناہ لے لیتا، ویسے ہی اپنے زعم وتکبر میں کھڑا رہا کہ تیر اس تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود میرا تیر نہ صرف اس تک پہنچا ، بلکہ اس کی ضرب اتنی شدید تھی کہ تیر کی انی جب اس کی چھاتی سے ٹکرائی تو اس نے تیر پکڑ لیا، اور اپنے ساتھیوں کو دکھانے لگا، اس اثنا میں میں نے دوسرا تیر کمان پر چڑھا لیا، اور دیر تک کمان میں تیر رکھنے کے بجائے فوراً تیر چلا دیا، جو اس آدمی کے ہاتھ میں تھا اور وہ اپنے ساتھیوں کو دکھارہا تھا، تیر اس آدمی کے چہرے پہ اتنے زور سے لگا، کہ اس کی چیخ مجھ تک پہنچ گئی اور وہ فصیل کے پیچھے غائب ہوگیا۔

قارئین مودی نے بھی مونچھیں اور داڑھی رکھی ہوئی ہے، یوگی کے ساتھ بھی پھرتا ہے اور یوگا بھی کرتا ہے، مگر اس کا مقابلہ جس قوم سے ہے، اس کے بارے میں حضرت اقبالؒفرماتے ہیں :

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی

ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

شکر ہے کشمیر کے سفیر بھی بضد ہیں، کہ وہ ابھی جوان ہیں، جبکہ عوام ان کی بات سے اتفاق نہیں کرتے، اور وہ انہیں اتفاق والوں کے بندے سمجھتے ہیں، قارئین قصہ تیمور سننا چاہتے ہیں تو 2بجے کے بعد اس نمبر پر مسیج بھیجیں۔ 0300-4383224


ای پیپر