ڈاکو رانیاں !
24 اکتوبر 2019 2019-10-24

(گزشتہ سے پیوستہ) !

گزشتہ کالم میں، میں یہ عرض کررہا تھا کسی مریض میں کوئی بیماری نہ بھی ہوہمارے اکثر ڈاکٹر عرف ” ڈاکو صاحبان“ پلے سے کوئی ایسی بیماری اس میں ڈال دیتے ہیں جس کی کوئی علامت ہی نہیں ہوتی، وہ جب ڈاکٹر کی خدمت میں عرض کرتا ہے ”جوبیماری آپ مجھے بتارہے ہیں اس کی کوئی علامت ہی نہیں، آگے سے ڈاکٹر یہ روایتی جملہ بول کر اُسے چپ کروا دیتے ہیں “ کہ ڈاکٹر میں ہوں یا تم ہو، تمہیں مجھ سے زیادہ پتہ ہے تمہیں کون سی بیماری ہے کون سی نہیں ہے ؟“.... گزشتہ کالم میں ایسے ہی ایک مریض کا میں نے تفصیل سے ذکر کیا تھا جو گیا تو ایک ای این ٹی سپیشلسٹ کے پاس اپنا گلہ چیک کروانے تھا مگر اس نے اس سے کہا ”گلے کے ساتھ ساتھ آپ گوڈوں کی بیماری میں بھی مبتلا ہیں“،.... اور پھر اُسے زبردستی اپنے ساتھ والے کمرے میں آرتھوپیڈک سرجن کے پاس بھجوادیا، جس نے ایکسرے اور فیس کی مد میں بیس ہزار روپے اس سے وصول کرلیے۔ بعد میں پتہ چلا کہ ای این ٹی سپیشلسٹ اور آرتھوپیڈک سرجن آپس میں سالہ بہنوئی ہیں جو ایک دوسرے کی اسی طرح خدمت کرتے رہتے ہیں .... المیہ یہ ہے مریضوں سے ہزاروں روپے فیس کی مد میں وصول کرنے والے کچھ ڈاکٹرز عرف ڈاکو صاحبان مریضوں کو کھل کر بات بھی نہیں کرنے دیتے، مریض ڈاکٹر کے سامنے ایسے بیٹھے ہوتا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہو اور سامنے بیٹھا کوئی سب انسپکٹر اُس کی تفتیش کررہا ہو،.... عموماً ایک رٹا رٹایا جملہ یہ ڈاکٹرز عرف ڈاکو صاحبان اپنے مریضوں کے سامنے بول کر مریضوں کو خاموش کروادیتے ہیں کہ ”ڈاکٹر میں ہوں یا تم ہو؟تمہیں مجھ سے زیادہ علم ہے تمہیں کون سی بیماری ہے ؟“....ڈاکٹرز کے اس روایتی جملے سے مجھے ہمیشہ پنجاب کے ایک سابق وزیراعلیٰ سردار عارف نکئی مرحوم یاد آجاتے ہیں، وہ ایک بار بطور وزیراعلیٰ پنجاب ریس کورس پارک لاہور میں محکمہ زراعت اور باغبانی کے زیراہتمام پھولوں کی ایک نمائش کا افتتاح کرنے گئے، چلتے چلتے کچھ پھولوں کے پاس رُک گئے، قریب کھڑے محکمہ زراعت وباغبانی کے افسروں سے کہنے لگے ”یہ پھول کینسر پھیلاتا ہے “ .... سارے افسران جواباً ”جی جی“ کرتے رہے، ایک افسر ذرا ہمت کرکے بولا ” سر یہ وہ پھول نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں، یہ پھول کینسر نہیں پھیلاتا، وہ کوئی اور پھول ہوگا“ ....اُس افسر کی بات سن کو کسی ڈاکٹر عرف ڈاکو کی طرح وزیراعلیٰ آگ بگولہ ہوگئے کہنے لگے ”چُپ کر بددیا پُتراچیف منسٹر توں ایں یا میں آں؟ تینوں بوہتا پتہ اے کہ کیڑا پھُل کینسر پھیلاندا اے تے کیڑا نئیں پھیلاندا؟“.... اُس کے بعد اُنہوں نے کھڑے کھلوتے محکمہ باغبانی کے اُس ”گستاخ“ افسر کو معطل کردیا، .... کسی ڈاکٹر عرف ڈاکو صاحب کو کسی مریض کی اصل بیماری سمجھ میں آئے نہ آئے وہ اپنے پلے سے مریض میں کوئی نہ کوئی بیماری ڈال کر اُس کا علاج شروع کردیتا ہے۔ اِس حوالے سے ان دنوں سب سے زیادہ خرابیاں ہماری کچھ ”ڈاکورانیاں“ یعنی ہماری کچھ ”گائناکالوجسٹ“ کررہی ہیں، یہ ”پھولن دیویاں“ جس جس ٹیکنیکل انداز میں حاملہ خواتین کو لُوٹتی ہیں دنیا میں کہیں ایسی بداخلاقی کی مثال نہیں ملتی، اس حوالے سے ایک زبردست تحریر اگلے روز جرمنی میں مقیم میرے عزیز ترین دوست شیراز گیلانی نے اپنی فیس بک وال پر لگائی .... گوری دنیا میں ڈیلیوری کے وقت خاوند اپنی بیگم کے پاس کھڑے ہوتا ہے، اُن کے علاوہ کمرے میں ایک دونرسیں ہوتی ہیں، حاملہ خاتون کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، وہ درد سے چیختی ہے مگر نرس اُسے صبر کرنے کا کہتی ہے، اِس طرح ننانوے فی صد بچے کی پیدائش نارمل ہوتی ہے، عورت کا حوصلہ، اُس کی دوائی اُس کے انجیکشن کا متبادل اُس کا خاوند ہوتا ہے جو اُس کے پاس کھڑے اُس کا ہاتھ پکڑے ہوتا ہے، ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے اُس کے باپ سے کٹوائی جاتی ہے، اور بچے کو اُس کی ماں کے جسم سے بغیر کپڑے پہنائے لگادیا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کرلے۔ بچے کو صرف اور صرف ماں کا دودھ پلانے کے لیے کہا جاتا ہے، زچہ و بچہ کسی کو کسی قسم

کی دوائی نہیں دی جاتی، سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگادیا جاتا ہے، حمل کے پہلے دن سے لے کر ڈیلیوری تک سارا پروسیس فری ہوتا ہے، ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہو جاتے ہیں .... اس کے بالکل برعکس پاکستان میں لیڈی ڈاکٹر حاملہ عورت کو پہلے ہی دن سے اپنا ”گاہک“ سمجھتی ہے، وہ حاملہ عورت کے خاوند یا گھروالوں کو پہلے ہی دن ڈرا دیتی ہے کہ آپ کی بیٹی یا بیوی کی پہلی ڈیلیوری ہے، اس کا کیس خراب بھی ہوسکتا ہے .... یہ سلسلہ روز ڈیلیوری تک جاری رہتا ہے ، .... ڈیلیوری کے روز ایک خاص قسم کا طے شدہ ڈرامہ شروع کردیا جاتا ہے۔ پہلے کہا جاتا ہے بچہ ان شاءاللہ نارمل ہی ہوگا، آپریشن کی ضرورت نہیں ہوگی، اُس کے بعد ”نارمل ڈیلیوری کے نام پر ہزاروں روپے کی دوائیاں اور انجیکشن منگوائے جاتے ہیں جو ”لیبرروم“ میں لے جائے جاتے ہیں، اور پتہ نہیں حاملہ خاتون کو لگائے بھی جاتے ہیں یا نہیں، کیونکہ وہاں اُس کے ساتھ اُس کے کسی عزیزکو جانے کی اجازت نہیں ہوتی، اندر ڈاکٹر اور نرسیں کیا کرتی ہیں؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اُس کے بعد اچانک کھسر پھُسر شروع کردی جاتی ہے کہ خاتون کو چونکہ دردیں شروع نہیں ہورہیں، الٹراساﺅنڈ کے مطابق بچے کی حالت بھی ایسی ہے کہ اُس کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے لہٰذا مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے .... یہ ایسا مرحلہ ہوتا ہے جب حاملہ خاتون کے عزیزوں کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا وہ گائناکالوجسٹ عرف ” ڈاکو رانی“ کو آپریشن کی اجازت دے دیں، پاکستان میں نارمل ڈیلیوری کسی اچھے پرائیویٹ کلینک میں لاکھ سوا لاکھ میں ہو جاتی ہے ، مگر زبردستی کے آپریشن سے حاملہ خاتون کے مجبور عزیزوں سے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں، .... گزشتہ دنوں ایسا ہی ایک ڈرامہ لاہور کی ایک مشہور گائنا کالوجسٹ عرف ”ڈاکورانی“ نے میری بیٹی کی ڈیلیوری کے موقع پر بھی کیا۔ ہمارے پاس سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں تھا، بات اس موقع پر اُٹھنے والے لاکھوں روپے کے اخراجات کی نہیں تھی، اصل بات اُس اذیت کی تھی جو اس وقت ہمیں برداشت کرنا پڑی۔ جی چاہا میں یہ کیس عدالت میں لے کر جاﺅں، پھر سوچا کس کی عدالت میں لے کر جاﺅں کہ یہاں اکثر عدالتوں میں ویسی ہی ذلت اور اذیت انصاف کے حصول میں اُٹھانا پڑتی ہے جیسی پرائیویٹ ہسپتالوں میں کچھ ڈاکٹرز عرف ڈاکو ﺅں یا ” ڈاکو رانیاں “ کی وجہ سے اُٹھانی پڑتی ہے !!


ای پیپر