حکومت پہل کرے
24 اکتوبر 2018 2018-10-24

انتخابی دھاندلیوں سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا ابھی پہلا اجلاس بھی منعقد نہیں ہو سکا۔ گو کمیٹی قائم ہو گئی۔ لیکن نہ تو چیئر مین کا انتخاب ہو سکا۔اور نہ ہی کمیٹی اپنے ضابطہ کارکا تعین کر سکی ہے۔ ظاہر ہے جب کمیٹی کا اجلاس ہی نہیں ہوا تو طریقہ کار کیسے طے ہوگا۔ البتہ سب جماعتوں نے اپنی نمائندگی ضروری دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کمیٹی کا، اس کا سفارشات کا کیا حشر ہوتا ہے۔ کیونکہ ماضی میں بھی نہ صرف کمیٹیاں بنی بلکہ عدالتی کمیشن بھی بنے۔ان کے فیصلوں کو عدالتی آئینی حیثیت حاصل تھی۔ لیکن جو سیاسی جماعتیں خود مقدمہ عدالتی کمیشن میں لیکر گئیں ثبوتوں کے ڈھیر لگا دینے کا اعلان کیا گیا۔ جب فیصلہ آیا تو عدالتی سفارشات کو ذرا برابر اہمیت نہ دی گئی۔وہی دھاندلی کا راگ الاپا جا تا رہا۔ وہی ڈھول بجتا رہا۔دھرنے بھی ہوئے اور لاک ڈاؤن بھی۔ اصلاحاتی کمیٹیاں بھی بنیں لیکن پچیس جولائی کو الیکشن ہوتے تو نتائج کے متعلق جیتنے والے بھی معترض رہے۔ اور ہارنے والوں کو تو اعتراض ہونا ہی تھا۔ جن کی صوبائی حکومتیں بنیں وہ بھی،ہارنے،دھاندلی پر سیاپا ڈال رہے ہیں۔اورجن کو کچھ نہیں ملاوہ بھی واویلا کرتے پائے گئے۔ ہونا کیا چاہیے تھا؟ حکومت ،ماضی کی اپوزیشن،جو آج کی حکومت ہے وہ اگر پانچ سال ضائع نہ کرتیں۔ تمام جماعتوں کے ارکان سنجیدگی سے بیٹھ کر انتخابی ا صلاحات کا جامع پیکج تیار کرتیں تو دھاندلی کا یہ ٹنٹا ہمیشہ کیلئے ختم ہو جاتا۔ لیکن حکومت کی ترجیح ڈھنگ ٹپانا تھا اور اپوزیشن کا کام تو جو تھا وہ اس نے کیا۔ یعنی دھرنا، لاک ڈاؤن، احتجاج تاکہ حکومت کو مفلوج کیا جائے۔ آخر کار اپوزیشن کامیاب رہی۔ اس نے حکومت کو اپنی وکٹ پر کھلایا۔ ایک کمیٹی بنی اس نے چار و نا چارگونگلوؤں پر سے مٹی جھاڑنے کیلئے اپنی سفارشات مرتب کیں۔ یہ سفارشات باقاعدہ طور پر متفقہ تھیں۔ سوائے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی مشق سے۔ جس پر اتفاق رائے نہ ہوا۔ لیکن ان سفارشات کا کیا نتیجہ نکلا۔ الیکشن پہلے سے بھی زیادہ متنازعہ ہو گئے۔ کوئی قانون کام آیا نہ کوئی ضابطہ۔ کبھی آ ر ٹی ایس بیٹھ گیا۔کبھی نتیجہ تاخیر سے ملنے کی شکایت آئی۔ 1970 کے پہلے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منعقدہ انتخابات سے لیکر آج تک ہر الیکشن کے نتائج کو چیلنج کیا گیا۔ ہر دفعہ معاملہ خراب ہوا۔ کئی حکومتیں تبدیل ہو گئیں۔ انتخابی نتائج کے نام پر شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اربوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا۔ ان گنت جانیں ضائع ہوئیں۔ لیکن قومی قیادت نے اس لعنت کا سد باب کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ موجودہ حکومت کے پاس ایک مرتبہ پھر موقع ہے کہ وہ اس حوالے سے تاریخی کردار کرے اور ایسی انتخابی اصلاحات

کرے کہ آئندہ کسی کو موقع نہ ملے۔ ایسی شکایت کا۔ اس مرحلے سے گزر نے کیلئے صرف دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کا قیام کافی نہیں۔ یہ کمیٹی جلد ہی اپنا کام شروع کر دے گی۔ لیکن اس کا نتیجہ ماضی کی رپورٹوں سے مختلف نہ ہو گا۔ اپوزیشن میں شامل جماعتیں انتخابی دھاندلی سے متعلق جن اداروں کی جانب انگلی اٹھاتی ہیں ان سے تحقیقات کرنا ان کو طلب کرنا،ان کا ریکارڈ طلب کرے اگر کوئی ہے۔ وہ قومی سلامتی کے حوالے سے مناسب نہ ہو گا۔ ہمارے ہاں جس طرح سے سیاسی کش مکش ہے کسی جماعت کا نمائدہ دوسری جماعت کی تاویل دلیل، ثبوت کو نہیں مانے گا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ سفارشات متنازعہ رہیں گی۔ اور پارلیمنٹ کی ایک اور کمیٹی نشستندگفتند برخاستنداور کی کیٹگری میں چلی جائے گی۔ لہٰذاپی ٹی آئی حکومت کے پاس ایک تاریخ موقع ہے کہ وہ قوم کو انتخابات اصلا حات کا ایک ایسا پیکج دے۔ جس کے نتیجہ میں دھاندلی کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے خطاب میں جن اہم ترین نکات کا احاطہ کیا تھا ایک وعدہ تو انہوں نے پورا کر دیا کہ تحقیقا ت کیلئے کمیٹی قائم کر دی۔ اب اس سے آگے چلنا ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر پارلیمنٹرین اور ماہرین قوانین پر مشتمل ایک ایسی کمیٹی قائم کریں جو فوری طور پر اپنے کام کا آغاز کرے ۔ اور ان کی عرق ریزی کر کے اصلاحات کا ایسا پیکج تیار کرے جس پر تمام سیاسی فرقوں کا انفاق رائے ہو۔ انتخابات کے دوران یورپی یونین کے مبصرین کا ایک وفد بھی پاکستان آیا تھا۔ اس وفد کے ماہرین نے انتخابی عمل کا بھی مشاہدہ کیا۔ الیکشن ڈے پر بھی پولنگ سٹیشنوں کا وزٹ کیا۔ انتخابات کے بعد اس وفد نے اپنی ابتدائی مشاہداتی رپورٹ بھی مقامی میڈیا کے ساتھ شیئر کی۔ اس دوران مبصرین کے وفد نے مقامی میڈیا کے ساتھ ملاقات کر کے کچھ امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ اور یہ انکشاف کیا کہ اس کا نمائندہ وفداکتوبر میں پاکستان آ کر تفصیلی رپورٹ پاکستانی قوم کے ساتھ شیئر کرے گا۔ اطلاعات ہیں کہ یورپی یونین کا وفد اگلے ہفتے اسلام آباد پہنچے گا۔ اور نیوز کانفرنس میں یہ رپورٹ جاری کرے گا۔ اس اہم یورپی ادارے کی رپورٹ جو بھی ہو۔ بہر حال وقت آ گیا ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔عام انتخابات کے بعد بہت سے ایسے ایشوز سامنے آئے ہیں۔ جن کا حل بہت ضروری ہے۔ بہت سے انتخابی ایشوز ایسے ہیں جن کا تنبیہ تو عدالتوں میں ہوتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے انتخابی قواعد و ضوابط ہیں کئی سقم ہیں۔ جن کی وجہ سے امیدواروں کو یہ شکوہ رہتا ہے کہ ان کو انصاف نہیں ملا۔ اس حوالے سے اہم ترین معاملہ دوبارہ ووٹوں کی گنتی کا ہے۔ حالیہ الیکشن میں کئی ایسے امیدوار ہیں جن کی ہار کا مارجن بہت کم تھا۔لیکن ان کو شکایت ہے کہ انصاف نہیں ملا۔ لہٰذا اس ابہام کو دور کرنے کیلئے واضح اور غیر مہم قوانین کا وضع کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح انتخابی وقت کے ختم ہونے کے بعد گنتی کے عمل کو بھی شفاف بنایا جانابہت ضروری ہے۔ حالیہ الیکشن میں شکایت پیدا ہوئی کہ بعض جماعتوں کے ایجنٹوں کو نکال دیا گیا۔ اور یہ کہ گنتی ان کی غیر موجود گی میں کی گئی۔ انتخابی اخراجات کے حوالے سے قوانین کو بھی حقیقت پسندانہ بنانا بہت ضروری ہے۔ کون نہیں جانتا کہ امیدوار کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ لیکن ان کو چند لاکھ سے زیادہ شو نہیں کیا جاتا۔ اس کو بھی حقیقت پسندانہ بنانا بہت ضروری ہے۔ ایک اور اہم معاملہ انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی کس ادارے کے ذمہ ہونی چاہیے۔ سیاسی جماعتیں خود یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ الیکشن فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں۔ بعد میں شکایت منظر عام پر آئی ہیں کہ سکیورٹی اہلکاروں نے انتخابی عمل میں مداخلت کی۔ جس کی وجہ سے قومی اداروں کی بد نامی ہوتی ہے۔

عام انتخابات کے نتیجہ میں پارلیمنٹ بھی بن گئی اور حکومت بھی۔ حکومت جس کو بطور اپوزیشن دھاندلی کی شکایت تھی۔ اس کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کو اپنی تر جیحات میں اول نمبر پر رکھے اور اس قضیہ کو ہمیشہ کیلئے حل کر دے۔ پہل حکومت کرے ۔


ای پیپر