فروغِ تعلیم کے لئے قدم اٹھانا ہو گا
24 اکتوبر 2018 2018-10-24

ہر چیز خو بصو رت ہو تی ہے اس کا انحصا ر مو قع کی منا سبت سے ہو تا ہے ۔سکو ل کی گھنٹی کی آ واز صبح 8بجے بہت انتشا ر پھیلا تی ہے لیکن اسی گھنٹی کی آواز دو بجے سہ پہر دل کو بہت سرور اور سریلی لگتی ہے۔ جب بشیر بہر و پیا بچو ں سے با تیں کر تا تو وہ زور سے ہنستے تھے وہ بچو ں کو رسول حمزہ کی وہ با ت ضرور بتاتا جو اس کے والد نے اس سے کہی تھی کے زندگی میں صرف دو دفعہ جھکنا ایک کسی با غ سے پھو ل تو ڑتے وقت اور دوسرا کسی نلکے سے پا نی پیتے وقت اور علم پہ دھیان دینایہ علم ہی ہے جو انسان کو سر اٹھا کے جینے کے قابل کر تا ہے کمزور کو طا قتور کر تا ہے جن معاشروں نے علم کو اپنا شیوہ بنایا آج کہا ں کھڑے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ علم ہی ہے جس نے انسان کو تر قی کے با م عروج پر تک پہنچایا ہے ۔انسان نے سائنس اور مختلف فنون میں مہارت حا صل کر کے نبی نو ع انسان کیلئے کتنی آسا نیا ں پیدا کر دی ہیں ۔نیکی اور تر قی کا راستہ اختیا ر کرنے اور اس کا درس دینے والو ں کو بڑے کٹھن حا لا ت سے گزر نا پڑ ا ہے جب سر سید احمد خاں نے برصغیر پا ک وہند میں تعلیم عا م کر نے کا بیڑہ اٹھایا تو انہیں فتو وں کی زد پہ رکھا گیا ۔آج وہ لو گ جو اس مدرسے پڑے ہیں ۔جس کا نام اور بنیاد سر سید نے رکھا تھا۔بڑے فخر سے اپنے نام کے سا تھ لکھتے ہیں ۔کو نٹیلئین روم کا رہنے والا استاد اور قانون دان تھا ۔اُسے تا ریخ میں ریاست کی طرف سے مقر ر کر دہ پہلا پرو فیسر ہو نے کا اعزاز حا صل ہے۔ اُس نے بچے کی ابتدائی تعلیم با رے والدین کی بھاری ذمہ داری کی طرف تو جہ دلائی ہے ۔بچے کی ابتدائی تعلیم کیلئے والدین کو تعلیم کی افا دیت کا شعور ہونا بہت ضروری ہے۔چنا نچہ اُس نے تعلیم با لغا ں کا نظر یہ دیااُس کے نز دیک بچے کی پہلی تعلیم کھیل سے شروع ہو نی چاہئے ہے کو می نیئس چیکو سلو ا کیہ کا رہنے والا تھا۔ تعلیم کے قدیم کلا سیک اور نئے خیا لا ت کے بیچ ایک سیڑھی کی حیثیت رکھتا

ہے اُس نے ایک انٹر نیشنل کا لج کا تصور دیا جس کا مقصد تعلیم کے ذریعے بین الاقوامی افہام و تفہیم امن اور ہم آہنگی کو فرو غ دینا تھا اُس کا نام کلیہ نو ر رکھا تھا ۔یا د رہے کہ یہ کا لم آج کل اقوام متحدہ کا ادارہ یو نیسف کر رہا ہے۔ اُس نے اس بات پر بڑا زور دیا کہ تعلیم کو جمہو ری بنانے اور ہر ایک کو تعلیم کے مساویا نہ مو اقع دینے کی ذمہ داری ریا ست کی ہو نی چا ہئے۔ یہ بات زور دے کے کہتا ہے کہ اگر ریاست چا ہئے تو ہر شخص تعلیم یا فتہ ہو سکتا ہے ۔آج ہم اپنے گزرے ستر سا لوں کا جا ئزہ لیں تو بات سمجھ آجا تی ہے کہ ہمارے یہا ں تعلیم بارے کو ئی سنجیدہ نہیں ہے جو لو گ یہا ں پا لیسی بناتے ہے اُن کا دُور دُور تک تعلیم کے ساتھ کوئی واستہ نہیں ہے ۔ یہاں ہر کوئی نت نئے تجربے کرتا آ یا ہے ۔دوسری طرف تعلیم عوام کے ایجنڈے پہ بھی کو ئی خا طر خواہ اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ایک گا ؤں میں40 مسا جد عوام اپنے خرچے پہ چلاتے ہیں۔لیکن ایک لا ئبریری چلانے کی اہمیت نہیں رکھتے ہیں۔ کیو نکہ ہمارے یہاں تعلیم اہمیت نہیں رکھتی ہے لے دے کے آ ج کے دن تک ہم تعلیم بارے کچھ کر رہے ہیں تو ماسوائے اپنے بچو ں کو طو طا بنانے کے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔دوسرے طرف ہمارے یہاں نظام تعلیم سرے سے تعلیمی ہی نہیں ہے کیو نکہ ہما رہ نظام شاید دنیا کا واحد نظام ہو گا جو صرف نقل اور چھپا ئی پہ مشتمل ہے ۔ہمارے یہا ں چودہ ،پندرہ سال اسمبلی کر واتے ہیں اور قطار میں کھڑاکرتے ہیں مگر جو نہی سکول ، کالج سے فارغ ہوتے ہیں قطار توڑ کے اپنا کام کر واتے ہیں۔ہم سا لہا سال بچو ں کو سو شل سٹڈی پڑ ھا تے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں جو ہو رہا ہے بتانے اور سمجھانے کے لئے کافی نہیں ہے کہ ہم کتنے سو شل ہیں کتنے سوشل ہو نا سیکھا ہے ۔ دنیا چا ند اور مر یخ پہ پہنچ رہی ہے مگر ہم ابھی تک ر ٹا سسٹم اور ازکار رفتہ نظا م تعلیم کو سینے سے لگا ئے سب اچھا کی رٹ لگا رہے ہیں ۔حا لا نکہ ایسا نہیں ہے۔ ہمیں سب کچھ ٹھیک کر نے کیلئے آج ہی بیٹھنا ہُو گا، سو چنا ہُو گا ،گزرے وقت کے متعلق جانچنا ہو گا کہ ہمارا نظام تعلیم ہماری ضرورت کے مطا بق ہے یا نہیں ہے ۔ہم آج تک کیو ں پیچھے ہیں یہ وہ ساری چیزیں ہیں جنکا از سر نو جا ئزہ لینا ہو گا اور پھر یہ طے کر نا ہو گا کہ ہماری کل آبادی کازیادہ حصہ بچے اور نو جوان ہیں ان بچو ں اور نو جو ان طبقے کو صرف اور صرف علم کی بدولت ترقی کی راہ پر گا مزن کیا جا سکتا ہے ہماری ترقی ،خوش حالی ، سلامتی کی سب را ہیں حرف تعلیم ہی کھول سکتی ہے اپنے تعلیمی نظام کو اپنے اداروں کو تر قی یا فتہقو مو ں کی صف میں لا نے کیلئے محنت کرنا ہو گی تعلیم سے بڑا پیداواری سیکٹر اور کو ئی نہیں ہے اپنے تمام انفرادی ،سماجی اور قو می مسائل کا حل صرف صرف اور صرف تعلیم کے فرو غ سے ہی حا صل کیا جا سکتا ہے۔ جھو ٹ کے اعداد و شمار کے بجائے حقیقی جہالت دور کر نے کی جتنی ضرورت آج ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ تعلیم ہمارے مزدور اور کسان کی پیدا واری صلا حیتوں کو کئی گنا بڑ ھا سکتی ہے ۔پیدا وار بڑے گی تو عوام کا معیار زندگی بڑے گا ،جہالت کا خا تمہ ہو گا ،تو ہم پر ستی مُلائیت، مذہبی فرقہ ورایت کا خاتمہ ہُو گا ، تعلیم ہو گی تو ہمارے ہاں صنعت فروغ پا ئے گی تعلیم سے ایک عام شہری کا معیار زندگی بہتر ہو گا ۔ہم پا کستا نی بھی دنیامیں چلنے کے قابل ہو نگے ۔عوام تعلیم یا فتہ ہو نگے تو سیاسی اور دوسرے بحرانوں کا خود بخود خا تمہ ہوجا ئے گا ۔قا نون کی ٹھیک معنو ں میں حکمرانی ہو گی ،شخصیت پر ستی ،آمر یت، فیو ڈل سوچ،بیورو کر یسی کی کرپشن پیشہ ور سیاسی خاندانوں کا خا تمہ ہو گا ۔ تعلیم یافتہ با شعور عوام کے سا منے حکمران قومی دولت کی لوٹ مار نہیں کر سکیں گے ۔یہ تب تبدیل ہُو گا جب ہم تہیہ کر لیں کہ ہم نے آگے بڑھنا ہے،جب آ گے بڑھنا ہے تو قدم بڑھانا ہوگا۔ جب قدم بڑھانا ہوگا تو پھر قدم اٹھانا ہوگا اور یہی وہ قدم ہے جو ہم نے آ ج کے دن تک نہیں اٹھایا مگر آ ج یہ قدم اٹھانا ہو گا اپنے لئے آنے والے روشن کل کیلئے۔۔۔ کیا خیال ہے آپ کا۔۔۔؟


ای پیپر