Gilgit-Baltistan elections
کیپشن:   گلگت بلتستان انتخابات سے متعلق تفصیلی رپورٹ سورس:   فائل فوٹو
24 نومبر 2020 (18:40) 2020-11-24

عزیز اللہ خان:

پاکستان میں گلگت بلتستان کی تیسری قانون ساز اسمبلی کے انتخاب کے غیر حتمی نتائج لگ بھگ سامنے آ گئے ہیں اور اب حکومت سازی کے لیے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف متحرک نظر آتی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھرپور احتجاج کا اعلان کر رہی ہیں۔گلگت میں پیپلز پارٹی کے سیاسی کارکن دھرنا دیے بیٹھے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ابتدائی جشن منانے کے بعد سیاسی جوڑ توڑ شروع کر دی ہے۔منگل کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز میں ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا جس میں ان انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی مذمت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس معاملے پر جلد ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پہلے ان انتخابات کے ان اہم واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جس وجہ سے یہ انتخابات ماضی کے انتخابات سے قدرے مختلف رہے ہیں۔ اس مرتبہ ان انتخابات میں ایک نیا رجحان دیکھنے کو ملا، یعنی خواتین کا بڑی تعداد نے گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالا۔ سکردو اور غذر میں خواتین رہنماؤں نے اپنی انتخابی مہم خواتین کے ساتھ مل کر چلائی جبکہ ایسی خواتین بھی سامنے آئیں جو مختلف علاقوں میں عورتوں کے لیے ووٹ ڈالنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی رہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے گانچھے میں ایک خاتون امیدوار آمنہ انصاری کو میدان میں اتارا اور وہ کامیاب بھی ہوئیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی سعدیہ دانش کو ٹکٹ دیا تھا۔ اس کے علاوہ سیاسی قائدین نے ماضی کے برعکس اس خطے میں کافی وقت گزارا اور اپنی اپنی انتخابی مہم چلائی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز شریف کے گلگت بلتستان جانے اور وہاں جلسے کرنے سے خواتین کو بھی حوصلہ ملا ہو گا۔شاید انھی وجوہات کی بنا پر رواں انتخابات میں بڑی تعداد میں خواتین ووٹرز باہر نکلیں۔

مقامی سینیئر صحافی شبیر میر کے مطابق مریم نواز شریف کے آنے کی وجہ سے خواتین کو ایسا لگا کہ وہ اس انتخابی مہم میں شامل ہو سکتی ہیں اور مریم نواز نے بڑے جلسے کیے جن میں خواتین بھی شریک ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ گلگت بلتستان میں ماحول سازگار تھا، کہیں سیاسی یا مذہبی کشیدگی کا واقعہ نہیں ہوا جس کے باعث خواتین کو پْرامن اور سازگار ماحول ملا اور انھوں نے انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ خواتین امیدواروں، جیسا کہ پی ٹی آئی کی آمنہ انصاری اور پیپلز پارٹی کی سعدیہ دانش نے جس طرح انتخابی مہم چلائی وہ کافی نمایاں تھی۔ شبیر میر کے مطابق سعدیہ دانش اس حلقے سے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر حصہ لے رہی تھیں جہاں مردوں کے لیے بھی انتخابات میں حصہ لینا مشکل ہوتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس حلقے میں ’خواتین کو ووٹ ڈالنے پر بھی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں، وہاں انتخاب میں حصہ لینا تو اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ سکردو سے مقامی صحافی موسیٰ نے بتایا کہ اس مرتبہ ماضی کی نسبت زیادہ خواتین باہر نکلیں لیکن بعض علاقے ایسے بھی رہے جہاں موسم کی شدت کی وجہ سے خواتین ووٹ نہیں ڈال سکیں۔ان میں سکردوں کا حلقہ تین کا ایک علاقہ گلتری شامل ہے جو سیاچن سرحد کے قریب ہے، یہاں سے شدید موسم کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کر جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سکردو میں ایسے گروہ سامنے آئے جو خواتین کو ووٹ ڈالنے کے لیے راضی کرتے رہے اور اس کے علاوہ خواتین کے انتخاب میں حصہ لینے کی وجہ سے بھی خواتین کا حوصلہ بڑھا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم کے دوران گلگت بلتستان میں رہنا وہاں جلسے کرنا، سڑکوں کے ذریعے ایک، ایک جگہ جانا لوگوں سے ملنا اور مقامی لوگوں کے مسائل پر بات کرنا، اس سب نے یہاں انتخابات کو زیادہ اہم کر دیا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ پیپلز پارٹی نے اگرچہ اب تک کے نتائج کے مطابق سیٹیں زیادہ حاصل نہیں کیں لیکن توقع سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں اور بعض حلقوں میں بہت کم فرق سے ہارے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا کردار بھی اہم رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سیاسی قائدین کی موجودگی کی وجہ سے اس مرتبہ میڈیا میں ان انتخابات کی بھرپور کوریج ہوئی ہے۔

گلگت بلتستان انتخابات 2020 کے نتائج اور حکومت سازی کے عمل پر جیتنے والے خوش اور ہارنے والے ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف حکومت سازی کے لیے کوشاں ہے لیکن جانب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز احتجاج کا اعلان کر چکے ہیں۔یہاں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ان انتخابات کے نتائج غیر متوقع ہیں اور کیا پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی مہم زیادہ موثر نہیں رہی اور کیا پیپلز پارٹی نے بھر پور انتخابی مہم چلائی جس سے اگرچہ پیپلز پارٹی کے زیادہ امیدوار کامیاب نہیں ہو سکے لیکن پی ٹی آئی کو زیادہ سیٹیں حاصل نہیں کرنے دی گئیں۔ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ اسلام آباد پر جس سیاسی جماعت کا راج ہوتا ہے وہی گلگت بلتستان میں حکومت بناتی ہے۔ لیکن اس مرتبہ پاکستان تحریک انصاف وہ کارکردگی نہیں دکھا سکی جو ماضی میں پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنے اپنے ادوار میں دکھا چکے ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج سامنے آ چکے ہیں جس میں پاکستان تحریک انصاف اگرچہ دیگر سیاسی جماعتوں سے زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی لیکن اتنی اکثریت نہیں ہے کہ تنہا حکومت قائم کر سکے۔ اس کے لیے پی ٹی آئی کو آزاد اراکین کی ضرورت ہو گی۔ پاکستان میں عام طور پر ہارنے والی جماعتیں دھاندلی کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں اور اس مرتبہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے غیر حتمی نتائج آنے کے بعد دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں بھرپور دھاندلی کی گئی تاکہ ان کی جماعتوں کو حکومت سازی سے روکا جا سکے۔ اگرچہ یہ دھاندلی کے الزامات کم ہی ثابت ہوتے ہیں لیکن اب تک پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ روز انتہائی جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر ممکن کوشش کے ساتھ اس پر آواز اٹھائیں گے۔

اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں اس کے تحت پی ٹی آئی نو نشستیں جیت چکی ہے جبکہ سات آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ پی پی پی تین اور مسلم لیگ نواز دو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ مجلس وحدت المسلمین کا ایک امیدوار کامیاب ہوا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ایک نشست پر جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک امیدوار دو نشستوں پر جیتے ہیں اور اگر وہ یہ سیٹ چھوڑیں گے تو پیپلز پارٹی کے دو امیدوار رہ جائیں گے۔اب پی ٹی آئی آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر حکومت سازی کے لیے تیار نظر آتی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعت احتجاج کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

گلگت بلتستان کے انتخاب اور نتائج کے بارے میں تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بظاہر پاکستان تحریک انصاف آزاد اراکین کے ساتھ مل کر حکومت قائم کر لے گی اور اس میں کوئی حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں وہی جماعت حکومت بناتی ہے جو اسلام آٓباد میں برسر اقتدار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بات ضرور ہے کہ ’پی ٹی آئی ماضی کے انتخابات میں برسر اقتدار جماعتوں کی نسبت کم سیٹیں جیت سکی ہے۔‘ ’پاکستان تحریک انصاف کی اس کارکردگی کی مختلف وجوہات ہیں۔ ان میں ایک تو گلگت بلتستان میں جماعت کی موثر تنظیم سازی نہیں ہے اور اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے بھرپور انتخابی مہم چلائی جس سے پی ٹی آئی کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا۔‘ سہیل وڑائچ نے بتایا کہ یہ توقع تو تھی کہ پاکستان تحریک انصاف جیتے گی لیکن کیا کارکردگی رہے گی یہ واضح نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ بلاول بھٹو زراری کی ’بھرپور انتخابی مہم اور اپوزیشن جماعتوں کے بڑے جلسوں کی وجہ سے پی ٹی آئی کو من مانی کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔‘

اگر ماضی کے انتخابات کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے تو  2009 کے انتخابات کے وقت اسلام آباد میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار تھی تو اس وقت گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی 12 سے 13 سیٹیں جیت کر کامیاب ہوئی تھی اور حکومت سازی کی تھی۔اس کے بعد  2015 کے انتخابات کے وقت پاکستان مسلم لیگ پاکستان میں برسر اقتدار تھی اس لیے گلگت بلتستان کے انتخابات میں مسلم لیگ نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور 15 سیٹیں جیت کر حکومت قائم کی تھی۔

اس سے پہلے  2004 کے انتخابات میں جب پاکستان میں فوجی آمر پرویز مشرف کی حکومت تھی تو اس وقت مسلم لیگ ق حکمران جماعت تھی جس وجہ سے مسلم لیگ ق ہی گلگت بلتستان میں کامیاب ہوئی تھی۔

اکثر تجزیہ کار پی ٹی آئی کی موجودہ کارکردگی کو  2004 کے انتخابات میں مسلم لیگ ق کی کارکردگی کے ہم پلہ قرار دے رہے ہیں۔ ماضی کے ان تمام انتخابات میں گلگت بلتستان کی سطح پر پاکستان تحریک انصاف کہیں نظر نہیں آئی، حالانکہ  2013 سے  2018 تک خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور مرکزی سطح پر پی ٹی آئی کا دعویٰ تھا کہ ان کا مینڈیٹ چھینا گیا۔ اس وقت بھی گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کہیں نظر نہیں آتی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں حکمران جماعت گلگت بلتستان کے انتخاب آسانی سے جیت جاتی ہے اور اس کی ایک وجہ لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکمران جماعت کی حمایت سے ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں جبکہ حزب اختلاف کی حمایت سے انھیں کچھ نہیں ملے گا۔اب پی ٹی آئی کی پاکستان میں کارکردگی بھی گلگت بلتستان کے لوگوں کے سامنے رہی ہے جس وجہ سے عام تاثر یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی رائے منقسم نظر آئی ہے کچھ کو یہ توقع کہ حکمران جماعت کی حمایت سے کچھ بہتری آ جائے گی اور کچھ یہ سوچتے رہے کہ کہ شاید پی ٹی آئی کی حکومت اب زیادہ چلنے والی نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر