PDM, political power shows, second wave, pandemic, PTI government
24 نومبر 2020 (13:02) 2020-11-24

اس سے پہلے دنیا کی بڑی طاقتوں کو فکر مندی نہیں تھی کہ انہیں 2020 کے ابتدائی مہینوں میں ایک ایسے مہلک وائرس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو نا صرف ان کی اکانومی کو تباہ کر دے گا بلکہ ان کی سیاست اور معاشرت کو بھی لے ڈوبے گا اور زندگی خوف اور ڈر میں گزارنا پڑے گی۔ ابھی تک اس کا جو علاج تجویز ہوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ دوسروں سے فاصلے کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھئے۔ ایسی زندگی اس وقت تک گزارنا ہے جب تک اس کی دوا سامنے نہیں آتی۔ امریکہ کے نئے ڈیموکریٹ صدر نے اپنی وکٹری سپیچ میں سب سے زیادہ زورکورونا سے نمٹنے پر دیا تھا۔ کیوں کہ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکہ ہے۔ اس لیے اسے علاج میں لیڈر کا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر 22 نومبر 2020 کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو دنیا میں اس وقت 58.2 ملین لوگ اس سے متاثر ہوئے ان میں سے 37.26 ملین لوگ صحت یاب ہوئے جبکہ 13.81 ملین لوگ اس سے مارے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان امریکہ کا ہوا ہے۔ اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 2 لاکھ 56 ہزار سے زیادہ ہے اور بھارت ایک لاکھ اور 33 ہزار کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے پھر برطانیہ، برازیل، فرانس روس اور دیگر ممالک آتے ہیں۔ پاکستان میں یہ تعداد 6 ہزار سے اوپر نہیں تھی۔ اب دو ماہ میں یہ تعداد بڑھ کر 7662 ہوئی ہے۔ جب اس بیماری کی پہلی لہر آئی تو اس وقت پاکستان کی مرکزی حکومت نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا تھا۔ دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماسک پہننے پر دلچسپ موقف لیا۔ جب کہ عالمی ادارہ صحت خبر دار کر رہا تھا کہ اس کی دوسری لہر اس سے بھی خطرناک ہو گی۔ اس وقت امریکی صدر نے اس بیماری کی آڑ لے کر انتخابی سیاست شروع کر دی انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ساری چین کی شرارت ہے یہ وائرس چین کی لیبارٹریز میں تیار ہوا ہے۔ مگر دنیا اور خاص طور پر عالمی ادارہ صحت صدر ٹرمپ کے موقف کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ دوسری لہر جوبن پر ہے مگر پاکستان کو اتنا بڑا خطرہ اب بھی نہیں ہے۔ پھر بھی احتیاط لازم ہے۔ دنیا یہی کہہ رہی ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں مؤثر ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال سے قبل دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث مرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ اموات تک پہنچ سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو امریکہ میں بڑی دلچسپ صورت حال ہے۔ وہاں کے انتخابات سے جو تنازع ابھرا ہے۔ اب وہاں بھی کیسز میں اضافے کے بعد امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ نیویارک امریکہ میں کورونا کی پہلی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر تھا جہاں وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد کورونا کے مثبت کیسز کی یومیہ شرح دو فی صد ہونے پر ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے اوائل میں ہی سکول کھولے گئے تھے۔ کورونا کی دوسری لہر میں شدت کے بعد متاثرین ایک ماہ قبل کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔ مریضوں اور اموات میں اضافے کو دیکھتے ہوئے کئی ریاستوں میں ایک بار پھر لوگوں کی نقل و حرکت اور کاروباری 

سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں دو ٹویٹ کیے ہیں۔ ایک ٹویٹ 19 نومبر کو اور ایک پندرہ نومبر کو جس میں اب بھی صدر ٹرمپ اپنے موقف سے پیچھے نہں ہٹے۔ 19 نومبر کو امریکہ کی آخری ریاست جارجیا کا نتیجہ بھی ڈیمو کریٹ امیدوار کے حق میں آ گیا اس کے باوجود انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ابھی جارجیا کی کاؤنٹیز میں ہزاروں ووٹ گننے باقی ہیں۔ اس صورت حال میں کیا امریکہ میں بھی پاکستان جیسا احتجاجی ماحول بننے جا رہا ہے کیونکہ 15 نومبر کو واشنگٹن ڈی سی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے صدر کی جانب سے عائد کیے گئے دھاندلی الزامات کے حق میں احتجاج کیا تھا امریکی نشریاتی ادارے 'فوکس نیوز' کے مطابق گالف کلب سے وائٹ ہاؤس واپسی پر صدر ٹرمپ ایک بار پھر اپنے حامیوں کے درمیان سے گزرے جنہوں نے صدر کو دیکھ کر ان کے حق میں نعرے بازی کی۔ اس سے قبل اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر نے کہا تھا کہ جس طرح ملک بھر میں لوگ ان کی حمایت کر رہے ہیں اور اپنے طور پر جلوس نکال رہے ہیں اس سے ان کا دل خوشی سے بھر گیا ہے۔ اس کے بعد پاکستان میں پولیس اور ریاستی جبر سے کورونا کے نام پر جمہوری آزادیاں چھینی جا رہی ہیں۔ خود وزیر اعظم پاکستان نے گلگت بلتستان کا الیکشن جیتنے کے لیے وہاں گئے اور بڑا مجمع اکھٹا کیا، اس کے بعد سوات میں پھر حافظ آباد اور فیصل آبا د میں اکٹھ ہوا۔ جب اپوزیشن کو کورونا سے ڈرایا جا رہا تھا تو اپنے ایک وزیر مراد سعید کو بھی وزیر اعظم ہاؤس سے روانہ کیا کہ وہ بھی جلسوں میں اپنی شعلہ نوائی کا مظاہرہ کریں عین اسی وقت اپوزیشن کو منع کیا گیا تھا۔ تحریک لبیک نے چند دن قبل جو مظاہرہ کیا تھا بہت بڑا تھا۔ خادم حسین رضوی مرحوم نے اپنی آخری تقریر میں اس کی حقیقت کھولی تو اس پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے الزام لگایا کہ ریاست نے ایک بار پھر سرنڈر کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ تحریک لبیک نے اپنا دھرنا لیاقت باغ راولپنڈی سے شروع کیا تھا، جو اتوار ہی کی رات فیض آباد، اسلام آباد پہنچ گیا تھا، جس کی وجہ سے انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی اور اس نے جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس بند کر دی تھی۔ دونوں شہروں میں ہونے والے کیمبرج کے امتحانات کو بھی اس کی وجہ سے ری شیڈول کیا گیا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے کئی بازار اور مارکیٹیں بھی بند رہیں جب کہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ کسی نے اس دھرنے کے شرکا کو کورونا سے نہیں ڈرایا۔ اچانک خادم حسین رضوی کے انتقال پر ان کے جنازے پر لاہور کی تاریخ کا نہ بھلانے والا یادگار اجتماع تھا۔ حکومت نے اس کے لیے جو حکمت عملی اپنائی وہ پی ڈی ایم کے جلسے جیسی نہیں تھی۔ حکومت کی جانب سے ایک پروپیگنڈ ا مہم چلائی گئی دوسری جانب سے بھی کرارا جواب تھا۔ پی ڈی ایم کا ایسے حالات میں جلسہ کر جانا بھی کسی طور پر ناکامی کی بات نہیں اہم بات تو یہ تھی کہ 22نومبر کو ہی دوپہر کے وقت جماعت اسلامی نے سوات میں جلسہ کیا جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم پر سنجیدہ الزامات لگائے ’’عوام کو موجودہ حکومت نے برباد کر دیا ہے، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ عوام نے ان کے خلاف احتجاج کیا تووہ استعفیٰ دے دیں گے۔ عمران خان نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے جھوٹ کو یو ٹرن کا نام دے دیا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نالائق ترین حکومت ہے۔ عمران خان نے کہا تھا پاکستان کو اسلامی ریاست بناؤں گا لیکن عمران خان نے اب تک مدینہ کی ریاست کی طرف کون سا قدم اٹھایا ہے؟۔‘‘ وہاں میاں نواز شریف کی والدہ کا لندن میں انتقال ہوا اس سے نواز شریف خاندان کی سیاست کو گہرا گھاؤ لگ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف اپنی والدہ کی تدفین میں شریک ہو سکیں گے یا نہیں؟ اگر وہ نہیں آتے تو ان پر یہ تنقید ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے والد صاحب کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے اس وقت یہ جواز تھا کہ وہ اس وقت جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ مگر اب بھی ان کے لیے تو حالات جلا وطنی جیسے ہی ہیں۔ پاکستان 


ای پیپر