Islamic Republic, Pakistan, ideological state, religion, Islam
24 نومبر 2020 (12:50) 2020-11-24

اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اورا س نظریے کی اساس دینِ اسلام پر قائم ہے اور اس کا آئین، قوانین، قواعد و ضوابط، روایات اور تہذیب و ثقافت کا خمیر بھی اسلامی تعلیمات سے ہی اٹھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات کہنا بے جا نہ ہو گا کہ برِ صغیر پاک و ہند کے تناظر میں جب بھی نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مراد صرف اور صرف دینِ اسلام ہی ہوتا ہے۔ کوئی اور ضابطۂ یا نظریۂ زندگی مراد نہیں ہوتا۔ تحریکِ پاکستان کے تمام ادوار میں یہ نعرہ انتہائی مقبول تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا ؟ جس کے جواب میں تمام مسلمان باہم مل کر ببانگِ دہل یہ کہتے تھے لا الہ الا اللہ جس کا منشا یہ تھا کہ مسلمانوں کی آبادی کے اکثریت والے علاقوں میں نئی قائم ہونے والی ریاست کا نظریہ دینِ اسلام ہو گا۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قائدِ اعظم محمد علی جناح اور مسلم لیگ کے تمام زعما اپنے خطابات میں اپنی تقاریر اورا پنی تحریروں میں یہی نقطہ نظر پیش کرتے رہے کہ مسلمانوں کے لئے بننے والا نیا ملک ناصرف اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہو گا بلکہ وہ مسلمانوں کو ایسا نظامِ حیات فراہم کرے گا جس کا پورے کا پورا خمیر اسلامی تعلیمات سے اٹھایا گیا ہو گا۔ نیز یہ ریاست مسلمانوں کو اسلامی احکام پر عمل کرنے کے احوال و مواقع فراہم کرتی رہے گی اور اس طرح نومولود ریاستِ پاکستان مدینہ کی توسیع اور ترقی یافتہ شکل ہو گی۔

جہاں تمام لوگوں سے ایک جیسا برتاؤ کیا جائے جہاں با اثر اور عام افراد میں فرق نہ روا رکھا جائے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آج پاکستان جس قسم کے مسائل کا شکار ہے ان سے نکلنے کا واحد حل بھی یہی ہے۔ اس امر میں دو رائے نہیںہو سکتی کہ انسان کو معاشی وسائل، سیاسی نظام اور تہذیبی و ثقافتی روایات کی ضرورت ہوتی ہے، جن کے مجموعے سے انسانی نظامِ حیات وجود میں آتا اور ترتیب پاتا ہے۔ لیکن یہ ضرورتیں تو سیکولر، لا مذہب اور مخلوط معاشروں میں بھی پوری ہو سکتی ہیں اور آج کرۂ ارض پر بیسیوں ممالک ایسے ہیں جو یہ اصول اپنا کر خوشحال اور مسرت اور طمانیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن اس حقیقت سے کبھی منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ مذہب، اخلاق اور حیا انسان بنیادی و حقیقی قدریں اور ضرورتیں ہیں۔ جن کی تکمیل کے لئے ربِ کائنات نے انبیاء اور رسولوں کا ایک جال بچھایا اورا نہیں اپنی نازل کردہ کتابوں اور صحیفوں کے ذریعے سے ایک ایسا نظامِ حیات فراہم کیا جو ناصرف انسان کی دینی اور اخلاقی ضرورتوں کی کما حقہ تکمیل کرتا ہے بلکہ اس کی روحانی قدروں کو بھی حیاتِ دوام بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے تحریکِ پاکستان کے دوران جب نظریہ پاکستان اور پاکستان کے قیام کی بات کرتے تھے تو وہ قومی نظریے کے معاشی اور سیاسی پہلو ایک عام دیہاتی مسلمان کو تحریکِ پاکستان کی طرف متوجہ نہیں کرتے تھے۔ البتہ جب ہم دینِ اسلام کی بات کرتے انہیں اس بات کی طرف متوجہ کرتے کہ مسلم لیگ کے جھنڈے تلے قائم ہونے والی نئی ریاست ناصرف اسلامی تعلیمات کے نفاذ اور ان پر عمل کرنے کا ایک مٔوثر ذریعہ بنے گی، تو تمام دیہاتی مسلمان اسلامی ریاست، پاکستان کے قیام کی حمایت کرتے۔

ان نکات سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان کا قیام درحقیقت ریاستِ مدینہ کی پیروی ہے جس میں اسلام کا سیاسی، معاشی، ثقافتی اور اخلاقی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔آج تک اس خطۂ زمین کو ریاستِ مدینہ کی درست شکل بننے نہیں دیا گیا، بلکہ بعض مفکرین اور پاکستانیات کے خود ساختہ ماہرین نے اس حقیقت کو خلط ملط کرنے کی کوشش کی اور بہت سے ایسے نکات اور آراء رائج کرنے کی جد و جہد کی جو ایک طرف تو نظریہ پاکستان کی سچی تعبیر پیش نہیں کرتی تو دوسری طرف ان کے پراگندہ خیالات سے 

پاکستان کی نئی نسل بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ آج پاکستان جن مشکلات کا شکار ہے ان کا بنیادی سبب نظریہ پاکستان سے انحراف، اسلام سے دوری اور دشمنانِ اسلام سے توقعات کی استواری ہے۔ پاکستان کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے لئے ہمیں پھر سے اس حقیقت پر عمل پیرا ہونا ہو گا کہ ریاستِ پاکستان ریاستِ مدینہ کے ماڈل کو سامنے رکھ کر عمل میں لایا گیا ہے۔ جس کا مقصد اس میں بسنے والے تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مساوی سہولتیں حاصل ہوں۔

ایک ہزار سال کی غلامی کی بھڑاس ہندوؤں کی روحوں پر طاری تھی۔ معاشی، معاشرتی اور اقتصادی معاملات میں مسلمانوں ہر عرصہ حیات تنگ کرنے کی سازشیں ہونے لگیں۔ ہندو ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو اپنے زیرِ اثر رکھنے کے لئے مشترکہ جد و جہدِ آزادی کی باتیں کرتے تھے تا کہ ا نگریز سے چھٹکارا پانے اور وطن کو آزاد کرانے کے لئے مسلمانوں کو استعمال کر سکیں اور پھر آزادی کے بعد محکومیت کی دوسری شکل میں ہندوؤں کے زیرِ اثر رہیں۔ جب کہ مسلمان غلامی کے فتنے سے نجات پا کر ایک دا رالسلام بنانا چاہتے تھے۔ وہ ایسے ذرائع کی تلاش میں تھے کہ وہ خدا کی زمین کو ایمان اور تقویٰ کا گڑھ بنا سکیں۔ ہندو مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے برعکس اجرامِ فلکی، بزرگوں کی روحوں اور بتوں کو خدائی صفات و اختیارات کا حامل سمجھتے تھے اور مانتے تھے کہ خدا نے ان کو اپنے مخصوص اختیارات میں شریک کر رکھا ہے۔ جب کہ مسلمان ایک ایسی ریاست کے خواہاں تھے جس کی کوئی پالیسی، طریقِ معیشت و معاشرت خدا کے فرمودات سے ہٹ کر نہ ہو ان کا عقیدہ تھا کہ ساری کائنات اور اس کی ہر شے اللہ کی اطاعت اور بندگی کے لئے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں صرف مسلمان ہی ایسے ہیں جن کو اس لفظ کے جدید ترین معنی میں قوم کہا جا سکتا ہے۔ ہندو اگر چہ ہر چیز میں ہم سے آگے ہیں مگر وہ یکسانیت اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتے جو ایک قوم کے لئے ضروری ہے اور جو اسلام نے آپ مفت میں تحفے کے طور پر عنایت کر دی ہے۔

حالیہ دنوں میں سابق امریکی صدر بارک اوباما نے اپنی کتاب میں جو انکشافات کئے ہیں وہ میرے خیال میں ایک بار پھر سے ناصرف برِ صغیر پاک و ہند میں دو قومی نظریے اور نظریہ اسلام کی توثیق کرتے ہیں بلکہ ہندوؤں کی تنگ نظری اور مسلم دشمنی کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ اپنی کتاب میں بارک اوباما لکھتے ہیں کہ بھارت بنیادی طور سے مذہب اور قوم میں بٹا ہوا ایک ملک ہے جو بد عنوان سیاسی عہدے داروں، تنگ نظر سرکاری افسروں اور سیاسی شعبدہ بازوں کی گرفت میں ہے۔ انتہا پسندی، جنونیت، بھوک، بد عنوانی، قومیت، نسلیت اور مذہبی عدم رواداری اس حد تک جڑ پکڑ چکے ہیں کہ کوئی بھی جمہوری نظام اس 


ای پیپر