Additional District, Sessions Judge, Dr. Sajida Ahmed, letter, LHC, Supreme Court judges
24 نومبر 2020 (12:41) 2020-11-24

میری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گا

سمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گا

آزادی کیا ہوتی ہے بحیثیت قوم اس کے ثمرات کا حصول تودرکنار چھو بھی نہ پائے۔آزادی سے پہلے کوئی ایک مثال نہیں کہ کسی عدالت کا فیصلہ چمک یا دھمک کے ذریعے ہوا ہو حالیہ دنوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والی خاتون ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ احمد نے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو لکھے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ عدلیہ کا حصہ بننے کی بجائے بہتر یہ ہوتا کہ وہ اپنے گائوں میں چوپایہ پالتیں اور اوپلے تھوپتیں؛ کیونکہ عدلیہ کا حصہ بننے کی وجہ سے انہیں ’’نام نہاد‘‘ وکلا کی گندی گالیاں اور توہین برداشت کرنا پڑتی ہے۔

یہ کہ اگر اسلام میں خودکشی حرام نہ ہوتی تو وہ سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے خودکشی کر لیتیں کیونکہ جج کی حیثیت سے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو روزانہ کی بنیاد پر گالیوں، توہین اور ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’’اگر مجھے عدالت میں خاتون جج کی حیثیت سے نام نہاد وکلا سے توہین اور گندی گالیاں برداشت کرنا ہیں تو میرے لیے بہتر تھا کہ میں اپنی زندگی کے پچیس سال اعلیٰ تعلیم کے حصول میں لگانے کی بجائے عام پاکستانی لڑکیوں کی طرح بیس سال کی دہائی میں شادی کر لیتی اور اپنے والدین کا قیمتی وقت اور پیسہ پندرہ سال تک اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم کے حصول پر برباد نہ کرتی۔

اچھا ہوتا کہ میں چوپائے کو چرانے کا کام کرتی، اپلے تھوپتی، اپنی کاشتکار فیملی کی مدد کرتی اور اسلام آباد کی روشنیوں کے بجائے پریشانیوں اور مصائب سے پاک زندگی گزارتی۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’اس عظیم پیشے کو غیر پیشہ ور افراد اور کالی بھیڑوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔

وکلاء کے عدالتوں اور پریزائیڈنگ افسر کی موجودگی میں عام عوام، پولیس والوں پر زبانی و جسمانی حملے معمول بن چکے ہیں، یہ سب کچھ آپ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’بدقسمتی ہے کہ ہم وکلا تحریک کے ثمرات کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے، قانون کی بالادستی کے عظیم مقصد کے حصول میں ناکام رہے اور ہمارا تشخص اس وقت دنیا نے خراب ہوتے دیکھا جب لاہور بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی (پی آئی سی) پر اس وقت حملہ کیا جب 

وہاں دل کے مریضوں کی جان بچائی جا رہی تھی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر ضلعی عدلیہ کی شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو ججوں کو سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ، یورپی کمیشن برائے ہیومن رائٹس، ایمنسٹی انٹرنیشنل ہیومن رائٹس واچ کمیشن، انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار مین اینڈ ویمن ججز، انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن آف لائرز میں درخواست دائر کرنا ہوگی جس میں پاکستان میں شرپسند وکلا کی کرتوتوں اور ججوں کیخلاف ان کی بدتمیزیوں کو نمایاں کیا جائے گا جو روزانہ کی بنیاد پر یہاں ہو رہا ہے بالخصوص پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ضلعی عدالتوں کا اصول ہے ’’عزت نہیں تو کام نہیں‘‘ انہوں نے کہا کہ جج صاحبان سب کو انصاف فراہم کرتے ہیں لیکن انصاف فراہم کرنے والوں کو کون انصاف دے گا۔

انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ضلعی بارز میں موجود گندے اور گھنائونے عناصر اور غیر پیشہ ور وکلاء کیخلاف تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 228 کے تحت اور توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔

کیونکہ ضلعی عدلیہ کے ججز جانتے ہیں کہ ان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے بجائے ان کے سینئر عہدیدار ان کی سرزنش کریں گے کہ آپ دانشمندی کے ساتھ مسائل کیوں نہیں حل کرتے یا پھر آپ کو اپنی عدالت سنبھالنا نہیں آتی؟ وغیرہ۔

سوال یہ ہے کہ ایسے غیر پیشہ ور وکلاء کیخلاف ریفرنسز اور شکایات پنجاب بار کونسل اور پاکستان بار کونسلز کو کیوں نہیں بھیجی جاتیں کہ ان کا لائسنس پریزائیڈنگ افسر کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بدتمیزی اور بدسلوکی کا جائزہ لیتے ہوئے عارضی یا مستقل طور پر معطل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا، جناب، یہ جرم عوام کیخلاف ہے کہ عدالت میں کسی جج کو گالی دی جائے، اسے دھمکایا جائے یا اسے عدالتوں میں مارا پیٹا جائے، تو آخر ایسے گھمنڈی وکلاء کیخلاف پٹیشن صوبائی اور وفاقی محتسب میں کیوں نہ بھیجی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ مقامِ کار پر ہراسگی کا کیس ہے۔انہوں نے پنجاب میں درجن سے زائد نوجوان جج صاحبان کی ہلاکت کا انکشاف بھی کیا ۔

اگر ہمیں اسی طرح وکلاء کی ڈانٹ ڈپٹ، گالیوں اور ذہنی و جسمانی ٹارچر کا سامنا کرنا ہے اور آپ ہمیں، ہمارے اور ہمارے خاندان کے وقار اور توقیر کو بچا نہیں سکتے تو ہم وہ تمام مراعات واپس کرنے کو تیار ہیں جو ہمیں دی گئی ہیں جیسا کہ گاڑی، لیپ ٹاپ، اضافی تنخواہ وغیرہ لیکن اس کی قیمت ہماری یا ہمارے خاندان کی عزت نہیں کیونکہ عدالتوں میں مرد و خواتین ججوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں مجبور ہوں، مایوس اور پریشان بھی کہ اپنی تعلیمی اسناد ایک ایک کرکے عزت مآب لاہور ہائی کورٹ کے سامنے نذر آتش کر دوں یا پھر احتجاجاً سپریم کورٹ کے سامنے تاکہ 23 کروڑ عوام میں خواتین کو اتنا حوصلہ ملے کہ اس عظیم قوم کی خدمت اس پیشے میں رہتے ہوئے کر سکیں جس کی اب قدر نہیں رہی۔

کسٹم، ایف آئی اے، نیب، اینٹی کرپشن سے وابستہ لوگ شکر ادا کرتے ہوں گے کہ وہ ماتحت عدلیہ کے جج نہیں ۔

دراصل وکلاء تحریک یا عدلیہ آزادی تحریک بھی سکرپٹڈ تھی جنہوں نے شروع کرائی وہ پرویز مشرف کا بوجھ نہیں اٹھاپا رہے تھے بعد ازاں انہی کے حکم پر گوجرانوالہ میں ایک فون کال نے بحال کرا دی مگر اس میں قوم نے کچھ نہ پایا البتہ وہ کھو دیا جو اب کبھی دوبارہ حاصل نہ ہو گا یعنی عدلیہ کا وقار وکلاء کی روایات! جب میں نے وکالت شروع کی تو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کا ماحول ایسا تھا آج چیف جسٹس کی عدالت کا بھی نہ ہو گا افتخار محمد ، ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس باقاعدہ پر فارمرز کا روپ دھار لیا۔پروٹوکول کے بغیر معمولی سا بھیس بدل کر ایک دورہ ماتحت عدلیہ کا بھی کر لیتے تو ان کو ان کی پرفارمنس کا پتہ چل جاتا۔ شاید کچھ لوگوں کا جج ہونا بھی توہین عدالت ہے مگر بدنصیبی ہے کہ ہمیں آزادی پتہ نہیں نصیب ہوئی کہ نہیں مگر خوف ہمارا مقدر بنا دیا گیا۔ ایوب خان سے لے کر اب تک خوف کا راج ہے۔ حکومتی سطح پر جمہوری ادوار میں اس میں کمی آئی اور وہ اس حد تک کہ خوف عوام کے بجائے عوام کی نمائندہ حکومتوں یا حکمرانوں کی طرف منتقل ہو گیا البتہ آج کی جمہوری حکومت کا معاملہ ایوب ، یحییٰ ، ضیاء اور مشرف سے مختلف نہیں ہے۔ 

جب عدلیہ ہی خوف میں ہوگی تو پوری قوم خوف میں مبتلا ہو گی۔ ڈاکٹر، کلرک، سرکاری ملازم، پنشنر، ایڈہاک ملازم تو خوف میں تھے ہی اس دھرتی پر اندھوں پر لاٹھی چارج کر دیا گیا اگلے روزنابیناؤں کے مطالبات کے لیے مظاہرے پر ڈی سی نے بھیک مانگنے کا مشورہ دیا جس پر نابیناؤں نے کہا ایسا کبھی نہیں کریں گے۔ ایسا مشورہ اس لیے آیا کہ  اس سے پہلے موٹروے خاتون سے زیادتی پر سی سی پی او نے اس کو موٹروے کے بجائے رات تین گھنٹے کا جی ٹی روڈ کا سفر اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ وطن عزیز میں کذابوں، قذاقوں، فاقوں اور جس کی لاٹھی اس کی 


ای پیپر