Nagorno-Karabakh, ceasefire, Russia, America, Azerbaijan, Armenia
24 نومبر 2020 (12:28) 2020-11-24

نگورنو کاراباخ سرحدی علاقے میں 43 دن تک جاری رہنے والی فوجی جھڑپوں کے بعد آذربائیجان اور آرمینیا ایک باہمی معاہدہ پر راضی ہو گئے ہیں۔ فائر بندی معاہدہ کے مختلف پہلو تفصیلی تجزیہ کے قابل ہیں۔ اس مضمون میں روس کی اپنے سابقہ ’’پچھواڑے‘‘ جنوبی قفقاز کی طرف واپسی سے متعلق پہلوؤں کا تذکرہ کیا جائے گا۔ 1990 کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، خودمختار کاراباخ خطے میں آذربائیجان کے آرمینین نسل کے باشندوں نے آزادی کا اعلان کر دیا لیکن آرمینیا سمیت کسی بھی ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ اس کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں آرمینیا نے ناصرف کاراباخ کے خود مختار علاقے پر قبضہ بلکہ آذربائیجان کے سات صوبے بھی زیرنگین کر لئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے چار قراردادیں منظور کیں جن میں آرمینیا سے مقبوضہ آذربائیجان کے علاقوں سے دستبرداری کی درخواست کی گئی لیکن آرمینیا نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔ آخرکار آذربائیجان اس حقیقت تک پہنچا کہ اپنے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے طویل المدت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی پر عمل کرنے میں 26 سال لگے۔ اس نے ایک تربیت یافتہ پیشہ ور فوج قائم کی، روس، امریکہ، ہندوستان، اسرائیل اور ترکی سے اسلحہ اور فوجی ساز و سامان خریدا اور محتاط رویوں کے ساتھ روس سے اشتعال انگیزی سے گریز کیا۔ اس نے امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات استوار کئے تو ترکی سے مسلح اور غیر مسلح ڈرون خریدے۔ فوج کے حوصلے بلند کرنے کے لئے اس نے ترکی کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کیں۔

جب آرمینیا نے آذربائیجان پر بلا اشتعال حملہ کر کے اسے جواب دینے کا بہانہ دیا تو اس نے فوجی آپریشن شروع کیا، ناقص طور پر لیس آرمینی فوج کو شکست دی اور مقبوضہ آذربائیجان کے تمام علاقوں سے آرمینیا کے انخلا کے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ روس کی اپنے سابقہ پچھواڑے جنوبی قفقاز میں واپسی کے معاملہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے، روسی صدر ولادی میر پوتن آرمینی وزیر اعظم کے طور پر نکول پیشیان کے انتخاب اور ان کی مغرب نواز پالیسیوں سے نالاں تھے۔ جب آرمینیا نے پوتن سے کولیکٹو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) کے تحت، جو ماسکو کا نیٹو طرز کا اتحاد ہے، آذربائیجان کی فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لئے کہا تو روسی رہنما نے اس بنیاد پر مداخلت نہ کرنے کا بہانہ بنایا کہ آذربائیجان براہ راست آرمینیا کی سرزمین پر حملے کر ہی نہیں رہا۔ آذربائیجان کی فوجوں نے آرمینیا کے زیر قبضہ اپنی تقریباً ایک تہائی اراضی کو آزاد کرانے کے بعد جب نگورنو کاراباخ کے خودمختار علاقے کے دارالحکومت اسٹیپنکارت (خانکنڈی) پر حملہ کیا تو روس نے کئی سال پہلے تیار کردہ لاوروف منصوبے پر عمل کا اعلان کر دیا۔ اس کے تحت مقبوضہ آذربائیجان کے علاقوں سے آرمینیا کو انخلا کی سہولت فراہم کی گئی، آرمینیا کو نگورنو کاراباخ راہداری استعمال کرنے اور ناکیچیوان کو آذربائیجان سے جوڑنے کے لئے اسی طرح کی راہداری کھولنے کی اجازت دی گئی۔ اس منصوبے میں آذربائیجان میں روسی افواج کی تعیناتی بھی شامل ہے تاکہ اس معاہدہ پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے۔ چنانچہ، جانے کے کئی سال بعد، روس اس معاہدے کا ثالث بن کر، آذر بائیجان لوٹ آیا ہے۔ اس پیچیدہ منصوبے نے بیک وقت کئی مسائل حل کر دیئے: اس نے دارالحکومت اسٹیپنکیرٹ کو مقبوضہ علاقہ میں تبدیل ہونے سے روکا، آرمینیائی فوج کو ایک بڑی شکست سے بچایا اور آذربائیجان کو اپنے کھوئے ہوئے علاقے واگزار کرانے کی اجازت دے دی۔ اس نے ترکی آذر بائیجان تعاون کو مزید مستحکم کیا کیونکہ ترکی کے فوجی مبصرین کو بھی نگرانی کے لئے تعینات کیا جانا تھا۔

لاوروف منصوبے نے کاراباخ مسئلے کے پائیدار حل کے لئے قائم کئے گئے منسک گروپ کے دیگر دو اراکین امریکہ اور فرانس کو بھی مات دے دی ہے۔ روس نے کاراباخ مسئلے کو حل کرنے کے بعد واشنگٹن اور پیرس کے نمائندوں کو ماسکو آنے کی دعوت دی تاکہ وہ یہ بتائے کہ اس مسئلے کو کس طرح حل کیا گیا جو تینوں ممالک 26 سال سے حل نہ کر سکے تھے۔ آذربائیجان میں روسی فوجی موجودگی ابتدائی طور پر پانچ سال کے لئے طے شدہ ہے لیکن فریقین میں اتفاق رائے سے اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب آذربائیجان میں غیر معینہ مدت کے لئے روسی موجودگی ہو سکتا ہے۔ ان جھڑپوں میں ہونے والے نقصان کی تفصیلات ابھی تک سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی جا سکیں لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ 5 ہزار سے زائد عام شہری اور فوجی ہلاک ہوئے۔ شہروں کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا ہے۔ آرمینی باشندے جنہوں نے شہروں کو خالی کرنا تھا وہ ان مکانوں کو آگ لگا رہے ہیں جن پر وہ تقریباً گزشتہ 20 سال سے قابض تھے۔ آذربائیجان کے متعدد صوبوں پر حملہ اور ان پر قبضہ کر کے، آرمینیا نے اس سے زیادہ کاٹ لیا تھا جتنا وہ چبا سکتا۔ آرمینین جیسے ہنرمند اور نفیس لوگوں کو حقیقت پسندانہ طور پر حساب لگانا چاہئے تھا کہ وہ کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اور فرانس آرمینیا کو اُکسا اور گمراہ کر رہے ہوں۔ امید ہے کہ وہ آرمینیا کو نئی مہم جوئی کی طرف دھکیلنے سے گریز کریں گے۔ اگر فائر بندی ہوتی ہے اور آرمینیا اپنے وعدے پورے کرتا ہے تو، آذربائیجان سب سے بڑا فاتح ہو گا، کیوں کہ اس نے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرا لیا ہے۔ دوسرا سب سے بڑا فاتح روس ہے جو اپنے سابقہ علاقے میں واپس آیا ہے۔ کاراباخ کا مستقبل ابھی تک غیر یقینی کا شکار ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ آذربائیجان کے زیرقبضہ ایک خودمختار علاقہ رہے گا یا نہیں۔ روس 


ای پیپر