Shortcomings, carelessness, nation, rulers, pandemic, dangerous
24 نومبر 2020 (11:50) 2020-11-24

یہ ہماری بد اعمالیوں اور ہماری ناشکری کی سزا ہے یا ہماری کوتاہیوں ، بے احتیاطیوں، لاپروائیوں اور قانون و ضوابط پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے یا ہمارے حکمرانوں کی بے تدبیریوں، بے نیازیوں اور عقل و دانش سے عاری پالیسیوں کا شاخسانہ ہے کہ کرونا  (کووڈ 19-) پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہو چکا ہے۔ اتوار کو ملکی سطح پر کرونا کے پھیلاؤ کے بارے میں جاری کردہ یہ اعداد و شمار ہماری آنکھیں کھولنے اور وبا کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (NCOC)کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران2843افراد کے کووڈ 19-ٹیسٹ مثبت آئے۔59افراد (حالیہ دنوں میں یہ سب سے بڑی تعداد ہے) جاں بحق ہوئے۔ 246کی حالت نازک ہے۔ کووڈ سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 3لاکھ 71ہزار 508ہے۔ اب تک صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 3لاکھ 28ہزار 931اور فعال کیسز کی تعداد 34ہزار 974ہے۔ جبکہ جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 7603بنتی ہے۔ ملک میں کرونا کے 2122مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں جن میں سے 246مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔ یہ اعداد و شمار یقینا تشویشناک ہیںاور ان سے صرف یہ ہی ظاہر نہیں ہوتا کہ کووڈ 19-کا وائرس کس حد تک خطرناک ہو چکا ہے  بلکہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کووڈ 19-سے متاثرہ افراد ، فعال کیسز اور جاں بحق افراد کی شرح میں کرونا کی پہلی لہر کے مقابلے میں کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ کووڈ 19-یا کرونا کی وباء کے اس وسیع تر پھیلائو کے حوالے سے کسی ایک طبقے، ادارے یا شعبے کو پوری طرح ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ اس میں ہم سب کا دامے ، درمے، سخنے اور عملاً کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی کا حصہ شاید کچھ کم ہو اور کسی دوسرے کا  سے زیادہ لیکن بری الذمہ کسی کو بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔  کیا یہ المیہ نہیں کہ وباء کے اس تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود ہم وہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس سے اس سے بچا جا سکتا ہے یا اس کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ بحیثیت قوم ہم نے اپنے دین کی تعلیمات کو بھلا رکھا ہے اور اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بحیثیت مسلمان کیا یہ ہمارا ایمان یا یقین نہیں ہے کہ اللہ کریم کے فضل ، کرم، رحمت اور اُس کو راضی کئے بغیر ارضی و سماوی آفات، بلاؤں، وباؤں اور آزمائشوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم اللہ کریم کو راضی کریں۔ اس کو راضی کرنے کے لیے 

انفرادی طور پر ہی نہیں اجتماعی طور پر بھی بلکہ بحیثیت قوم جہاں گناہوں اور لغزشوں کی معافی مانگنے اور توبہ استغفار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ہادی برحق سرورِکونین حضرت محمدﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے کہ یہی راہِ ہدایت ہے اور اسی میں ہماری نجات ہے۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم میں اللہ کے ایسے نیک بند ے موجود ہیں جو ہر لمحہ اپنے رب کو راضی رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم اس راہ کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آخر وہ وقت کب آئے گا جب ہم اجتماعی طور پر توبہ استغفار کرنے ، اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگنے اور رحمت العالمینﷺ کی شفاعت طلب کرنے کی راہ پر گامزن ہوںگے۔ ہمیں جان لینا چاہیے کہ اگر ہم نے مسائل ، مشکلات اور وباؤں سے نجات حاصل کرنی ہے تو اس کا پہلا مرحلہ  دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اپنے رب کو راضی کرنا ہے اور اس کے بعد کرونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے  اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی باری آتی ہے۔ 

کہا جا سکتا ہے کہ کرونا کی وباء ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔ امریکہ ، بھارت اور برازیل  وغیرہ اس سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔ وہاں اموات کی شرح بھی ہمارے ہاں کی اموات کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ یقینا یہ درست ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی درست ہے کہ ان ممالک میں اس وباء کے حوالے سے جو آگاہی پائی جاتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے جس طرح کے اقدامات کئے گئے ہیں یا احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں وہ بہرکیف ہمارے مقابلے میں زیادہ مؤثر، ٹھوس اور حقیقت پسندانہ ہیں۔ ہم امریکہ یا چین کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے آپ کو برطانیہ ، فرانس اور جرمنی جیسے یورپی ممالک کے ہم پلہ سمجھ سکتے ہیں۔ وہاں اس وبا کے اثرات اگر زیادہ ہوئے ہیں تو یہ نہیں ہوا کہ ایک لہر کے ختم ہونے یا کم ہونے کے بعد قومی سطح پر بے احتیاطی ، بے تدبیری اور ناشکرے پن کی وجہ سے دوسری لہر نے اس طرح زور پکڑا ہو۔ وہاں وباء نے زور پکڑا، لوگ اس کا شکار ہو کر موت سے ہمکنار ہوئے لیکن حکومتی سطح پر کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم محض حکومتی اقدامات کی بنا پر اس وباء کو دبانے میں کامیاب رہے ہیں یا ہو رہے ہیں۔ یہ ہم ہی ہیںجنہوں نے مارچ اپریل سے جون جولائی یا اگست تک پھیلی کرونا کی پہلی لہر کے کم ہونے یا دب جانے کو محض حکومتی اقدامات کی کامیابی کا نتیجہ قرار دیا اور یہ بھول ہی گئے کہ یہ ربِ کریم کا خاص کرم اوررحمت العالمینﷺ کی نظرِ کرم تھی کہ ہم اس وبا ء کی پہلی لہر کے زور کو توڑنے میں کامیاب رہے ۔ 

کرونا کی وبا ء کے پھیلاؤ کے اس دور میں  اجتماعی طور پر وباء کے پھیلاؤ سے جو بے اعتنائی ، بے رُخی، بے فکری اور لاپروائی برتی جا رہی ہے وہ کسی صورت میں بھی ایک ذمہ دار اور باوقار قوم کے شایانِ شان نہیں اور نہ ہی کوئی مہذب معاشرہ اس کی اجازت دے سکتا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ ہمیں اس کی ذرا پروا نہیں۔ حکومتی سطح پر مختلف طرح کے اعلانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر کی قیادت میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ہر روز کرونا کے پھیلاؤ کی تازہ ترین صورتحال کے بار ے میں Updatesاور اعداد و شمار بھی جاری کرتا ہے۔ زبانی کلامی تشویش کا اظہار بھی ہوتا ہے لیکن ایسے عملی اقدامات جو عام فہم ہوں اور ان پر پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہوا جا سکے وہ کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یقینا پوری قوم کا جس میں عوام کے مختلف طبقات ، حکمران، مقتدر حلقے ، حزبِ مخالف، سیاسی رہنما اور سیاسی جماعتیں وغیرہ سبھی شامل ہیں ان سب کا فرض بنتا ہے کہ وہ کرونا کے پھیلاؤ کی اس تشویشناک صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیرپر ممکنہ حد تک عمل پیرا ہوں۔ حکومت حزبِ مخالف کے اتحاد پی ڈی ایم سے تقاضا کر رہی ہے کہ وہ مختلف شہروں میں اپنے جلسوں کے انعقاد سے اجتناب کرے لیکن حزبِ مخالف کے راہنما حکومت کے اس تقاضے کو پرُکاہ  برابر اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ معقول بات یہ ہو سکتی ہے کہ حزبِ مخالف کے راہنما کرونا کے پھیلاؤ کے خطرے کا ادراک کرتے ہوئے بڑے عوامی اجتماعات کے انعقاد سے گریز کریںیا عوامی اجتماعات کے اپنے پروگرام میں تبدیلی لائیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اور حزبِ مخالف کی جماعتوں کے درمیان بد اعتمادی کی جو فضا بن چکی ہے اس میں کوئی بھی فریق کسی معقول بات کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کی ذمہ داری بڑی حد تک وزیرِ اعظم جناب عمران خان اور ان کے رفقا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مختلف مواقع پر حزبِ مخالف یا اپوزیشن راہنماؤں کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے ایسے  ہتک آمیز دعوے  اور اعلانات کرتے 


ای پیپر