Government, measures, pandemic, NCOC, WHO
24 نومبر 2020 (11:43) 2020-11-24

کرونا نے دوبارہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لینا  شروع کر دیا ‘دوبارہ لاک ڈائون کا خطرہ سروں پر منڈلانے لگا اور ہمارے عوام ابھی تک اسی بات پر مصر ہے کہ کرونا نہیں ہے۔ایک دفعہ پھر وہی چہ مگوئیاں سننے کو مل رہی ہیں‘جو کوروناکے شروع کے دنوں میں سنی گئیں۔کورونا کہاں ہے؟کوئی کورونا سے مرا؟ہسپتالوں والے بھی جھوٹ بولتے ہیں‘ہر مرنے والے کو کرونا کہہ کر باہر کے ملکوں سے پیسے لیے جا رہے ہیں،عمران خان یہ سب قرضے معاف کروانے کے لیے کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔عوام تو ایک طرف ہمارے اپوزیشن رہنما بھی اب کورونا کے بارے وہی رائے رکھتے ہیں‘جو عوام کی ہے ۔حکومت نے اپوزیشن سے گزارش کی کہ کورونا سے بچائو کے لیے کچھ عرصہ جلسے منسوخ کر دیے جائیں‘جس پر اپوزیشن دانشوروں کا کہنا تھا کہ ’’حکومت چونکہ پی ڈی ایم سے بوکھلا گئی ہے‘اس لیے کورونا کا شور ڈال رہی ہے تاکہ ہماری حق سچ کی آواز دبائی جا سکے‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ حکومت پی ڈی ایم کے رہنمائوں یا پی ڈی ایم کے حمایتیوں سے الجھے یا عوام الناس سے‘ایک بڑا چیلنج ہے جس کا بہرحال کوئی نہ کوئی حل درکار ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ہماری حکومت کا زیادہ قصور ہے‘کورونا کی لہر کچھ کم ہوتی گئی،ہمارے وزیر اعظم جلسوں‘کنونشنز اور تقاریب کے لیے نکل پڑے اور دوبارہ ’’سونامی آیا‘‘کا شور ڈالنا شروع کر دیا ‘اب حکومت کے نقشِ قدم پر اگر اپوزیشن نکل پڑی ہے تو شور کاہے کا؟۔اس کے علاوہ بھی اپوزیشن سے کسی اچھے کی امید نہیں کی جا سکتی‘انہیں لگتا ہے کہ حکومت کا ہر فعل اپوزیشن کے خلاف ہیں حالانکہ حکومت اتنی بھی فارغ نہیں کہ انہیں سوتے جاگتے پی ڈی ایم کے خواب آتے رہیں۔ جہاں تک سوال کورونا کا ہے تو اس وقت آپ مارکیٹوں سے لے کر ہوٹلز اور کارپوریٹ کلچر کے شاپنگ مالز تک دیکھ لیں‘کووڈ کی ایس او پیز پر عمل دس فیصد سے بھی کم لوگ کر رہے ہوں گے۔مجھے اِس اتوار لاہور کے کچھ شاپنگ مالز اور کئی اہم بازاروں میں جانے کا 

اتفاق ہوا‘جہاں جہاں تک نظر دوڑائی‘پانچ یا دس فیصد لوگ ہی ماسک میںنظر آئے۔ بالخصوص انارکلی بازار‘اچھرہ بازار‘اسٹیشن بازار اور شاپنگ مالز میں بھی صورت حال تقریبا ًایسی ہی تھی۔ایسے میں اگر حکومت دوبارہ لاک ڈائون کا کہتی ہے تو ہمیں شور نہیں مچانا چاہیے کیونکہ جب عوام ہر حکومتی ایس او پی کو ہوا میں اڑا دیں گے تو لاک ڈائون لازمی ہو جائے گا۔

اب یہاں معاملہ تعلیمی اداروں کا ہے‘جب بھی لاک ڈائون کی بات شروع ہوتی ہے ،بات تعلیمی اداروں تک پہنچ جاتی ہے۔تعلیم کا ویسے ہی ہمارے ہا ں اللہ حافظ ہے اور جو کسر رہ گئی تھی وہ کورونا لاک ڈائون نے پوری کر دی۔حالانکہ اگر ایمان داری سے دیکھا جائے تو پاکستان میں اگر کسی جگہ آپ کو کورونا کی مکمل ایس او پیز نظر آئیں گی تو وہ تعلیمی ادارے ہیں مگر عجیب بات ہے جب جب حکومت کو لاک ڈائون کا خیال آتا ہے ‘بات تعلیمی اداروں تک پہنچ جاتی ہے۔تعلیمی معاملے میں ویسے ہی ہم کس قدر پیچھے ہیںاور اگر اب لاک ڈائون لگا تو تعلیمی سطح پر ہونے والا نقصان اگلے کئی سال پورانہیں ہو سکے گا۔ حکومت کو چاہیے شاپنگ مالز سمیت تمام اہم اور مرکزی پوائنٹ بند کر دے لیکن تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے ساتھ چلنے دے‘تعلیم پر رحم کرے کیونکہ ’’سمارٹ سلیبس‘‘کی پالیسی تعلیمی بورڈز نے جاری توکر دی مگر اس کے نقصانات سے شاید وہ خود بھی آگاہ نہیں اور اگر دوبارہ لاک ڈون ہوتا ہے تو شاید ’’سمارٹ سلیبس‘‘ کو بھی مزیدسمارٹ کرنا پڑ جائے ۔کووڈ کا خطر ہ اس وقت سب سے زیادہ سیاسی جلوسوں‘مارکیٹوں اور شاپنگ مالز سمیت ہوٹلوں میں ہے مگر میرا ذاتی خیال ہے کہ اب ہمیں دوبارہ یا تو لاک ڈائون کی طرف جانے کے بجائے حکومتی ایس او پیز پر سختی سے عمل کرانے کا کوئی طریقہ اختیار کرنا ہوگا اور اگر ہمیں لگتا ہے کہ لاک ڈائون مسئلے کا واحد حل ہے تو کم از کم تعلیمی اداروں کو رعایت دی جائے‘اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حالیہ صورت حال میں صرف تعلیمی ادروں نے ہی کورونا ایس او پیز میں حقیقی معنوں میں عمل کیا ہے۔آپ کسی بھی ادارے میں چلے جائیں ‘آپ کو اساتذہ اور بچے مکمل ماسک اور سینی ٹائزر کے ساتھ نظر آئیں گے اور اس کا میں عینی شاہد ہوں لہٰذا تعلیم کا مزید ستیا ناس کرنے کے بجائے کوئی دوسرا آپشن تلاش کرنا ہوگا ۔پرائیویٹ ادارے بھی مزید لاک ڈائون کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، اس سے قبل بھی پانچ ماہ پرائیویٹ اداروں نے کیسے سروائیول کیا‘ہم جانتے ہیں اور ایسے میں ہمیشہ مارے استاد جاتے ہیں کیونکہ جب بچے فیسیں نہیں دیں گے تو ادارو ں کے مالکان عمارتوں کے کرائے اور اساتذہ کی تنخواہیں کہاں سے پوری کریں گے۔سو اس صورت حال کو بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کیونکہ صرف دھمکی لگا دینا کہ ادارے بند کر دیں‘مارکیٹیں بند کر دیں‘مسجدیں بند کر دیں ۔اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ہمیں اس کے برعکس کوئی مضبوط لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا ۔ایس او پیز پر عمل کرانے میں سختی بھی کرنا پڑے تو کریں کیونکہ یہ قوم سختی کے بغیر بالکل نہیں سمجھ سکتی۔پانچ ماہ کے لاک ڈائون کے بعد یہ قوم جب باہر نکلی تو اس کو دیکھ کر بالکل بھی نہیں لگتا تھا کہ اس ملک میں کبھی کورونا آیا بھی تھا یا نہیں۔عوام نے پانچ ماہ کی کسر ٹھیک طرح سے نکالی اور ماسک منہ پر پہننے کے بجائے جیبوں میں پہن لیے۔جہاں جہاں ضرورت پڑی ‘جیب سے نکالا‘وقتی طور پہ پہنا اور پھر اتار کے جیب میں ڈال لیایعنی ماسک منہ کے بجائے جیبوں میں پہنے جانے لگے۔سو ایسے عوام کو سمجھانا خاصا مشکل کام ہے۔مزید حکومت اگر کورونا کے بارے سنجیدہ ہے تو اپوزیشن کے جلسے اور تقریبات بند کرنے کے بجائے سب سے پہلے اپنے جلسوں اور کنونشنز پر پابندی لگائے تاکہ اپوزیشن پر رعب کسی کام آ سکے۔عوام جگہوں کو بھی مکمل بند کرنے کے بجائے سمارٹ لاک ڈائون کا راستہ اپنایا جائے تو معاملاتِ زندگی بھی چلتے رہیں گے اور کورونا سے بچائو مہم بھی جاری رہے گی۔ ہر چیز کو بند کرنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ کورونا سے ترقی یافتہ ملکوں کی بھی معیشت کی چیخیں نکل گئیں اور ہم تو بہت بعد 


ای پیپر