ایک ملاقات جونہ ہوسکی!
24 نومبر 2020 2020-11-24

مولانا خادم حسین رضوی کی اچانک رحلت نے پہلے سے اُداس دلوں کو مزید اُداس کردیا ہے، میں ماضی میں اُن کے زبان وبیان، اُن کے لب ولہجے، اُن کی کچھ پالیسیوں پر شدید تنقید کرتا رہا ہوں، میرا یہ خیال تھا، اب بھی یہی خیال ہے اور ہمیشہ رہے گا رسول پاک کی عزت پر پہرہ دینے کا بہترین طریقہ رسول پاک کی سنت پر عمل کا ہے، اُن کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کا ہے، مولانا خادم حسین رضوی اپنے مذہبی اور سیاسی مخالفین کے لیے جو زبان استعمال کرتے تھے، حتیٰ کہ گالم گلوچ تک اُترآتے تھے، مجھے اُس پر اعتراض تھا، آپ نے دین کو پھیلانے کے لیے لوگوں کو قائل کرنے کا ایسا طریقہ کار اپنایا تھا جو مولانا خادم حسین رضوی کے طریقہ کار سے بہت مختلف تھا، میں نے اِس حوالے سے کچھ کالم بھی لکھے، میرا خیال تھا بلکہ مجھے یقین تھا اپنے خلاف لکھے جانے والے یہ کالمزمولانا نے نہیں پڑھے ہوں گے۔میرے ایف سی کالج کے ایک شاگرد عزیز ثاقب ریحان اُن کے ”مرید“ تھے، ایک بار اُنہوںنے فون پر میری اُن سے بات کروائی، اُنہوں نے مجھے بتایا ” میں اِس وقت مولانا خادم حسین رضوی کے گھر اُن کے پاس بیٹھا ہوں، میں نے آپ کا ذکر چھیڑا، اور اُنہیں بتایا آپ ایف سی کالج کے اُستاد محترم ہیں، اُنہوں نے مجھ سے کہا ہے میری اُن سے بات کراﺅ“.... میںنے دووجوہات کی بناءپر اُن سے بات کرنے سے معذرت کرلی، ایک وجہ تو یہ تھی میں اُن کے دھرنوں کے دنوں میں اُن کے بہت خلاف لکھ چکا تھا سو میںیہ محسوس کررہا تھا مارے شرم کے میں اُن سے بات کرسکوں گا، دوسری وجہ یہ تھی میں یہ سوچ رہا تھا جو لب ولہجہ اپنی مختلف تقریروں میں اپنے مخالفین کے لیے وہ اختیار کرتے ہیں، میرے ساتھ بھی شاید اُسی لب ولہجے میں بات کریں، ظاہر ہے یہ میرے لئے ناقابل برداشت ہوتا، ایک تلخی کی توقع میں اپنے شاگرد عزیز ثاقب ریحان کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے میں نے عرض کیا ”میں کسی روز آپ کے ساتھ مولانا کی خدمت میں حاضر ہوجاﺅں گا، آپ فون پر میری اُن سے بات نہ کروائیں“ ....ثاقب ریحان نے میری پوری بات سنے بغیر اپنا موبائل فون مولانا کو پکڑا دیا، مجھے حیرت ہوئی مجھ سے بات کرتے ہوئے اُن کا لب ولہجہ اُس سے بالکل مختلف تھا جس کی توقع میں، میں اُن سے بات کرنے سے گریزاں تھا، اُنہوں نے ”حضور“ کہہ کر مجھے مخاطب کیا، حال احوال پوچھنے کے بعد فرمانے لگے ”دھرنے کے دنوں میں، میں نے آپ کے تمام کالمز پڑھے ہیں، آپ کا نقطہ نظر ہے، میں اُس کی قدر کرتا ہوں، مجھے پتہ چلا آپ اُستاد ہیں، صحافت آپ کا ”کاروبار“ نہیں آپ کا مضمون ہے جوآپ پڑھاتے ہیں، میرے دل میں اُستاد کی بڑی عزت ہے، یہ انبیاءکا پیشہ ہے، آپ کی کسی بات، کسی جملے کسی تحریر سے اختلاف کی ہزار گنجائشیں نکلتی ہوں، پر ایک اُستاد کی حیثیت سے آپ کا جومقام ہے ہمیں اُس کی قدر ہے، یہ ہمارا دینی واخلاقی فرض ہے“....میں اُن کے اِس طرز گفتگوسے بڑا متاثر ہوا، مختلف جلسوں اور دھرنوں میں جتنا میں نے اُنہیں سنا، مجھے لگا میری ایک بہت مختلف شخص سے بات ہورہی ہے، بلکہ سچ پوچھیں ایک لمحے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا میرا شاگرد عزیز ثاقب ریحان، مولانا خادم حسین رضوی کے بجائے کسی اور سے میری بات کروارہا ہے، میں نے مولانا سے کہا ” میں کسی روز آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا“.... وہ فرمانے لگے ”آپ ہمارے لیے باعث عزت ہیں، آپ ایک اُستاد ہیں، آپ نے کیوں حاضر ہونا ہے، میں خود کسی روز آپ کے پاس حاضر ہوجاﺅں گا“.... میراخیال تھا یہ بات اُنہوں نے بس ایسے ہی رسماً کہہ دی ہے، جیسے ہم ہرکسی سے کہہ دیتے ہیں، چندروز ہی گزرے تھے مجھے ثاقب ریحان کی کال آئی، وہ مجھ سے کہنے لگے ”آج مولانا خادم حسین رضوی صاحب نے مجھے فون کیا ہے، مجھ سے کہا ہے ”میں نے آپ کے اُستادمحترم توفیق بٹ صاحب سے وعدہ کیا تھا کسی روز اُن کے پاس حاضر ہوں گا، پتہ کریں آج اگر وہ لاہور میں ہیں، زیادہ مصروف نہیں ہیں، ہم چند لمحے اُن سے مِل آتے ہیں“.... میری بدقسمتی اُس روز جاپان کے لیے میری فلائیٹ تھی، میں ایئرپورٹ پر جانے کے لیے تیار بیٹھا تھا، ....میں نے ثاقب ریحان سے مولانا کا موبائل فون نمبر لیا، اُنہیں بتایا میں آج جاپان جارہا ہوں، واپس آتے ہی ان شاءاللہ آپ کو خود مدعو کروں گا“....اُنہوں نے دعا دی اور فون بند ہوگیا، میں جب جاپان سے واپس آیا، اِک روز میں نے اُن سے ملنے کا ارادہ کیا، مجھے اُن سے براہ راست رابطہ کرنا اچھا نہیں لگا۔ میں نے اُن کے مرید اوراپنے شاگرد عزیز ثاقب ریحان کو کال کی، انہوں نے بتایا ”مولانا کی طبیعت کچھ ناساز ہے، وہ ان دنوں گھر سے باہر نہیں جارہے، نہ زیادہ لوگوں سے مِل رہے ہیں، آپ کہتے ہیں میں اُن سے پوچھ لیتا ہوں، اگر اُن کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی میں ایک دودنوں تک اُن کو آپ کے پاس لے آﺅں گا“....میں نے ثاقب سے وعدہ لیا، کچھ دنوں تک اُن کی طبیعت مکمل طورپر ذرا سنبھل جائے آپ نے اُنہیں میرے پاس نہیں لے کر آنا، مجھے اُن کے پاس لے کر جانا ہے، یہ بات آپ نے اُنہیں نہیں بتانی، ہم بس اچانک اُن کے پاس پہنچ جائیں گے“....ثاقب ریحان نے مجھ سے وعدہ کیا ایسے ہیہوگا، پھر ہوا یہ ثاقب کو خود اپنے کسی کاروباری سلسلے میں کوریا جانا پڑ گیا، کچھ دنوں بعد وہ پاکستان آئے کورونا پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا، مولانا کے ساتھ دونوں اطراف سے پوری کوشش کے باوجود نہ ہوسکی ....جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا اُن کی کچھ باتوں سے مجھے شدید اختلاف تھا، خصوصاً اُن کی شخصیت میں جو سختی تھی بعض اوقات تکبر کے مقام کو چُھورہی ہوتی تھی، اکثر یوں محسوس ہوتا تھا آپ اُن کی کسی بات سے اختلاف کریں گے وہ اُس کا جواب صرف گالی یا تھپڑ سے ہی دیں گے، پر اس کے ساتھ ساتھ میں اُن کی شخصیت سے جُڑی ہوئی اِس حقیقت کا معترف بھی تھا وہ ایک دلیر آدمی تھے، اپنی بات، اپنا مو¿قف بغیر کسی لگی لپٹی کے اس انداز میں بیان فرمادیتے تھے جو اِس منافقانہ دور یا معاشرے میں یقیناً ایک مشکل عمل ہے، کچھ لوگوں کا خیال تھا کوئی ادارہ اُنہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، اِس حوالے سے حقائق اللہ ہی جانتا ہے، پر آخری دنوں میں اپنی تقریرمیں اچانک یہ جو اُنہوں نے کہہ دیا ”پھر ہم بھی کسی جمعہ میں بتادیں گے ہمیں فیض آباد کون لایا تھا “ اِس سے شکوک وشبہات مزید بڑھ گئے، اب چونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے یہ راز شاید کبھی نہ کھل سکے، ویسے بھی کچھ رازوں کو راز ہی رہنا چاہیے، مولانا کی اچانک رحلت بھی ایک راز کی طرح ہی محسوس ہوتی ہے، میرا دُکھ یہ ہے میری اُن سے ملاقات نہیں ہوسکی، ممکن ہے میں ان سے مل لیتا اُن کے خلاف لکھے ہوئے الفاظ مجھے واپس لینا پڑ جاتے۔ (جاری ہے)


ای پیپر