غلط نگر یا غلط نگاہ 
24 نومبر 2020 2020-11-24

 میں سوچ رہا تھا ، کہ صوفی حمید جوکہ صوفی کہلانے کے باوجود داڑھی کی بجائے مونچھیں رکھتا ہے، لیکن کہلاتا صوفی ہے، وہ موجودہ حکومت سے کس قدر مماثلت رکھتا ہے، صوفی حمید کے ساتھ کی ایک مثال اور بھی میرے سامنے ہے، ٹھیکیدار منظور بھی نماز کبھی بھی نہیں پڑھتا، مگر حج نہ کرنے کے باوجود نجانے کیوں حاجی کہلاتا ہے، قارئیں ان دونوں کی مثال بالکل سچ ہے، اور میں دونوں کوذاتی طورپر جانتا ہوں۔ صوفی حمید کولوگ صوفی کیوں کہتے ہیں، اُس کی وجہ یہ ہے، کہ واجبی سی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود کتب بینی اور خصوصاً تصوف اور اُولیا اللہ کی کتب کا مطالعہ کرنا اس کا محبوب مشغلہ ہے، بابا بلھے شاہؒ ، میاں محمد بخشؒ اور حضرت سلطان باہوؒ کا عارفہ کلام اسے ازبر یاد ہے، حتیٰ کہ بہت سے بزرگان دین کے اقوال ، شریعت، طریقت اور معرفت کے رموز اور اسرار الٰہی کے حجابات، تصوف کے معاملات، فقرااور درویشوں کی درویشی کی وجوہات اور فرقہ ملامیت سے لے کر چاروں سلسلوں کے اماموں کے عقائد وغیرہ پر وہ گھنٹوں بات کرسکتا ہے۔ 

لیکن مقام افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں رچا بسا تضاد اس کے کردار میں بھی اس طرح سے سرایت کرگیا ہے کہ اس کے لیے اس پرانہ سالی میں اس سے اجتناب اور فرار ممکن ہی نہیں رہا، جب جب وہ مجھ سے ملنے آیا، اور باتوں باتوں میں، میں اُسے انہیں اسراررموز کی طرف لے گیا ، تو اس نے اپنے مرشد کا نام بڑی عقیدت واحترام اور محبت کے ساتھ لیا، اور مجھے بتایا کہ خواب میں اکثر حقیقتیں اس پر آشکار ہوجاتی ہیں، اور یہ سب میرے مرشد کی عنایت ہے، نیز یہ کہ میرے مرشد ہروقت حالت جذب میں رہتے ہیں۔ میں نے اپنے روایتی تجسس پن کامظاہرہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا، کہ کہیں وہ بزرگ نشہ تو نہیں کرتے؟ تو اس سے بڑی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے جواب دیا، کہ وہ بھنگ اور چرس کا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ فکر وتدبر اور سوچ وبچار کیلئے یہ بڑا ضروری ہوتا ہے، جیسے اکثر شاعر شراب پیتے ہیں یہ سن کر میں حیرت اور پریشانی کے سمندرمیں ڈبکیاں کھانے لگا، مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر حمید بولا اب آپ میرے سوال کا جواب دیں، کہ اذان کے بعد دعا کیوں مانگی جاتی ہے، کہ اے اللہ رسول پاک کو مقام محمود عطا فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے۔ 

حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تو ان سے وعدہ کیا ہوا ہے، اور مقام محمود تو رسول خدا کو ملنا ہی ملنا ہے، میں چونکہ صوفی حمید کی نشے کے حق میں کی گئی تقدیرسے نالاں تھا، میں نے اس کے سوال کو سنا ان سنا کردیا اور اسے کہا کہ قرآن شریف میں آیا ہے، ایمان والو تم نماز مت پڑھا کرو، جب تم نشے کی حالت میں ہو۔ 

صوفی حمید فوراً بولا آپ نے دیکھا، کہ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ کہہ رہا ہے کہ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو، اس کا مطلب ہے، کہ نشے والے ہیں تو ایمان والے، اس کے جواب میں، میں نے لاکھ دلیلیں دیں کہ اس وقت سارا عرب نشے کی لت میں بڑی بری طرح مبتلا تھا، اور ہر گھر میں شراب کے کھڑے اور مٹکے ہوتے تھے، یہ تو اسلام کے افکار اور احکامات کی روشنی اور اس کا اعجاز ہے ، کہ کفر کی ظلمتوں کو ایمان کے نورسے اللہ تعالیٰ نے منور کردیا۔ اللہ کے رسول اور ان کے خلفا کے راشدینؓ کے بعد ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ قرآن کے الفاظ اور معانیٰ کو ہم بڑی دانستگی اور دلیری سے اپنی منشا اور مرضی کے مطابق ڈھال لیتے ہیں، اور یہی کام یہودی علما پیسے کے لالچ اور ذاتی طبع کی خاطر بے دریغ ہوکر کرلیتے تھے، جس کو اللہ تعالیٰ نے شدید ناپسند فرمایا ہے۔ 

موجودہ دور میں بچوں کو اپنی جائیداد سے عاق کردینا، حلالہ، متعہ، نماز، اذان وغیرہ بے شمار ایسے موضوعات ہیں کہ جس میں امت نے احکامات سے روگردانی کرتے ہوئے یکساں مو¿قف نہیں اپنایا اور غلط نگر سمجھ کر نگاہ غلط تک نہیں ڈالی لیکن کچھ عرصہ پہلے ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سیاسی مفادات، اور مراعات کے حصول کیلئے فرقے اور تفرقے ختم کرکے نہ صرف وہ ایک ہوگئے تھے، بلکہ انہوں نے خداکا شکر ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں بھی پڑھنی شروع کردی تھیں۔ شاید عنقریب اس کا دوبارہ قوم مظاہرہ دیکھے گی ہمارے معتبر علمائے کرام، اور مشائخ عظام اگر خلوص نیک نیتی اور جذبے کے تحت ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر امت محمدیہ کو یکجا کرنے اور ان میں اتحاد واتفاق پیدا کرنے کی سعی کریں، تو کوئی ہے نہیں کہ وہ اس نیک مقصد میں کامیاب نہ ہوسکیں مگر کچھ علماءہرحکومت کے ترجمان بن کر مراعات لینے کے عادی ہیں لیکن اگر اقتدارکے پجاری، حکومتی دربار میں اپنے وقار اور انا کے برعکس حکمرانوں کے حق میں نعرے بازی شروع کردیں، تو ان سرکاری علماءکے معتقدین اور ان کے مریدین ان سے کیا سبق حاصل کریں گے۔ چھوٹی برائی، اور بڑی برائی کی ڈھال کے پیچھے وہ اپنی مقصد برادری کے حصول میں ایسے ہی مصروف رہیں گے۔ 

معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے خاتمے کے لیے ہمارے دینی راہ نماﺅں نے عملی طورپر کیا اقدامات کیے ہیں، اسلام کے واضح احکامات کے مطابق انہوں نے برائی کو قوت بازو سے روکا، ہمارے معاشرے میں خیبر سے کراچی تک نوجوان نسل جس پر ہمارے وطن عزیز کے مستقبل کا دارومدار ہے پوری کی پوری اس طرح سے ڈوبی ہے کہ اس سے ایک رپورٹ کے مطابق مردانہ اور نسوانی درس گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ 

اب تو ایسے لگتا ہے کہ ہم سب برائی کو دل سے برا نہیں کہتے، اور محض یہی وجہ ہے کہ ہم نشہ کرنے والوں اور بے نمازیوں کو اپنا پیر بنا لیتے تھے، اور خدا کی دی ہوئی عقل کو استعمال میں نہ لاکر خود سپردگی کی حرکت کا بھی ارتکاب کربیٹھتے ہیں۔ عوامی اور ذاتی بے راہ روی اپنی جگہ قابل مذمت ضرور ہے ۔ لیکن روز قیامت ان سے بازپرس ضرور ہوگی، کہ جنہوں نے امت کی سدھار کا بیڑہ اٹھا کر نعرہ مستانہ لگاکر دعویٰ بھی کیا تھا، مگر عملی طورپر اس سلسلے میں بھنگ، چرس، افیون کوکین، آئس، ہیروئن اور بانڈ میں ڈوبی قوم کو نکالنے کیلئے عملی طورپر کچھ بھی نہ کرسکے۔ علی ہجویریؒ فرماتے ہیں، کہ نفس کی مثال شیطان کی سی ہے اور اس کی مخالف عبادت کا فرمان ہے اور حضرت علامہ اقبالؒفرماتے ہیں 

غلط نگر ہے تیری چشم نیم باز اب تک 

تراوجود تیرے واسطے ہے راز اب تک


ای پیپر