پنجاب میں انتظامی بحران پر قابو پاناضروری
24 نومبر 2020 2020-11-24

ایک طرف تو وزیر اعلیٰ پنجاب پر براہ راست تقرریوں اور تبادلوں پر کرپشن کے الزامات کا وزیر اعظم کو دفاع کرنا پڑرہا ہے دوسری جانب وزیراعظم کے احکامات اعظم خان کے ذریعے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے تمام کمشنرز کو جاری کر دئیے گئے ہیں کہ نہ صرف اراکین اسمبلی بلکہ ٹکٹ ہولڈرز عہدیدران پی ٹی ائی سے مستقل بنیادوں پر ملاقاتیں کریں اور انکے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کریں تو دوسری جانب آئے روز کی اکھاڑ پچھاڑ سے اور نیب کے خوف نے بیوروکریسی کو بدظن کردیا ہے جس کی وجہ سے تاحال پنجاب میں انتظامی بحران ہے .سول وپولیس افسران کا من مرضی کی پوسٹنگ لینا اہم بات نہیں ہے البتہ اسکے باوجود پرفارمنس نہ دینا اہمیت کا حامل ہے . پنجاب میں گڈ گورننس کا دعویٰ اور وسیع پیمانے پر ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ ایک دوسرے کے متضاد ہیں .نہ تو عوام کے بنیادی مسائل حل ہورہے ہیں نہ تعمیرو ترقی ہو رہی ہے تو بیوروکریسی میں اضطراب کیا حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہے جس کا یہ عالم ہے کہ صوبائی وزیر مراد راس اپنے محکمے کی سیکرٹری سارہ اسلم کے تبادلے سے لاعلم پائے جاتے ہیں بلکہ وہ اس تبادلے کی وجہ سے اپنے ہی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے نالاں ہیں زرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر مراد راس کی اپنے ہی محکمے کی تبدیل ہوجانے والی سیکرٹری سے انتہائی قربت ہے اورسارہ اسلم بھی اپنے تبادلے پر مراد راس سے شکوہ کررہی ہیں کہ آپ کے ہونے کے باوجود میرا تبادلہ کردیا گیا .بیورو کریسی میں سیاسی مداخلت اتنی زیادہ ہے کہ وزیر اعظم بھی اس کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں کیو نکہ وہ خود پنجاب میں براہ راست مداخلت کرتے ہیں خواہ سی سی پی او لاہور کی تقرری کا معا ملہ ہو وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہیں تو بیورو کریسی بھی اپنے مراسم کا خوب استعمال کرتی ہے.شنید ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ پنجاب مومن آغا جو پہلے سیکرٹری اطلاعات پنجاب بھی پرفارم کرچکے ہیں انہیں وزیر اعظم وفاق میں ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات و نشریات لگا کر سیکرٹری انفارمیشن کا چارج بھی سونپنا چاہتے تھے کیونکہ انکو بریف کیا گیا تھا کہ شہباز دور میں مومن اغا انتہائی فعال سکرٹری اطلاعات رہ چکے ہیں اور انکا اس میں وسیع تجربہ ہے مگر کچھ وجوہات کی بناپر ایسا ممکن نہیں ہو سکا .اور یہ معا ملہ تاحال زیر التوا ہے .جبکہ پنجاب میں ہی تعینات سیکرٹری پرائمری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر) عثمان ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کے لئے موزوں سمجھے جا رہے ہیں لیکن وہ سیکرٹری ٹو سی ایم کیلئے کوشاں ہیں کیپٹن (ر) عثمان اپنے تبادلے کے بعد اپنی سابقہ سیٹ پر اپنے منظور نظر لگوانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جس کی بڑی مثال پنجاب فوڈ اتھارٹی میں عرفان میمن کی تقرری ہے اب کیپٹن (ر ) عثمان چاہتے ہیں کہ ان کے تبادلے کے بعد نور الامین مینگل کو سیکرٹری پرائمری ہیلتھ کیئر لگا یا جائے لیکن بلوچستان حکومت نورالامین مینگل کو ریلیو نہیں کررہی نورالامین مینگل انتہائی منجھے ہوئے بیوروکریٹ سمجھے جاتے ہیں وزیراعلیٰ©© پنجاب کو چاہیے انکے ماضی میں محکموں کو فعال کرنے کا تجربہ رکھنے کی وجہ سے کسی اہم ٹاسک پر تعینات کرنا چاہیے اسی طرح سیکرٹری خزانہ عبداللہ سنبل کا نام بھی سیکرٹری ٹو سی ایم کیلئے زیر غور ہے.جبکہ ائندہ چند روز میں چیئر مین پی اینڈ ڈی حامد یعقوب شیخ اور سیکرٹری ہاﺅسنگ نصراللہ کو پنجاب بدر کیے جانے کا امکان ہے .سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب ارم بخاری سے وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں انتہائی نالاں ہیں اور اس وجہ سے ان کو بھی تبدیل کرکے وفاق بھجوایا جاسکتا ہے .اگر بات کریں پولیس کی تو یہ صورتحال ہے کہ سی سی پی او لاہور نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان اور ڈی آئی جی اپریشن اشفاق خان کی تبدیلی کے لئے آئی جی پنجاب کے ذریعے سمری حکومت پنجاب کو بھجوا دی مگر ایس اینڈ جی اے ڈی نے شہزادہ سلطان کو حال ہی میں وفاق سے پنجاب واپس لانے اور اشفاق خان کو حکومتی پالیسی کے مطابق عرصہ پورا نہ ہونے پر صوبہ بدر کرنے سے انکار کر دیا ہے ائی جی پنجاب انعام غنی نے ایک سمری صوبہ بدری کی اور بھجوائی جس میں سی پی او راولپنڈی احسن یونس۔سی پی او فیصل اباد کیپٹن (ر)سہیل آر پی او سرگودھا افضال کوثر اور ار پی او بہالپور شامل تھے ان تمام افسران کو وزیراعظم عمران خان کی دس سالہ تعیناتی پالیسی کے مطابق پنجاب بدر کرنے کی جس پر یہ افسران من وعن پورا اترتے ہیں مگر اپنے مضبوط تعلقات کی بنا پر نہ صرف پچھلی حکومتوں بلکہ موجودہ حکومت کو بھی زیر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور یہ سمری بھی مسترد ہوگئی ہے اب اگر پنجاب پولیس کا سربراہ بھی اپنی مرضی کے مطابق افسر کی ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں کراسکتا تو نتائج کیسے حاصل کرے گا اور صوبے میں گڈ گورننس کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوگا ۔


ای پیپر