تبدیلی کے اشارے، ہوائوں کا رخ
24 نومبر 2019 2019-11-24

چیئرمین نیب نے رواروی میں پتے کی بات کہہ دی کہ ’’ہوا کا رخ بدلنے لگ گیاہے۔‘‘ ان کی بات سن کر کسی دل جلے نے گرہ لگائی۔ ’’کہ وہ سب سے الجھنے لگ گیا ہے‘‘۔ شعر مکمل مگر یاروں نے بال کی کھال نکالنی شروع کردی۔ ہوائوں کے رخ کا تعین کرنے لگے۔ کیا واقعی تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں کیا گرین سگنل مل گیا ہے؟۔انگلی اٹھنے یا انگلی سے اٹھانے کا رواج ختم ہوگیا۔ غالب نے بڑے دکھ کے ساتھ محبوب کے دروازے پر دھرنا دیا تھا۔ شکوہ کیا کہ غیر سے ملتے ہو اس لیے بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم۔ محبو ب نے کئی روز نظر انداز کیا۔ حضرت نہ مانے تو اٹھا دیا، غالب نے دکھی دل سے کہا۔’’ ہم نے کہا کہ بزم ناز غیر سے تہی، سن کے ستم ظریف نے ہم کو اٹھا دیا کہ یوں‘‘ مگر مولانا یونہی نہیں اٹھے۔ بقول ان کے یوں ہی نہیں آیا تھا۔ یوں ہی واپس نہیں جا رہے، کہہ کے چلے تھے کہ’’ آئے ہیں تیرے شہر میں کچھ لے کے جائیں گے‘‘۔ خالی ہاتھ نہیں جا رہے جھولی میں یقین دہانیاں ڈال دی گئی ہیں۔ دھرنا ختم کرنے پر وزیراعظم نے کہا کہ اگر مولانا ایک مہینہ دھرنا دے دیتے تو میں مطالبات منظور کرلیتا ،فضول بات مولانا کا ایک ہی مطالبہ سب پر بھاری اسے قبول کرنے کا مطلب سلیس اردو میں گھر کی راہ لینا تھا۔ کیسے قبول کرلیتے کہکشاں سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں پتھروں پہ چل کر واپسی کیسے منظور کرلیں، مولانا کسی اشارے اور آشیرواد کے بغیر 126 دن بھی دھرنا دیتے پشاور موڑ پر الگ شہر بسا لیتے۔ تب بھی شنوائی نہ ہوتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، چوہدری برادران آئے نہیں بھیجے گئے تھے۔ سرکار نے نہیں بھیجا تھا۔ چوہدری شجاعت کیا پیغام لائے کیا پیغام دیا۔ چوہدری اور مولانا دونوں سنجیدہ مزاج چہروں پر سالوں بعد مسکراہٹ کی دھوپ چمکتی ہے۔ ورنہ چہرے ابر آلود رہتے ہیں۔ کیا سلسلہ جنبانی قائم ہوا کہ چہرے چمک اٹھے اور مولانا نے دھرنا سمیٹ لیا ،کہا گیا ’’مولانا خفت مٹا رہے ہیں‘‘۔ احساس شکست سے تو چہرے بجھ جاتے ہیں مولانا تو ہشاش بشاش ہیں ،کسی نے کہا ’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘۔ مولانا نے ترت جواب دیا ’’آج وہ کل ہماری باری ہے‘‘۔ کہا گیا کہ اپوزیشن کو خوف ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہوگئی تو ان کی باریاں ختم ہوجائیں گی۔ جواب میں بیل بٹنے کی پھبتی کسی گئی معیشت کب مستحکم ہوگی جب ہوگی تب دیکھا جائے گا۔ ابھی تو پوری قوم آٹے دال اور آلو ٹماٹر کے چکر میں پڑی ہے۔ کسی نے حضرت علامہ کی پیروڈی کی۔ ’’اٹھ کہ اب بزم جہاں اور ہی انداز ہیِ، تین سو کا ہے ٹماٹر سو روپے کی پیاز ہے‘‘۔ مہنگائی لے ڈوبے گی۔ مولانا مسلسل کہہ رہے ہیں کہ الٹی گنتی شروع ہوگئی ہیی۔ بلاول بھٹو نے نئے وزیر اعظم کے لیے جنوری کی تاریخ دے دی۔ چوہدری شجاعت تین سے چھ ماہ کا کہہ رہے ہیں۔ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو، محترم سراج الحق نے یہاں تک کہہ دیا کہ پنڈی والے ناراض ہوگئے ہیں ٹھکانہ اڈیالہ جیل، مستقبل کی خبریں لوگوں کو کیسے معلوم ہوجاتی ہیں۔ ان کا ٹھیکہ تو شیخ رشیدکے پاس ہے جو اوپر تلے تصادموں کے بعد سے مہر بلب ہیں۔ ادھر جھنجلاہٹ بڑھ گئی ہے۔ گھبراہٹ یا خود اعتمادی کا فقدان ہے اتحادیوں کے لب و لہجے تبدیل ہو رہے ہیں۔ چوہدری شجاعت نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ تین ماہ کے بعد کوئی بھی اس ملک کا وزیر اعظم بننے کے لیے تیارنہیں ہوگا۔ تین ماہ کی ڈیڈ لائن 6 ماہ کر سکتے ہیں۔ ایسا زیرک اور تجربہ کار سیاستدان اتنی بڑی بات یوں ہی تو منہ سے نہیں نکالے گا۔ پولا منہ لیکن بڑی بات، جی ڈی اے کے پیر صاحب پگارا بھی مایوس ہیں کہ پلٹ کے نہیں پوچھا۔’’ کس حال میں ہیں یاران وطن‘‘ علیحدگی کا عندیہ، ایم کیو ایم اپنی جگہ بے چین، یقین دہانیاں فوری ریلیف لیکن جس لیے اتحادیوں میں شامل ہوئے تھے وہ زنجیریں کہاں ٹوٹیں اشارے کے منتظرہیں، سیاسی تنہائی کیا رنگ لائے گی۔ مہنگائی، بیڈ گورننس اور بیروزگاری نے عوام کی طرح اتحادیوں کو بھی مایوس کردیا ہے۔ حکومتی کشتی میں سوار اتحادی چھلانگیں لگانے کو تیار، جھنجلاہٹ برقرار رہی تو طاقت ور لوگ وقت سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ طاقتور پر یاد آیا کہ وزیر اعظم نے مقدمات کے سلسلے میں عدلیہ کو کمزور اور طاقتور کے لیے علیحدہ قانون کا طعنہ دیا چیف جسٹس نے کرارا جواب دیا تو لا جواب ہوگئے اور تنخواہیں حلا ل کرنے کے لیے بے تکان بولنے والے ترجمانوںکو بیان دینے سے منع کردیا۔ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت، مہنگائی نے کمزور اور طاقتور کا فرق واضح کردیا۔ 300 روپے کلو ٹماٹر طاقتور ہی خرید سکتا ہے۔ کمزور اور غریب تو ہنڈیا میں ٹماٹر کے بجائے جاپانی پھل ڈال کر خوش ہولے گا۔ یہ تضاد کسی کو نظر نہیں آتا۔ ہر رکن کی زبان پرملکی استحکام کی بجائے ذاتی انتقام کا طوفان ابل رہا ہے۔ عوام سے کوئی سروکار نہیں۔ پانچ پیاروں نے مشکل میں ڈال دیا ان کا ذہن اپنا نہ زبان جن کی صفوں سے نکل بھاگے انہی کو گالیاں’’ زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بلکہ ذہن بگڑا‘‘ دھرنے کے جھنجھٹ سے نکلے تو علاج کیلئے لندن جانے والے کو تختہ مشق بنا لیا، روانگی سے قبل کہا تھا کہ نواز شریف کی صحت پر کوئی سیاست نہیں کریں گے لیکن عدالت کی اجازت کے بعد روانہ ہوتے ہی وہ پوری سیاست کا محور بن گئے کہا کہ پوری کابینہ مخالف تھی مجھے رحم آگیا، لوگوں نے کہا یہ کیسا رحم تھا جو سات ارب روپے کی شرط کے ساتھ آیا تھا۔ مشروط رحم کی اصطلاح پہلی بار سامنے آئی۔ نواز شریف لندن روانہ ہوئے، جہاز پر بھاگ کر گئے یا لیٹ کر، جانے کے بعد سیاسی موشگافیاں کیوں؟ اپنے ہی کیے پر یو ٹرن، عطا تارڑ نے تصدیق کی کہ وہ ایئر لفٹ کے ذریعہ جہاز میں سوار ہوئے مگر عوامی اجتماع میں عوام کے مسائل کی بجائے انتقامی جذبات کا اظہار ،کہا کہ جہاز دیکھتے ہی بیماری ٹھیک ہوگئی۔ حالانکہ انہیں سفر کے قابل بنانے کے لیے اسٹیرائڈ کا انجکشن دیا گیا جس سے چہرے پر رونق آئی مگر وہ یہ سمجھے کہ’’ بیمار کا حال اچھا ہے‘‘۔ پہلے رحم اب طنز، انور مقصود نے اچھی بات کہی کہ میاں کے جانے کے بعد حکومت نے کہا ہم مدت پوری کریں گے۔ حالانکہ میاں کے جانے کے بعد تو عدت پوری کی جاتی ہے۔ اپنے ڈاکٹروں نے ان کی حالت تشویشناک بتائی تھی ان کی رپورٹیں غلط تھیں؟ صوبائی وزیر صحت نے جھوٹ بولا تھا؟ شوکت خانم اسپتال کے قابل اعتماد ڈاکٹر نے غلط رپورٹ دی تھی یا اپنی چھٹی اور ساتویں حس دیر سے جاگی، غلط رپورٹوں کی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد، ڈاکٹروں کیخلاف کوئی ایکشن کوئی کارروائی؟ نہیں تو محتاط رویہ اختیار کرلیا جائے، چکمہ دے کر نکل گئے؟ تو اب پچھتاوے سے فائدہ، سیانوں نے کہا چھوٹی باتیں بڑے منصب سے لگا نہیں کھاتیں، لگتا ہے کہ’’ کینٹینر سے ابھی تک نہیں اترا یہ سوار‘‘۔ طنز کے تیروں سے سینے زخمی کرنے کے بجائے دعا کی جائے کہ وہ صحت یاب ہو کر واپس لوٹیں اور قید و بند کا سلسلہ وہیں سے شروع کردیں جہاں سے ٹوٹا ہے۔ این آر او دیا گیا؟کس نے دیا؟ خود تو 22 ہزار مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ این آر او ہر گز نہیں دوں گا۔ سیانے کہتے ہیں جنہوں نے دنیا دیکھی ہے وہی دیں گے۔ ان ہی کی سوچیں تبدیل ہو رہی ہیں ان ہی کے رویے بدل رہے ہیں۔ بہی خواہوں کی نیک خواہشات کے جواب میں آنکھیں کھلی رکھ کر حالات کا جائزہ لینے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ’’ ہم کیسے اسے صاحب کردار سمجھ لیں، جس شخص کے ہوں صاحب کردار مخالف‘‘ سارے صاحبان کردار سیاست میں موجودہ رجحان پر تشویش کا اظہارکرنے لگے ہیں۔ سیاست میں ہلڑ بازی، گالم گلوچ، اسمبلیوں میں دست بگریباں ہونے اور غیر مہذب گفتگو، جمہوریت بال کھولے رو رہی ہے۔ مزاج ایسا ہے یا سیاسی طریقہ کار یہی ہے، غلطیاں سرزد ہونا شروع ہوگئی ہیں دانستہ ہیں یا نا دانستہ، خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ بھگت رہے ہیں۔ خوش فہموں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ خوش فہمیاں ختم ہو رہی ہیں۔ لوگ ایک ہی قسم اور نوعیت کی تقریریں سن کر تنگ آچکے ہیں۔ عملی اقدامات ندارد، تبدیلی کے خواہش مند مطمئن ہیں اور مارچ کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب آسمان پر ستاروں کا سفر شروع ہوگا اور سارے ستارے مخالف ہو کر مخالف سمتوں میں سفر کرنے لگیں گے تب مشیروں کے مشورے کام نہیں دیں گے۔ بلکہ ناکامی کے خوف سے ان مشوروں سے کوفت محسوس ہونے لگے گی۔


ای پیپر