چیئر مین نیب کا بیا ن اور آ نے والے دن
24 نومبر 2019 2019-11-24

گو فا رن فنڈ نگ کا کیس کا فی عر صہ سے چل ر ہا ہے، مگر اب جو اِس نے ا چا نک سے تو ا نا ئی پکڑی ہے، اور پھر نیب چیئر مین جسٹس جا وید اقبا ل کا معنی خیز بیا ن کہ ہو ائو ں کا رخ تبد یل ہو چکا ہے، ظا ہر کر تا ہے کہ مو جو دہ حکو مت کے لیئے حقیقی مشکلا ت کا وقت آ ن پہنچا ہے۔ گو وزیراعظم کا کہنا ہے کہ معیشت درست سمت میں چل پڑی، کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہوگیا۔ حکومت نے نوازشریف کی لندن روانگی کو سپریم کورٹ میں بوجوہ چیلنج نہیں کیا۔ سیاسی حلقوں میں اس سے خیرسگالی کی ایک غیرمعمولی لہر سے تعبیر کیا گیا، تاہم تلخ تجزیوں اور پس پردہ سیاسی اتھل پتھل کے حوالے سے مستقبل کی ایک دھندلی سی تصویر ابھاری جارہی ہے جس میں باخبر مبصرین، سیاسی بزرجمہر رنگ بھرنے میں دانائی کے سارے ہنر دکھاچکے۔ جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد نہ ’’ایسے‘‘ گئے اور نہ ہی ’’ویسے‘‘ آئے۔ بعض سیاسی پنڈتوں کے مطابق حکومت نے نواز شریف علا لت کیس میں سیاسی دانشمندی کا ثبوت دیا اور ان کی روانگی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ فرسٹریشن کا رکنا دو طرفہ طور پر ملکی مفاد میں ہی ہے۔ سیاست میں تندی اور تیزی کا رکنے والا عمل اب جمہوری رواداری کا مرہون منت ہے۔ عوام کی نظر بھی سیاسی عوامل پر ہے۔ لیکن معاشی امور کو بہرصورت سیاسی کشیدگی اور تنائو کی کیفیت پر سبقت لینا پڑے گی۔سیاسی حوالے سے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بیان نے دلچسپ صورتحال پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوائوں کا رخ بدل رہا ہے۔ بظاہر احتساب یکطرفہ نظر آتا ہے تاہم اس تاثر کا ازالہ کریں گے۔ نیب کے یکطرفہ احتساب کا تاثر غلط ہے۔ 2017ء کے بعد کوئی میگا کرپشن سکینڈل سامنے نہیں آیا، جو کرے گا وہ بھرے گا۔ کسی سے ڈیل ہوگی نہ ڈھیل ہوگی اور نہ ہی کسی کو این آر او ملے گا۔ اب صوبہ کارڈ نہیں چلے گا، نیب کارروائی جاری رکھے گا۔ عمدہ کارکردگی دکھانے والے نیب راولپنڈی کے افسران میں سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب میں چیئرمین نیب نے بہت کچھ واضح کیا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، سری لنکن ٹیم پاکستان آ نے والی ہے لہٰذا نہیں چاہتے کہ ملک کا امیج خراب ہو۔ اس شکایات یا تنقید کا ازالہ ہوجائے گاکہ بظاہر احتساب یکطرفہ نظر آتا ہے۔ یہ الزام اس لیے درست نہیں ۔ میں عمر کے اس حصے میں ہوں کہ دشنام تراشی، کردار کشی، الزام تراشی، لالچ اور مختلف قسم کے حربوں کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ خیال بھی تصور میں لانا کہ میں سمجھوتہ کروں گا ناممکن ہے۔ 100 ارب ڈالر کا قرض کہاں گیا، اگر یہ پوچھ گچھ جرم ہے تو نیب کو عادی مجرم سمجھ لیں کیونکہ یہ سلسلہ تو جاری رہے گا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اصولی سیاسی موقف تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کا یہی ہے کہ ملک میں احتساب ضرور ہو مگر وہ بلا امتیاز ہو تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ ہو کہ نیب کے احتسابی عمل میں ہدف کچھ خاص افراد یا سیاسی جماعتیں ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ چیئرمین نیب نے اس تاثر کے بارے میں دل کی بات کہہ ڈالی۔ لیکن جن ہوائوں کے رخ بد لنے کی انہوں نے بات کی ہے وہ استعارہ ان ہی کی طرف سے وضاحت طلب ہے۔ کیونکہ سیاسی فضا اور اس میں چلنے والی ہوا کا کچھ پتا نہیں کہ اس سرد موسم میں کس طرف رخ کرے۔ تاہم کشیدہ سیاست میں ادبی حوالوں اور لطیف طنز اور منطق سے لیس گفتگو کا امکان بھی رہنا چاہیے۔ لہٰذا اس سیاق و سباق میں ہوائوں کا رخ بدلنے کا استعارہ سیاسی سطح پر معنی خیزی کا سامان لیے ہوئے ہے۔ بعض غیرجانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاست میں جاری اضطراب اور برہمی کا تناسب گٹھنا شرط ہے، سیاسی مکالمہ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو اس کی جمہوری سپیس ملنی چاہیے اور جس روش اور چلن کی بند گلی میں سیاست کو دھکیلنے کی کوشش ہورہی ہے اس راستے پر چلنے میں جمہوریت ہی کا نقصان زیادہ ہے۔ اگر گزشتہ 13 ماہ کے حکومتی تسلسل اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو تمام اقدامات، پالیسیوں، کارروائیوں اور پیش رفت میں جس چیز پر نظر آکر رک جاتی ہے وہ کثیر جہتی دبائو، سیاسی تنائو، کشیدگی، محاذ آرائی اور الزام تراشی و کردار کشی کا سلسلہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ اسی کا سبب ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین سیزفائر کا امکان پیدا نہیں ہوتا، سیاسی قائدین جمہوری عمل، حکومت، مفاہمت اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایک پیج پر آ نے سے دور ہیں۔ جبکہ فوج اور حکومت ایک پیج پر رہنے سے نہ صرف سیاسی پولیرائزیشن کا راستہ بند ہوا ہے، بہت سے سیاسی، معاشی، سفارتی، عسکری اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے اپوزیشن اور حکومت عوام کے مسائل کے حل، ملکی ترقی اور سماجی شیرازہ بندی کے لیے اپنے اختلافات ختم کیوں کرتے۔ وہ کون سی مجبوری ہے کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کا احساس شدت سے ابھرتا جارہا ہے۔ آخر حکومت حزب اختلاف سے بنیادی ایشوز اور عوام مصائب و معاشی مشکلات کے خاتمے کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنے کا چارٹر کب جاری کرے گی۔ اس سمت میں جتنی جلدی اقدامات ہوں گی اس کا ملکی ترقی و عوام کی خوشحالی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

سیاسی تناظر میں جو جمہوری قوتیں ملکی سیاست میں ہوشمندی اور سیاسی بالغ نظری کے موقف کی حمایت کرتی ہیں، ان کی بات سنی جانی چاہیے۔ ان جمہوری عناصر کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانا، اس اعتبار سے ایک فری ہینڈ ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی روانگی اور ممکنہ واپسی تک کے دورانیے میں بہت سی نمایاں پیش قدمی سیاسی اور معاشی طور پر کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ حکومتی وزرا، بیوروکریٹس، تاجر، دکاندار، صوبائی حکومتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے اپنے شعبوں میں کارکردگی بڑھا سکتے ہیں۔ سیاسی مصالحت کی کوششیں بارآور ثابت ہوسکتی ہیں۔ افواہوں، قیاس آرائیوں اور تندو تیز بیانات سے پیدا شدہ صورتحال کو کنٹرول کرتے ہوئے خیرسگالی کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ افہام و تفہیم سے معاشی پیش رفت کو مزید دوچند کیا جاسکتا ہے۔ حکمران حالات کی بہتری کے لیے معیشت کا راستہ ہی تلاش کرلیں اور اپنی ترجیحات میں معاشی نشاۃ ثانیہ کو ٹاسک بنالیں تو خلق خدا کو آسودگی مل سکتی ہے۔ اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو معقول سطح پر لایا جاسکتا ہے۔ ٹماٹر اور دیگر سبزیوں، پھلوں، ادوات کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی لاکر عوام کو قلبی سکون مہیا کیا جاسکتا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہ بن چکا۔ وفاقی کابینہ کے مطابق نئی ٹیرف پالیسی کا محور برآمدات اور صنعتی ترقی ہوگی۔ کابینہ میں ردو بدل جاری ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈال رسے 99 کروڑ مل چکے ہیں مگر کیا امید کی جانی چاہیے کہ حکومت اور اپوزیشن رہنما ملکی صورتحال کی نزاکت اور خطے کے حالات کومدنظر رکھتے ہوئے گریٹر مفاہمت کے لیے قدم آگے بڑھائیں گے؟اِس امر پہ شکو ک سے بھرا بہت بڑا سوا لیہ نشا ن خو د وز یرِ اعظم عمرا ن خا ن نے پہلے تو اپنی اٹھا ر ہ نو مبر کو حو یلیا ں میں کی جا نے وا لی فر ٹر یشن سے بھر ی تقر یر میں لگایا، اور پھر اس کی مز ید تو ثیق با ئیس نو مبر کو میا نوا لی میں کی جا نے وا لی تقر یر میں کر دی۔ اِ ن تقا ریر میں کیا تھا، اور اس کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے، اس پہ اظہا رِ خیا ل اگلے کسی کا لم میں سہی!


ای پیپر