ترقی کا کارواں اورعثمان بزدار
24 نومبر 2019 2019-11-24

زبانی کلامی کارکردگی بتانا بہت سہل ہے مگر عملی طورپر کام کرناکافی محنت طلب ہوتا ہے کچھ کیے بغیر جو کارکردگی ظاہر کی جاتی ہے اُس کے اثرات دیرپا نہیں ہوتے مثل مشہورہے جھوٹ زیادہ دیر چُھپا نہیں رہ سکتا سچ بحرحل آشکار ہوکررہتاہے مگر ہمارے ہاں پسند نا پسند زہن میں رکھ کر تائید یا تردید کی جاتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے حقائق کا قطعی خیال نہیں رکھا جاتا عثمان بزدار نے جب وزارتِ اعلٰی کا منصب سنبھالا تو لوگ بھونچکا رہ گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ سب کے اندازے اور قیاس دھرے کے دھرے رہ گئے تھے تجزیہ کاروں نے کئی نام فائنل کر دیے تھے مگر عمران خان نے پس ماندہ علاقے سے ایک غیرمعروف شخص کو وزیرِ اعلیٰ کا امیدوار بنا کر سب کو حیران کر دیا جن تجزیہ کاروں کے اندازے اور قیاس غلط ثابت ہوئے وہی عثمان بزدارکو بطوروزیرِ اعلیٰ ہضم نہیں کرپارہے اورمخالفت پر کمربستہ ہیں یہ رویہ ناقابلِ فہم ہے ارے بھئی ایک بندے پر تبصرے کرنے سے قبل کارکردگی پر ہی نگاہ ڈال لو محض اندازہ اور قیاس غلط ہونے پر غم وغصے کا شکار ہونا کہاں کا انصاف ہے؟ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عثمان بزدار کمزور شخص ہیں جو ملنے والے احکامات کی روشنی میںفیصلے کرتے ہیں اورہر بات سے پہلے عمران خان کی رضامندی لیتے ہیں کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ تمام بڑے آپس میں ہروقت لڑتے جھگڑتے رہاکریں؟ تاکہ تماشہ لگا رہے؟ فیصلوں سے پہلے مشاورت اچھی بات ہے اگر اختلافات کی بجائے افہام وتفہیم کی فضا ہے تو اِ سے سراہا جانا چاہیے مرکز اور صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہونے کی وجہ سے صلاح ومشورہ سے حکومتی امور کی انجام دہی سے کارکردگی میں نکھار آتا ہے اصل میں ہمارا مزاج کچھ ایسا بن گیا ہے کہ ہم اداکاری پر تو واہ واہ کرتے ہیں لیکن حقیقت پسند نہیں، ترقی کا کارواں عثمان بزدار کی سربراہی میں رواں دواں ہے ان کی توجہ تعلیم ،صحت،زراعت اور سیاحت پر ہے۔

پنجاب میں پچیس سو ملین سے یونیورسٹی چکوال، یونیورسٹی آف میانوالی،کوہساریونیورسٹی مری،تھل یونیورسٹی بھکر ،گورونانک یونیورسٹی ننکانہ اورچاکرِ اعظم یونیورسٹی ڈیرہ غازی خاں میں بنائی جا رہی ہیں ایک ہی وقت میں چھ یونیورسٹیوں کا قیام پنجاب کی تاریخ میں نیاریکارڈ ہے اگر یونیورسٹیاں بنانے کے منصوبے معینہ مدت میں مکمل ہوجاتے ہیں تو پنجاب میں علم و آگاہی کا نیا باب شروع ہوگا نیزہر علاقے میں اعلٰی تعلیم کے مواقع بڑھنے کے ساتھ تعلیمی اخراجات میں کمی آئے گی جس سے درمیانی طبقہ بھی اپنی نئی نسل کو اعلٰی تعلیم دلانے کے قابل ہوجائے گا اور آنے والا مورخ عثمان بزدار کو تعلیمی حوالے سے اچھے ریفارمر کے طور پر یاد کرے گا پس ماندہ علاقے سے تعلق رکھنا جرم نہیں جرم یہ ہے کہ اعلٰی منصب پر فائز ہو کر بھی علاقے کی پس ماندگی دور نہ کی جائے پنجاب کے چیف ایگزیکٹو کو اِس بات کا مکمل ادراک ہے اسی لیے وہ تعلیم کی بہتری پر زرِ کثیر صرف کر رہے ہیں شعبہ تعلیم سے وابستہ اساتذہ کے تبادلوں کے لیے ای ٹرانسفر کی پالیسی سے سفارش کلچر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور تبادلے کے حقدار کو اُس کا حق ملنا آسان ہوگیاہے۔

اچھی صحت سے ہی فرائض کی ادائیگی ہو سکتی ہے بیمار اورلاغر وجود سے فرائض کی ادائیگی ممکن نہیں پنجاب کی نئی حکومت صحت کی سہولتوں میں بہتری لانے کی کوشش کر رہی ہے کچھ اصلاحات بھی کی گئی ہیں لیکن ابھی بہتری کی کافی گنجائش ہے ہسپتالوں کو ٹھیکے پر چڑھانے سے حکومت کو اخراجات میں بچت ہو سکتی ہے مگر عام اور غریب آدمی مہنگے علاج کا متحمل نہیں ہو سکتا صحت انصاف کارڈ کی اسکیم اچھی بات ہے لیکن جن کے پاس انصاف صحت کارڈ نہیں ہونگے وہ کہاں جائیں گے؟ ظاہر ہے مہنگا علاج ہونے سے سسک سسک کر دم توڑ دیں گے ڈاکٹر یاسمین راشد کو بچت کے کوئی اور طریقے تلاش کرنے چاہئیں خوراک میں ملاوٹ ختم کرنے اور جعلی ادویات پر قابو پانے کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے اور یہ واحد شعبہ ہے جس پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہی نااہلی واضح ہوجاتی ہے ۔

صاف پانی کی فراہمی پنجاب کا اہم مسلہ ہے محتاط اندازے کے مطابق پنجاب کی اسی فیصد آبادی غیر محفوظ اور گندا پانی پینے پر مجبور ہے جس کی وجہ سے لاحق ہونے والی بیماریوں کے نتیجے میں گیارہ لاکھ کے لگ بھگ لوگ ہر سال موت کو گلے لگالیتے ہیں لگتا ہے پنجاب حکومت کو بھی سمجھ آگئی ہے عثمان بزدار نے ،،آب پاک اتھارٹی،،بنا دی ہے جو صاف پانی کی فراہمی ممکن بنائے گی مگر ابھی تک کام تو کُجا آب پاک اتھارٹی کا اجلاس تک کیوں نہیں ہوسکا اس سوال کا جواب کون دے گا؟ کیا ہی اچھا ہوتامخیر حضرات کاپنجاب حکومت تعاون حاصل کرتی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کی مُہم پر کام کرتی اِس حوالے سے ممبرقومی اسمبلی چوہدری مونس الٰہی نے اپنے حلقہ انتخاب میں بہت اچھا کام کیا ہے گجرات شہر کے ساتھ انھوں نے کنجاہ ،شادیوال میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے ذاتی گرہ سے کئی منصوبے مکمل کرائے ہیں مگر نمود ونمائش کی کوئی کوشش نہیں کی اِس میں کوئی دورائے نہیں کہ فلاح کے شعبے میں چوہدری مونس الٰہی اپنا الگ اور منفرد مقام رکھتے ہیں ۔

ذرائع نقل وحمل کے حوالے سے عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب حکومت نے اچھا کام کیا ہے پُل اور سڑکیں بناتے ہوئے حکومتی پیسے کے ضیاع کو روکنے کے لیے ای ٹینڈرنگ کا نظام متعار ف کرانے کاکام آخری مراحل میں ہے جس کے بعد فنڈز ہڑپ کرنا ناممکن ہوجائے گا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اِتنا اچھا کام ہورہا ہے مگر پنجاب حکومت کوئی تشہیر نہیں کر رہی۔ کام سے کام رکھنے والے عثمان بزدار نے غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ کر دیا ہے اور وسائل کارُخ عام آدمی کی طرف موڑ دیا ہے سیاحت کوترقی دینے کے لیے سیاحتی مقامات کی نشاندہی کرنے کے بعد سہولتوں کی فراہمی پر کام کیا جارہا ہے اور نئے سیاحتی مقام بھی بنائے جارہے ہیں جن سے کاروبارکے ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے ۔

نئے بلدیاتی نظام کا تجربہ ہونے والا ہے لیکن نئے بلدیاتی ایکٹ میں بہت سقم ہیں اور تمام اختیار کا مالک ڈی سی کو بنا کر اُسے ڈکٹیٹر بنا دیا گیا ہے ضلع کا انتظامی آفیسر ہونے کے ساتھ اُسے تحصیل اور میونسپل کارپوریشن کا ایڈمنسٹریٹر بنانا کسی طور مناسب نہیں یہ تو ایسا ہے جیسے حکومت کو ڈی سی کے سوا کوئی قابلِ اعتماد آفیسر نظر ہی نہیں آتا نئے نظام میں اے سی ،اے ڈی سی آر اور اے ڈی سی جی کو عضومعطل بنایا گیا ہے ایسا لگتا ہے کہ نئے نظام کی تیاری میں جُزیات کو نظر انداز کر نے کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کا پیرا لکھتے ہوئے غیر ضروری اختصار سے کام لیا گیا یہ بلدیات ودیہی ترقی کے نظام کو منجمد کرنے کے مترادف ہے جس پر نظرثانی ہونی چاہیے اور اگر راجہ بشارت جیسے کوڑھ مغز کو فرصت ملے تو نئے نظام میں رہ جانے والے سقم دور کریں وگرنہ خرابی اور بدنامی عثمان بزدار کے حصے میں ہی آئے گی اگر لوگ ترقی کے کارواں پر اُنگلیاں اُٹھائیں گے تو ساکھ بحرحل عثمان بزدار کی ہی مجروح ہوگی راجہ بشارت کا کیا جانا ہے وہ کسی اور سیاسی کو اپنی وفاداریوں کا یقین دلالیں گے جس کا اُنھیں خوب تجربہ ہے۔


ای پیپر