کب تک…؟
24 نومبر 2019 2019-11-24

پاکستان کی سترسالہ تا ریخ ایک دوسرے سے دست وگریبان ہوتے ہوئے گزررہی ہے ٹانگ کیھنچنے کی لت نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑااور یہ عادت ہماری گٹی میں شامل ہو گئی ہے آتی جاتی حکومتوں نے سسٹم کا بیڑاغرق کر دیا آج دنیا ہم پر ہنس رہی ہے کیوں اس لئے کہ ہمیں ملک اور قوم کا نہیں اپنا مفاد عزیز ہے اور اس میں ہم اپنے پرائے کو بھول گئے صرف اپنا مفاد یاد رکھا اس کے لئے ہم نے سڑکیں بند کیں اس کیلئے ہم نے عوامی مفادات کے منصوبوں کا ستیا ناس کیا اس کیلئے ہم نے اپنوں کو دور کردیا ہم سے گیا گزرا ملک کیوبا آج ترقی میں ہم سے کہیں آگے ہے اور ہم آج بھی کشکول پکڑے نگر نگر گھوم رہے ہیں کوئی کشکول بھرے نہ بھرے یہ اس کی مرضی ؟سیاستدان اپنے اپنے مفادات کیلئے ایک دوسرے کی بولیاں لگا رہے ہیں جو بولی زیادہ لگاتا ہے پوتر ہو جاتا ہے اور جو نہیں بکتا وہ زیر زمین چلا جاتا ہے ایک سوداعمران خان نے بھی کیا تھا طاہرالقادری کے ساتھ مل کر2014 ء میں اس میں دونوں کزنز کامیاب رہے جو جلدی میں تھا اس کو تھوڑا حصہ ملا اورجس کو خلائی مخلوق کی سپورٹ تھی وہ زیادہ حصہ لینے میں کامیاب ہو گیا اس وقت شہر اقتدار میں اقتدار کیلئے دیا گیا دھرنا درست تھا اب ناجائز ہو گیا

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا27اکتوبرکو شروع ہو نے والا آزادی مارچ اے، بی اور سی پلان کے ساتھ جب اسلام پہنچا توبلند وبانگ دعوے کیے گئے حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے،پھر پاکستا ن کی بھولی بسری عوام نے دیکھا کہ چوہدری برادران کے رابطوں نے مولانا کو دھرنا ختم کرنے پر ایسے مجبو ر کیا کہ چوں چڑاں کیے بغیردھرنے والے ملک بھر میں پھیل گئے،پھر اس پر بھی جھاڑوپھیردیا گیاایک دوسرے کو امانتیں دی گئیں ان امانتوں میں کیا تھا اللہ جانے یا حکومت اور اپوزیشن والے ؟اب کی بار اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے اچانک22 نومبر سے ملک بھر میں جلسے اور جلوسوں کا اعلان کر دیا،کنوئیر رہبر کمیٹی اکرم درانی کے مطابق عوام کو جلد خوشخبری ملے گی،ا س ضمن میں کہا گیا کہ آزادی مارچ کے دوران شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہوئے،آزادی مارچ اپوزیشن کی تحریک کا نام ہے اور تحریکیں ختم نہیں ہوتیں،تمام اپوزیشن جماعتیں اپنی پالیسی کے مطابق آئندہ بھی آزادی مارچ میں شرکت کریں گی، آزادی مارچ کی منزل حکومت کا خاتمہ ہے مارچ کے تمام اہداف حاصل ہوں گے،80فیصد معیشت حکومت پر عوام کے اعتماد کی وجہ سے چلتی ہے،آج حکمران عوامی اعتماد کھو چکے ہیں،پلان بی دو سو فیصد کامیاب رہاحکومت کی جڑیں کاٹ دیں اور ان کی بنیادیں ہل چکی ہیں،اب دیکھیے کہ مولانا نئے پلان سی میں کیا گل کھلاتے ہیں لیکن ایک بات تو طے ہے کہ احتجاج کوئی بھی ہو کوئی بھی کرے یہ ہوتا عوام کے نام پر ہے چاہے اس سے عوام کو کچھ نہ ملے۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے سب سے پہلا دھرنا تحریکِ نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما مفتی جعفر حسین کی قیادت میں جنرل ضیا کے زکوۃآرڈیننس کے خلاف دیا گیا کیونکہ اس قانون میں فقہِ جعفریہ کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تھا،پانچ جولائی 1980 کو ہزاروں لوگ خاموشی سے زمین پر بیٹھ گئے اور اگلے روز ضیا حکومت نے اہلِ تشیع کو اس آرڈیننس سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔

مگر اسلام آباد میں سیاسی دھرنوں کی موجد جماعتِ اسلامی ہے،پہلا دھرنا میر مرتضی بھٹو کے قتل کے ایک ماہ بعد قاضی حسین احمد کے 'ملین مارچ' میں شامل لوگوں نے اکتوبر 1996 میں دیا،

دوسرا دھرنا امیرِ جماعتِ اسلامی منور حسن کی قیادت میں دسمبر 2010 میں پارلیمنٹ کے نزدیک پریڈ لین میں دیا گیا،اس کا محرک امریکہ کی خواہش پر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن اور توہینِ مذہب کے قانون میں ترمیم کا خدشہ بتایا گیا مگر یہ ایک علامتی دھرنا تھا،شروع کے دھرنوں میں بات تنقید سے شروع ہو کے دھمکیوں پر ختم ہو جاتی تھی۔ پھر بات دھمکیوں سے شروع اور گالم گلوچ پر ختم ہونے لگی۔اب بات گالم گلوچ سے شروع ہوتی ہے اور آگ لگائے بغیر ختم نہیں ہوتی،حالیہ دھرنا جے یو آئی نے عمرانی حکومت کیخلاف دیاتھا جس کیخلاف حکومتی ’’کڑچھے چمچے ‘‘ پیپے بجا بجا کر مراس پنا پھیلاتے رہے،

احتجاج اور رائے دینا ہر شخص کا حق ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا لیکن اگر سمت درست ہو؟

ابھی تک اس احتجاج کا کوئی ’’سر، پیر‘‘ نظر نہیں آیا لگتاہے کہ یہ صرف انا کا مسئلہ ہے ناکہ عوامی بھلائی کیلئے، اگر عوامی بھلائی کیلئے ہے تو ابھی تک عوام کو تو پتہ نہیں چلا کہ آزادی مارچ کس لئے شروع کیا گیاتھا؟ کیونکہ حکومت اور اپوزیشن کے اپنے اپنے مفادات ہیں ورنہ تو اور بھی غم ہیں محبت کے سوا کے مصداق مسائل کے تو انبار لگے ہیں، سرکاری اداروں میں کرپشن کا دور دورہ ہے، آئیں اس کے خلاف احتجاج کریں، تاجر لوٹ مار کررہا ہے آئیں اس کیخلاف احتجاج کریں، بیورو کریٹس اور ٹھیکیداروں کیخلاف احتجاج کریں جو سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کے بادشاہ ہوتے ہیں، آئیں دین کی آڑ میں ایک دوسرے کو کافر قرار دینے والوں کیخلاف احتجاج کریں جو اپنا ہی اسلام ایجاد کرکے بیٹھے ہیں، آئیں ان سیاستدانوں کے خلاف احتجاج کریں جو ستر سالوں سے اس ملک کو عوام کے نام پر لوٹ رہے ہیں، آئیں ان دکانداروں کے خلاف احتجاج کریں جو دس روپے کی چیز سو روپے میں دیتے ہیں وہ بھی ناقص، آئیں جرائم پیشہ اور جوئے کے اڈوں کیخلاف احتجاج کریں جو ملک اور قوم کو دلدل میں دھکیل رہے ہیں،آئیں منشیات فروشوں کیخلاف احتجاج کریں جو نئی نسل کو زندہ درگور کر رہے ہیں، آئیں ان فلمی پریوں کیخلاف احتجاج کریں جو ملک اور بیرون ملک ننگ دھڑنگ جسموں کی نمائش کرکے پاکستان اور اسلام کو بدنام کررہی ہیں، آئیں ان وکلاء کیخلاف احتجاج کریں جو کالے کوٹ کی آڑ میں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ قرار دینے کے ہر وقت درپے ہوتے ہیں، آئیں ان انصاف کے نام نہاد علمبرداروں کیخلاف احتجاج کریں جو سماج کے چہرے پر بدنما داغ ہیں، آئیں ان مسیحا?ں کیخلاف احتجاج کریں جو مقدس پیشے کو ڈاکو?ں کے روپ میں پیش کرتے ہیں، آئیں ان اینکروں کیخلاف احتجاج کریں جو صحافت کی آڑ میں لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں خود ہر وہ کام کرتے ہیں جو ایک مہذب معاشرے میں بدنما داغ ہو، آئیں ان کسانوں کیخلاف احتجاج کریں جو ہوس زر میں مبتلا ہو کر سبزیاں مہنگی بیچتے ہیں، آئیں محکمہ پولیس کے خلاف احتجاج کریں جو دن دہاڑے ہنستے بستے گھر اجاڑ دیتے ہیں، آئیں ان ججز کے خلاف بھی احتجاج کریں جو انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر انصاف بیچتے ہیں، آئیں ہر اس مسئلے کیخلاف احتجاج کریں جو ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے،مسائل کے تو انبار لگے ہیں ان کے خلاف آواز بلند کریں، احتجاج کوئی بھی ہو، دھرنا کوئی بھی دے اس میں عوام کا کوئی مفاد نہیں ہوتا نہ کبھی کسی نے مہنگائی، لاقانونیت، عریانی، فحاشی کیخلاف احتجاج کیا ہے ، احتجاج پر اعتراض نہیں، اعتراض طریق کار پر ہے کہ جس کی آڑ میں سیاستدان اور مذہبی جماعتیں اپنا الو سیدھا کرتی ہیں،احتجاج،دھرنوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا اللہ ہی جانے۔


ای پیپر