24 نومبر 2019 2019-11-24

انسان کو اتنا ہی مثبت ہونا چاہئے جتنا و ہ میراثی تھاجس کی بیٹی پٹواری کے لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی تو اس نے بیچ چوراہے میں کھڑے ہو کرعزت بچ جانے پرشکر ادا کیا کہ بھاگنے کو باقی دو بھی بھاگ سکتی تھیں کہ پٹواری کا کون سا ایک ہی بیٹا تھا۔ کہتے ہیں کہ کسی ایسے ہی سیانے کے بیٹے کے دشمنوں نے عین ماتھے میں گولی ماری جس سے وہ مرگیا، وہ سیانا جنازے پر بیٹے کی شکل دیکھتا تو زور زور سے شکرادا کرتا کہ اس کی دونوں آنکھیں بچ گئی ہیں۔ وہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ جب ڈاکو گھر سے زیور اور نقدی سمیت سب کچھ لوٹ کر لے گئے تو کسی نے لٹ جانے والے بھلے آدمی سے پوچھا کہ تم نے ایک بندوق بھی خریدی تھی، وہ کہاں گئی، بھلے آدمی نے جواب دیا خدا کا شکر ہے کہ وہ سٹور میں بہت چھپا کے رکھی تھی ورنہ ڈاکو وہ بھی لے جاتے۔ ایسا ہی مثبت آدمی جب رات دیر تک دوستوں کی محفل میں عیاشی کے بعد گھرپہنچا تو دوسرے دن دوستوں نے پوچھا، ارے یار ، رات بھابی نے کچھ کہا تو نہیں، وہ صاحب مسکرائے اور بولے، نہیںنہیں، یہ سامنے کے دو دانت میں ویسے بھی نکلوانے ہی والا تھا۔

ایک سیاسی جماعت کے کارکن جب ایسی تقریروں پر واہ واہ کرتے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ ستیاناس اس لئے بہتر رہا کیونکہ سوا ستیاناس بھی ہوسکتا تھا تو ان کی عقل کی داد دینی پڑتی ہے۔ ایک نوجوان سیاسی لیڈر کی اس بات کا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ جب بارش ہوتا ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے مگر دوسری طرف صورتحال کچھ یوں ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو ہنساتا ہے اور جب وہ زیادہ بولتا ہے تو زیادہ ہنساتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک بہت بولنے والے سیاستدان کے منہ میںتھرمامیٹر لگا کر اس کا بخار چیک کیا جا رہا تھا تو آس پاس تمام لوگوں نے پوچھا کہ منہ بند رکھنے والا یہ آلہ کتنے کا آتا ہے۔ ایسی تقریروںکی تعریف یوں بھی ضروری ہے کہ تعریف نہ کرنے پر تو ایک اور تقریر بھی ہوسکتی ہے جو زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔دماغی امراض کے کسی ہسپتا ل میں ایک ڈاکٹر جب اپنے دوست کے ہمراہ وارڈ کا معائنہ کررہے تھاتو ایک مریض نے اچانک بیڈ سے چھلانگ لگائی، پوزیشن لی، اپنی انگلیوں کو پستول کے انداز میں ڈاکٹر پر تان لیااور منہ سے آواز نکالی ، ٹھاہ۔ یہ آواز سنتے ہی ڈاکٹر زمین پر گرا اور بے حس وحرکت ہو گیا، مریض مسکرایا اور اپنے بستر پر جا کر اطمینان سے لیٹ گیا۔ ابھی ڈاکٹر وارڈ میں ہی تھا کہ مریض نے پھر فائرنگ شروع کر دی اور ڈاکٹر پھر مر گیا۔ دوست نے دیکھا کہ پندرہ بیس منٹ کے اندر ڈاکٹر کو پانچ، چھ مرتبہ مرنا پڑا۔ دوست نے ڈاکٹر کو وارڈ سے باہر گھسیٹا ، پوچھا، تمہیں اتنی مرتبہ مرنا پڑتا ہے، تم کام کیا خاک کرتے ہو گے، اس کو فائرنگ کرتے رہنے دو اور تم اپنا کام کرتے رہو۔ ڈاکٹر نے اپنے دوست کو بے چارگی سے دیکھا اور بولا ، نہیں یار، تمہیں علم نہیں ،اگر میں نہ مروں تووہ کہتا ہے، اوہو، پستول کام نہیں کررہا اور پھر جوڈو کراٹے کے وار کرنے لگتا ہے۔

یہ پاگلوں والے لطیفے بھی عجیب معنی خیز ہوتے ہیں اور ان کے بنانے والے غضب کے سیاسی نبض شناس، جیسے ماہر نفسیات نے تازہ تازہ شفایاب ہونے والے پاگل کو مبارک باد دی کہ وہ اب ٹھیک ہو گیا ہے۔ پاگل نے بُرا سامنہ بنایااور بولا کیا فائدہ ایسا ٹھیک ہونے کا، اس سے پہلے میں خود کو وزیراعظم سمجھتا تھااور اب بے روزگار۔ ایک ملک کا وزیراعظم پاگل خانے کے دورے پر گیا ، ایک پاگل نے اس سے پوچھا ، تم کون ہوِ وزیراعظم نے بتایا کہ وہ ملک کا وزیراعظم ہے، پاگل ہنسا اور بولا کہ جب وہ یہاں نیا، نیا آیا تھا تووہ بھی خود کو وزیراعظم ہی سمجھتا تھا۔کہتے ہیں کہ سیاستدانوں کی ایسی ہی تقریروں نے ان کی ساکھ تباہ کر رکھی ہے جیسی تقریر اس وقت سوشل میڈیا پر سپر ہٹ جا رہی ہے، دروغ بہ گردن انٹرنیٹ، سیاستدانوں سے بھری ہوئی ایک بس بے قابو ہو کر ایک کھیت میں جا گھسی۔ الٹی اور تباہ ہو گئی،شور کی آواز سن کر ایک کسان اپنے فارم ہاو¿س سے باہر نکلا اور ایک بڑا گڑھا کھود کرسارے سیاستدانوں کو دفنا دیا۔ دو روز بعد پولیس اس کسان تک جا پہنچی اور پوچھا کہ جب اس نے دفنایا تو کیا اس وقت تمام سیاستدان مر چکے تھے۔ کسان بھی راولپنڈی کے آس پاس کا رہنے والا تھا، بولا، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ وہ زندہ ہیں مگر آپ کو تو علم ہے ناں جناب کہ سیاستدان کتنا جھوٹ بولتے ہیں۔ میں جب تقریروں میں دعوے سنتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں اوروہ دوست یاد آجاتا ہے جس نے مجھے بتایا کہ اس نے گھونسا مار کے شیر کا منہ توڑ دیا، گینڈے کو ٹھوکر مار کے گرا دیا اور ہاتھی کو دونوں ہاتھوں میںاٹھایا اور زمین پر دے پٹخا۔ میں بہت حیران ہوا اور پوچھا کہ اس کے بعد خیریت رہی۔ جواب ملا ، نہیں، کھلونوں کی دکان کے مالک نے مجھے نوکروں کی مدد سے دکان سے باہر پھینک دیا۔ آج کل اپوزیشن والوں سے برآمدگی کے لطیفے بھی چل رہے ہیں تو مجھے وہ ماں یاد آ گئی جس کے بچے کو مولوی صاحب قاعدہ پڑھاتے ہوئے زور، زور سے کہہ رہے تھے بیٹا، ح سے ہوتا ہے حلوہ، ہاں بیٹا، حلق سے نکالو، ح سے حلوا۔ اس معصوم ماں نے اس طرح بچے کے حلق سے حلوا نکلواتے سنا تو دوڑ کے آئی اور بولی، مولوی صاحب بچے کے حلق سے حلوا نہ نکلوائیں، میں ابھی بنا کے بھجواتی ہوں۔

میں جب اپنی موجودہ حکومت کو دیکھتاہوں تو یقین آجاتا ہے کہ دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ جس طرح آپ نے سوچا ہو خواب کی تعبیر بھی عین اسی کی طرح کی ہی ملے۔ میرے ایک دوست کو اس کی دادی نے دعا دی کہ جا بیٹا تیرے ارد گرد گاڑیاں ہی گاڑیاں ہوں اور میرا وہ دوست آج کل ٹریفک پولیس میں وارڈن لگا ہوا ہے اوراسی طرح ایک دوسرے دوست کو اس کی ماں نے دعا دی کہ جا بیٹا تیرے آنگن میں پھول کھلیں اور پھر یوں ہوا کہ یکے بعد دیگرے اس کے گھر نو بچے پیدا ہوئے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی پھول مارے ، دعا پوری ہوجاتی ہے مگر پھول گملے سمیت ماردیا جاتا ہے، جی ہاں،جب پام آئل سے بجلی بنانے کی باتیں ہوں، جب روپے کی قیمت میں تیس فیصد کمی پر شکرادا کیاجائے اور جب اتنے ہی برس کینسر ہسپتال چلانے کے بعد کہاجائے کہ ابھی پتا چلا ہے کہ پلیٹ لیٹس کیا ہوتے ہیں تو پھر کچھ بھی کہا جا سکتاہے جیسے ایک لڑکے نے دوسرے سے کہا کہ میرے دادا کا اتنا بڑا فارم ہاوس ہے کہ گھوڑی کا بچہ ایک کنارے سے چلنا شروع کرتا ہے تو دوسرے کنارے پر پہنچنے تک وہ جوان ہوجاتا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ اس کے دادا کے پا س اتنا بڑا بانس تھا کہ جب بارش نہیں ہوتی تھی تو وہ ارد گرد کے علاقوں کے بادل اس بانس سے لے آتے اور بارش ہوجاتی۔ پہلے نے کہا جھوٹ، مکمل جھوٹ، وہ اتنا بڑا بانس کہاں رکھتے تھے، جواب ملا، تمہارے دادا کے فارم ہاو¿س میں۔

جو دوست برہم ہیں کہ دس، دس برس پرانے لطیفے کیوں سنائے گئے ہیں تو وہ بتائیں کہ بائیس بائیس پرانی تقریروں پر اورکیا سنایاجائے ۔یقین کیجئے تقریروں کے مقابلے میں لطیفے فریش ہیں۔


ای پیپر