چینی قونصل خانے پر حملے کا مقدمہ درج 
24 نومبر 2018 (14:50) 2018-11-24

کراچی: چینی قونصل خانے پر حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کر لیا گیا، دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، مقدمے میں بلوچستان کی کالعدم جماعت اور ہلاک دہشتگردوں کا نام بھی شامل ہے۔

پولیس کے مطابق چینی قونصل خانے پر حملے کا مقدمہ ایس ایچ او بوٹ بیسن کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں دہشت گردی، دھماکا خیز مواد رکھنے، قتل اور اقدام قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جب کہ مقدمے میں تینوں ہلاک دہشت گردوں کو نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق دہشت گردوں نے دو پولیس اہلکاروں کو قتل کیا، گیٹ پر مامور جمن خان کو فائرنگ سے زخمی کیا، قونصلیٹ آنے والے افراد فائرنگ کی آواز سن کر اندر چلے گئے، دہشت گردوں نے گیٹ کو توڑنے کے لیے آئی ای ڈی ڈیوائس استعمال کی۔

مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو افراد بھی ہلاک ہوئے جب کہ پولیس اور رینجرز نے تینوں دہشت گردوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ ہلاک دہشت گرد آزل، رازق اور رئیس بلوچ کا تعلق بلوچ لیبریشن آرمی سے تھا۔ ہلاک حملہ آور رازق کا تعلق خاران سے ہے۔مقدمے میں ہلاک دہشت گردوں کے 13 سہولت کاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے جن میں پہلا نام حربیار مری کا ہے۔ حر بیار مری مرحوم بلوچ رہنما خیر بخش مری کے صاحبزادے ہیں۔

قونصلیٹ حملے کے سہولت کاروں میں اسلم اچھو، نوربخش مینگل، کریم مری، کمانڈر نثار، کمانڈر شریف، آغا شیر دل، کمانڈر گیندی، کمانڈر گیندو، کہٹن رحمان گل، کمانڈر حمل، حربیارمری، میرک بلوچ، بشیر زیب اور کمانڈر منشی شامل ہیں۔ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ حملے کے دوران ہلاک شدہ دہشت گرد مفرور ملزمان سے رابطے میں تھے۔


ای پیپر