وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا!
24 نومبر 2018 2018-11-24

گزشتہ بدھ کو دنیا کا عظیم ترین دِن تھا۔ ہماری زندگی میں ایک برکت اللہ نے یہ بھی رکھی یہ دن ہماری زندگی میں آتا رہتا ہے۔ اِس روز آپ کی ولادت ہوئی۔ آپ کا کسی بھی حوالے سے ذکر کر کے اصل میں انسان اپنا ہی مقام بلند کرتا ہے۔ اللہ کی عظمت کا اِس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہوسکتا ہے اللہ نے خود کو رب المسلمین قرار نہیں دیا۔ رب العاالمین قرار دیا ہے۔ جو اُسے مانتے ہیں اُن کا بھی وہ رب ہے جو نہیں مانتے اُن کا بھی ہے۔ وہ سب پر اپنی رحمتیں نچھاور کرتا ہے۔ سب سے بڑی رحمت اُس نے ہمیں آپ کا اُمتی ہونے کی صورت میں عطا فرمائی۔ یہ بڑے رحم، کرم اور ترس کی بات ہے اُس نے ہمیں بطور مسلمان پیدا کیا۔ یہ الگ بات ہے سچے اور پکے مسلمانوں والے اعمال اپنانے میں ہمیں ذرا شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اور جو اعمال بطور مسلمان ہمیں زیب نہیں دیتے یا جن سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے اُنہیں بڑے فخر سے نہ صِرف ہم اپناتے ہیں اُس کی تشہیر بھی اِس انداز میں کرتے ہیں جیسے دوسروں کو تلقین کر رہے ہوں۔ یہ اعمال وہ نہیں اپنائیں گے اُن کے لیے دنیاوی ترقی کے سارے راستے بند ہو جائیں گے۔ ہماری یہ بدقسمتی ہے ہم نے اصل ترقی دنیاوی ترقی کو سمجھ لیا ہے۔ اللہ سب جانتا ہے۔ سب دیکھتا ہے۔ وہ ہر وقت جاگتا ہے۔ ہمارا کوئی عمل اُس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اِس کے باوجود ہمارے اعمال کے مطابق وہ ہمیں سزائیں نہیں دیتا۔ عذاب میں مبتلا نہیں کرتا تو اِس کی واحد وجہ کم از کم میں یہی سمجھتا ہوں اپنے نبی کے ساتھ اپنی محبت کے صدقے میں ہمیں اُن کا اُمتی ہونے کی وہ رعایت دے رہا ہوتا ہے۔ روز حشر ہمارے پاس نجات کا واحد ذریعہ اور وسیلہ آپ ہی ہوں گے۔ ہم یہ جانتے ہیں اِس کے باوجود آپ کے اسوة حسنہ کے مطابق زندگی گزارنے سے گریزاں ہیں۔ اللہ نے آپ کو دنیا میں رحمت العالمین بنا کر بھیجا۔ یہی وجہ ہے جہاں مسلمان آپ پر اپنی جان مال اولاد سب کچھ نچھاور کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ وہاں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آپ سے اس قدر متاثر ہیں وہ نعتیں لکھتے ہیں۔ آپ پر کتابیں لکھتے ہیں۔ ایسے مذاہب کے لوگوں کے پاس اور کوئی نیک عمل نہ ہوا وہ محض اپنے اِس سب سے بڑے نیک عمل کی وجہ سے بخشے جائیں گے کہ آپ سے انہوں نے محبت فرمائی۔ آپ پر نعتیں اور کتابیں لکھیں۔ دو ماہ پہلے میں اپنے عزیز ترین بھائیوں خالد نذیر اور خواجہ وقاص کے ساتھ کینیڈا کے سب سے خوبصورت شہر ” وینکور“ گیا وہاں ایک سِکھ سے میرے ملاقات ہوئی۔ اُسے جب پتہ چلا میں شاعر ہوں اُس نے مجھ سے کچھ سنانے کی فرمائش کی میں نے اُسے اپنی پنجابی کی ایک غزل سنائی۔ پھر اُس نے بتایا وہ بھی شاعر ہے۔ میں نے اُس سے کچھ سنانے کی گذارش کی اُس نے مجھے اپنی لکھی ہوئی ایک نعت سنائی۔ پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگا نعت رسول اللہ کے صدقے میں آپ کا مذہب مجھے آپ کی جنت میں ضرور لے جائے گا۔ عید میلاد النبی کے موقع پر گلیوں ، بازاروں ، محلوں اور گھروں کو سجانے والوں پر کچھ لوگ یہ تنقید کرتے ہیں کہ اُنہیں ایسے اقدامات کے بجائے آپ کے اسوة حسنہ پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ بات اپنی جگہ بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ مگر جِس جذبے سے لوگ یہ سب کرتے ہیں اس کا اپنا ایک مقام ہے۔ اِس کے اجر سے وہ محروم نہیں ہوسکتے۔ ہماری زندگیوں میں اصل عید یہی ہے۔ اِس کی قدر کرنے کا سب سے عمدہ طریقہ یہی ہے کہ انسانیت سے ہم اُسی طرح محبت کرنے کی کوشش کریں جیسے آپ کرتے تھے۔ ظاہر ہے اِس حوالے سے بلکہ کسی بھی حوالے سے ہم آپ کے مقام تک پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ مگر انسانیت کی خِدمت اور قدر سے روزِ حشر آپ کے قریب ہونے کا شرف ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔ نماز ، کلمہ ، زکوٰة، حج ، روزہ ہم پر فرض ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ ایک فرض ہم پر انسانیت کی خدمت کا بھی ہے۔ اِس فرض کو ادا کئے بغیر کوئی فرض پورا نہیں ہوسکتا۔ آپ ” محسن انسانیت “ ہیں۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا ” روزِ قیامت میرے سب سے زیادہ قریب کوئی حاجی یا نمازی ہوگا“۔ آپ نے فرمایا ” روزِ قیامت میرے سب سے قریب وہ ہوگا جس کے اخلاق اچھے ہوں گے“۔ آپ کا فرمان مبارک ہے ” تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو اپنے اخلاق میں دوسروں سے اچھے ہیں“۔ پھر فرمایا ” قیامت کے دِن آدمی کے میزان میں سب سے زیادہ بھاری چیز اچھے اخلاق ہی

ہوں گے“۔ آپ کے حُسنِ اخلاق کا عالم یہ تھا آپ نے اپنی زندگی کے سخت ترین ایام طائف میں گزارے، عبد یا لیل کے قبیلے نے آپ سے نہایت تکلیف دہ سلوک کیا۔ مگر جب عبد یالیل مدینے آیا تو آپ نے مسجد نبوی میں اُس کے لئے خیمہ نصب کروایا، اُس کا خاص خیال رکھا۔ عبداللہ بن ابی زندگی بھر منافقت کرتا رہا ۔ وہ ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتا۔ اُس کا انتقال ہوا تو آپ نے اُس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا ” اگر مجھے یہ اختیار دیا جاتا کہ میرے ستر بار نماز پڑھنے سے اِس کی مغفرت ہو سکتی ہے تو میں اِس سے بھی زیادہ پڑھتا“۔ ایک بار حضرت عمر ؓ آپ کے دولت کدے پر آئے۔ اُس وقت قریش کی چند خواتین اور ازواجِ مطہرات آپ کے پاس بیٹھی اونچی آواز میں نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ حضرت عمر ؓ کی آواز سُن کر سب اُٹھ کر پردے میں چلی گئیں۔ اِس پر آپ نے تبسم فرمایا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا ” یا رسول اللہ اللہ کریم آپ کو اِسی طرح ہمیشہ خوش و خرم رکھے مگر اِس مسکراہٹ کا سبب کیا ہے“؟ آپ نے فرمایا ” مجھے اِن عورتوں پر حیرت ہو رہی تھی۔ یہ میرے پاس بیٹھی اونچی اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں جب اُنہوں نے تمہاری آواز سُنی فوراً پردے میں چلی گئیں“ اِس پر حضرت عمر ؓ اِن خواتین سے مخاطب ہوئے اور فرمایا ” اے اپنی جانوں کی دشمنو کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ سے نہیں ڈرتی ہو“؟ اِس پر اندر سے اُن عورتوں نے جواب دیا ” ہاں تم سخت مزاج ہو جبکہ آپ کی ذات سراپا نرمی اور عفو و حلم ہے“ ایک روز بیت نبوی پر بڑا جذباتی ماحول تھا۔ آپ نے وضو فرمایا۔ صحابہ کرام آپ کے وضو کا استعمال شدہ پانی لیکر اپنے جسموں پر مل رہے تھے۔ آپ نے صحابہ کرام سے پوچھا ” تم ایسے کیوں کر رہے ہو؟ صحابہ کرام نے فرمایا ” بس اللہ اور اُس کے رسول کی محبت میں ایسے کر رہے ہیں“۔ اِس پر آپ نے فرمایا ” جِس کو یہ چاہت ہو کہ اُسے اللہ اور اس کے رسول کی محبت حاصل ہو تو وہ اِن باتوں کا اہتمام کرے“۔ بات کرے تو سچی کرے۔ امانت میں خیانت نہ کرے۔ اپنے ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے“۔ آپ نے فرمایا ” تم اپنے طرز عمل کو لوگوں کے طرز عمل کے تابع بنا کر مت رکھو۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھلائی کریں گے اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم ظلم کریں گے۔ تم اپنے نفس کو ایک قاعدے کا پابندبناﺅ اگر لوگ نیکی کریں تو تم نیکی کرو اور اگر لوگ تم سے بدسلوکی کریں تو تم اُن پر ظلم نہ کرو“ !!


ای پیپر