اب ایسے نہیں چلے گا
24 نومبر 2018 2018-11-24

نہ جانے پاکستانی میڈیا اور اخبارات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بدتمیز، بڑھ بولے اور نیم پاگل قسم کے شخصی تصور کو ہماری عوام کے ذہنوں پر کیوں راسخ کرنا چاہ رہا ہے؟

امریکی صدر کا عہدہ کوئی عام مسند کا نام نہیں ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کے کمانڈر اِن چیف کا عہدہ ہے۔ اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات پالیسی کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن میڈیا کی چکا چوند کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ کی چند بے وقوفانہ حرکات کو پریذیڈنٹ آف یونائیٹِڈ اسٹیٹس کے ساتھ نتھی کرنا کج فہمی کے گرداب میں اپنے آپ کو پھنسانے کے مترادف ہوگا۔

ٹرمپ کے دورہِ حکومت میں دو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں تین ممالک ایسے ہیں جن کے سامنے ٹرمپ نے فرسٹ ایمپریشن میں غرانے کی کوشش کی لیکن جواب میں ردِ عمل اتنا سخت آیا کہ یہی ٹرمپ مِنمنانے پر مجبور ہوگیا میری مراد روس، ترکی اور ایران کی ہے۔ اور اس بار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تھنک ٹینک کی آشیربار کے ساتھ اپنے غیر فطری اتحادی پاکستان کو لتاڑنے کی ناکام کوشش کی۔ شاید اس گمان کے ساتھ کہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے ایک بیان ہی تو داغا جائے گا ۔ لیکن نہیں اس بار پہلا جواب پاک فوج کی جانب سے نہیں آیا، نہ ہی وزارتِ خارجہ نے ابتدائی ردِ عمل دیا۔ امریکی چینل فوکس نیوز کو انٹرویو دینا ڈونلڈ ٹرمپ کو کافی مہنگا پڑا۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں رکھا ہوا تھا۔ ہم پاکستان کو ایک اشاریہ تین ارب ڈالر سالانہ امداد دے رہے ہیں لیکن یہ امداد اب ہم نے بند کردی ہے۔ کیونکہ پاکستان ہمارے لیے کچھ نہیں کرتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو آئینہ دکھانے کے لیے اس بار فوج کا سربراہ نہیں پاکستان کا سربراہ سامنے آیا۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے موقف کو بیان کرتے ہوئے فوری ردِ عمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈ کی درستگی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ صاحب آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان کبھی بھی نائن الیون میں ملوث نہیں رہا لیکن اس کے باوجود پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ساتھ جتلائے گئے احسان کا جواب دیتے ہوئے یہ بھی بتادیا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان نے 75 ہزار افراد کی قربانی اور 123 ارب ڈالر کا مالی خسارہ برداشت کیا جب کے اس کے مقابلے میں امریکی امداد صرف 20 ارب ڈالر کی ہے۔ جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں امریکی صدر سے یہ پوچھا کہ وہ اپنے کسی اتحادی ملک کا نام بتاسکتے ہیں جس نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں اتنی قربانیاں دی ہوں۔

سفارتی آداب کو سامنے رکھتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کم و بیش انہی الفاظ کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 'بے خبری' کی خبر لی۔

پھر کیا تھا امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی سے لے کر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہر قسم کی امریکن غلط فہمی کو جھاڑ کر رکھ دیا۔

آرمی چیف نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا کو احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان نے عسکری، معاشی، سیاسی و سماجی لحاظ سے انتہائی زیادہ قیمت چکائی ہے اور ہم افغانستان میں امن کے لیے کوشاں رہیں گے۔ تاہم پاکستان کا وقار اور تحفظ ہمیشہ اولین ترجیح رہے گا ۔ شاید اس طرح کے بھرپور ردعمل کی توقع انکل سام کو کبھی نہیں تھی۔

پینٹاگون لاکھ تاویلیں دیتا رہے ہمارا ماننا ہے ٹرمپ کے بیانات کسی ذہنی اختراع کی بنیاد پر نہیں بلکہ امریکی تھنک ٹینک کی سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ کیا امریکا یہ نہیں جانتا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے کیا قربانیاں دی ہیں۔

اس سرزمین کا چپہ چپہ امن کی راہ میں قربانیوں کی لازوال داستان بیان کرتا رہا ہے۔ گلی گلی میں بین اور ماتم برپا ہوتے رہے ہیں۔ امن کے دشمنوں نے شاہراہوں، عمارتوں، تفریح گاہوں اور کھیلوں کے میدانوں میں خون کی ہولی کھیلی۔ سرسبز لہلاتی فصلیں بارود میں سانس لے چکی اور جیتے جاگتے، ہنستے بستے انسان بارود سے فنا ہوتے دنیا نے دیکھے۔

اس قوم کو کم از کم ڈونلڈ ٹرمپ نہیں بتا سکتا،نہ ہی جتلا سکتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا نہیں یا سینہ تان کر اس کا مقابلہ نہ کیا ہو۔ لہو میں لپٹے بیٹوں کو، باپ کو، بہن کو یا بھائی کو ہزاروں آنکھوں نے دیکھا ہے، اِن کے جسدِ خاکی کو لاکھوں کاندھوں نے اٹھایا ہے اور مٹی کے حوالے کیا ہے۔ کم و بیش ہر پاکستانی کئی ایسی راتیں گزار چکا ہے جب ٹی وی پر دہشت ناک مناظر دیکھ کر نیند نہ آئی ہو، ایمبولنس کے سائرن کی آوازیں کانوں میں گونجتی نہ ہوں یا اپنوں کو کھو دینے والوں کی آہ و بکا نگاہوں کے سامنے گھومتی نہ ہوں۔

ہاں ایک وقت ایسا تھا جب یہ پاک سرزمین بارود کی ناپاک بو سے آشنا ہی نہ تھی۔ لوگ آزادی سے گھومتے پھرتے تھے، پارکس میں بڑے بڑے دسترخوان سجتے اور لوگ مل کر خوشیاں بانٹتے۔ لیکن پھر اس سادہ لوح قوم کو انکل سام کی نظر لگ گئی۔

ٹرمپ ٹاوراور وائٹ ہاو¿س میں زندگی گزارنے والا شخص کبھی بھی، کہیں بھی اور کچھ بھی کہنے کی شہرت رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا کھلے عام اظہار کرنے، بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور مسلم ممالک پر پابندیاں لگانے سمیت کئی اشتعال انگیز اور نفرت انگیز اقدامات کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتا۔

میں یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ٹرمپ کو اس خطے کی تاریخ سے ناواقفیت، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار سے لاعلمی اور افغانستان میں امریکی فوج کے شکستہ قدموں کا علم ہی نہیں ۔

ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے یا شاید خطے میں مسلسل امریکی مداخلت، دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں پر بوکھلاہٹ اور افغانستان میں مسلسل ناکامیوں پر امریکا کو صرف اور صرف شرمندگی ہے جس کو چھپانے کی کوشش ہورہی ہے۔


ای پیپر