Khalid Minhas, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
24 May 2021 (11:51) 2021-05-24

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں یہودیو ںکی تعداد کتنی ہے؟ چلیں ذہن پر زیادہ زور نہ دیں میں آپ کو بتا دیتا ہوں ۔ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں بسنے والے یہودیوں کی تعداد ایک کروڑ سنتالیس لاکھ سات ہزار چار سو ہے۔جی آپ نے صحیح پڑھا ہے اور یہ اعداد و شمار میں نے یہودیوں کی عالمی تنظیم کی ویب سائٹ سے حاصل کیے ہیں۔ 1939 میں جنگ عظیم دوئم سے پہلے دنیا بھر میں یہودیوں کی تعداد 16.6ملین تھی۔ اسرائیل میں رہنے والے یہودی دنیا بھر میں رہنے والے یہودیوں کا 45فیصد ہے۔ اسرائیل میں رہنے والے یہودیوں کی تعداد 67لاکھ ہے۔52لاکھ یہودی اسرائیل میں ہی پیدا ہوئے جبکہ باقی لوگ امریکہ یورپ اور دنیا کے دوسرے علاقو ں سے آ کر یہاں آباد ہوئے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جہاں رہنے والے یہودیوں کی تعداد 57لاکھ ہے ۔ فرانس میں رہنے والے یہودیو ںکی تعداد 4لاکھ 50ہزار ہے۔دو لاکھ کے قریب وہ یہودی اسرائیل میں آباد ہیں جو یورپ میں ہونے والے ہالوکاسٹ سے بچ گئے تھے۔

دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب اسی کروڑ ہے۔ یہ دنیا کی کل آبادی کا 24فیصد اور دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔دنیا کے 26ملکوں میں اسلا م کو سرکاری مذہب کے طور پر لیا جاتا ہے جبکہ او آئی سی جو مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے اس میں 57ممالک شامل ہے۔ انڈونیشیا دنیا بھر میں سب سے مسلمان آبادی والا ملک ہے جبکہ پاکستان دوسرے نمبر ہے ۔ بھارت تیسرے نمبر پر ہے ۔ بنگلہ دیش چوتھے نمبر پر ہے۔جہاں تک یورپ کا تعلق ہے 60لاکھ مسلمان فرانس میں رہتے ہیں۔50لاکھ جرمنی اور 34لاکھ برطانیہ میں رہتے ہیں۔34لاکھ50 ہزار مسلمان امریکہ کے شہری ہیں۔

ان اعداد و شمار کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ اسرائیل کی معیشت کس سمت جا رہی ہے اور اتنی چھوٹی آبادی والا ملک کس طرح ساری دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے اور دنیا کو اپنے اشاروں پر نچا رہا ہے۔فری مارکیٹ اکانومی کا حامل یہ ملک ورلڈ بنک کے مطابق ایز آف ڈونگ بزنس میں 35ویں نمبر پر ہے۔ امریکہ کے بعد اسرائیل دوسرا ملک ہے جہاں پر سب سے زیادہ اسٹارٹ اپ ہوتے ہیں۔ امریکہ اور چین کے بعد تیسرا بڑا ملک ہے جس کی کمپنیاں سب سے زیادہ اسٹاک ایکسچینج میں کام کر رہی ہیں۔امریکی کمپنیوں انٹیل،مائیکروسوفٹ اور ایپل نے اپنے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ دفاتر اسرائیل میں کام کیے جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں جن میں آئی بی ایم ، گوگل،ایچ پی،سسکو،فیس بک اور میٹرولا کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا کام بھی اسرائیل میں ہو رہا ہے۔یہ اعداد و شمار کو سامنے رکھیں اور سوشل میڈیا پر ان کی مانیٹرنگ کو سامنے رکھیں تو سب کچھ سمجھ آ جانا چاہیے کہ کس جگہ سے کون کسے کنٹرول کر رہا ہے۔ اسرائیل کے پاس قدرتی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں اس کے باوجود وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔اسرائیل کی ڈائمنڈ اینڈ پالشنگ انڈسٹری سب سے بڑی ہے اور وہ اس کی برآمدات کا تقریباً 24فیصد ہے۔ اس ملک میں نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے سب سے زیادہ پیسہ لگایا جاتا ہے اور بے شمار انکیوبیشن سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ اس کی سیلی کون وادی کیلفورنیا کے بعد سب سے بڑی تصور کی جاتی ہے۔بل گیٹس ، وارنر، ڈونلڈ ٹرمپ اور کارلوس سلم نے اس ملک میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی 

ہے۔ یہ سرمایہ کاری اپنے شعبے میں کام کرنے کے علاوہ دوسری کمپنیوں کی صورت میں ہے۔کیمیکل انڈسٹری پر بھی بہت کام کیا گیا ہے ۔ برطانیہ نے 1920میں جب یہودیوں کو یہاں زمین خریدنے کی اجازت دی تو دنیا بھر سے یہودی سرمایہ کاروں نے یہاں پیسہ لگایا اور صنعتیں قائم کیں۔ پوٹاش کی مصنوعات برآمد کرنے والا یہ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ فارماسیوٹیکل کی سب سے بڑی انڈسٹری بھی اسرائیل کی ہے اسی طرح ایوی ایشن اور ڈیفنس میں اس کی سرمایہ کاری اتنی ہے کہ اس انڈسٹری سے اربوں ڈالر کے سودے پوری دنیا میں ہوتے ہیں۔ فوجی ساز و سامان برآمد کرنے والے ممالک میںاسرائیل دنیا کا دس فیصد اسلحہ فروخت کرتا ہے۔100سے زیادہ کمپنیاں اس وقت فوجی سازوسامان تیار کر رہی ہیں اور امریکہ اور یورپ کو اسلحہ برآمد کیا جا رہا ہے۔ بھارت بھی بڑی تعداد میں فوجی سازوسامان اور اسلحہ اسی ملک سے خریدتا ہے۔اسرائیل کی برآمدات کا 48فیصدحصہ دس کمپنیوں کے پاس ہے۔اسرائیل اپنی 32فیصد برآمدات امریکہ کو کرتا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ہانگ کانگ ہے، برطانیہ تیسرے اور چین چوتھے نمبر پر ہے۔ برآمدات بھی سب سے زیادہ امریکہ سے ہیں اور وہ کل برآمدات کا 13فیصد ہیں۔ حیرت انگیز طو رپر ترکی بھی اسرائیل کو برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے ۔ اسرائیل ترکی سے تقریبا 3بلین ڈالر کی اشیاء درآمد کرتا ہے۔

اب آپ کے سامنے وہ اعدادوشمار رکھ رہا ہوں جو آپ کو بہت زیادہ چونکا دیں گے۔ایک بہت چھوٹی آبادی کا ملک ہونے کے باوجود اسرائیل آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ سائنسدان پیدا کرنے والا ملک ہے۔10ہزار ملازمین میں سے 140سائنسدان اور ٹیکنیشن ہوتے ہیں جبکہ امریکہ میں یہ شرح دس ہزار میں 85اور جاپان میں دس ہزار میں 83ہے۔ اسرائیل کی ہائیر ایجوکیشن کونسل ایک پانچ سالہ پروگرام چلا رہی ہے جس کے تحت وہ کل طالب علموں کا چالیس فیصد کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے میں لینا چاہتے ہیں۔سوفٹ انجینئرنگ کے شعبے میں اب بھی 34فیصد اسامیاں خالی ہیں اور بیرون ملک سے ملازمین کو بھرتی کیا جارہا ہے۔ ورک فور س میں سب سے زیادہ یوکرائن اور اس کے بعد امریکہ سے لوگ اسرائیل آ کر کام کر رہے ہیں۔آئی ٹی سیکٹر میں 25 فیصد غیر ملکی کام کر رہے ہیں۔اسرائیل کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر اگرچہ دنیا میں سب سے زیادہ نہیں ہے لیکن اگر اسے آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو اس کا شمار چوٹی کے ممالک میں ہوتے ہیں۔ زرمبادلہ کے سب سے زیادہ ذخائرچین کے پاس ہیں اور اس کا حجم 33 لاکھ 30 ہزار 405 ملین امریکی ڈالر ہے۔ اس فہرست میں امریکہ کا نمبر 21واں اور اسرائیل کا نمبر17واں ہے۔ اسرائیل کے پاس ایک لاکھ ترانوے ہزارنو سو چھیانوے ملین امریکی ڈالر کے فارن ریزو ہیں۔ سعودی عرب 9ویں نمبر پر ہے۔ بھارت 5ویں اور پاکستان69ویں نمبر پر ہے۔

آپ یقینی طور پر ان اعدادوشمار سے پریشان ہو گئے ہوں گے۔ پریشان ہونا بھی چاہیے ۔ کیا وجہ ہے کہ اسلامی دنیا افرادی قوت اور وسائل ہونے کے باوجود پیچھے ہے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ ہم نے اپنا پیسہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے بجائے عیاشی پر لگایا ہے اور جو قوم عیاشی میں مبتلا ہو وہ اوپر نہیں جاتی بلکہ پستی کی طرف جاتی ہے۔ یہ دنیا کا اصول ہے۔دنیا میں کوئی ایسا فارمولہ نہیں ہے کہ گھر بیٹھے بیٹھے ملکوں کو فتح کر لیا جائے۔ اس وقت سائبر سکیورٹی میں اسرائیل سپر پاور کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ انہوں نے تعلیم اور تحقیق کی طرف توجہ دی ہے ۔مسلمان ممالک میں تعلیم کبھی بھی ترجیح نہیں رہی اور تحقیق سے تو انہیں اللہ واسطے کا بیر ہے۔اسلامی تعلیمات پر زور دینے والوں نے کبھی تعلیم و تحقیق پر زور دینے کی بات نہیں کی حالانکہ قرآن میں جگہ جگہ غور و فکر کرنے ، تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق پر زور دیا گیا ہے۔ اسرائیل بھی ہمارے بعد آزادہوا اور چین بھی لیکن دونوں ملکوں نے تعلیم اور تحقیق کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی حکمرانی قائم کر لی ہے۔ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کوکا کولا جیسا کوئی مشروب تیار نہیں کر سکے اور کوکا کولا کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور کووڈ میں جب لوگ مرنا شروع ہوتے ہیں تو فرانس کی بنی ہوئی ادویات کی تلاش میں نکلتے ہیں اور جو انجکشن چند سو میں دستیاب ہوتا ہے وہ بلیک میں لاکھوں روپے کا خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔دوسرے کے سرخ گال دیکھ کر دھوپ میں بیٹھ کر یا اپنے منہ پر تھپڑ مار کر اسے لال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاد تلوار سے کرنے کا زمانہ تو بیت گیا اب جہاد کرنا ہے تو ایف 16کے مقابلے میں ایف 16یا اس سے بہتر فائٹر جیٹ لانا ہو گا۔ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا اور سائنسدانوں کی تعداد کو بڑھانا ہو گا ورنہ ان کے جوتے اور ہمارے سر ہوں گے۔


ای پیپر