سندھ میں پولیس اختیارات کی گتھی
24 May 2019 2019-05-24

سندھ میں پولیس قانون کی گتھی نہ پولیس سربراہ اور حکومت کے درمیان سلجھ سکی اور نہ ہی سندھ اسمبلی میں منظور کردہ بل سے۔ اب معاملہ عدالت میں ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں قائم ڈویزن بنچ نے حال ہی سندھ اسمبلی سے منظور کردہ پولیس قانون کے بل اور اس پر کی گئی بحث کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ منظور کردہ بل سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق نہیں۔ سندھ اسمبلی نے بل منظور کرلیا ہے اب گورنر کے دستخط کے بعد اس پر عمل درآمد ہوگا۔ عدالت نے بتایا کہ اخبارات میں آیا ہے کہ بعض اراکین اسمبلی نے بل کی منظوری کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ عدالت چاہتی ہے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت کم ہو۔ عدالت نے سوال کیا کہ عدالتی احکامات کو کس حد تک بل میں شامل کیا گیا؟

’’ پولیس کا پروٹوکول فورس کا تعارف ختم ہونا چاہئے ‘‘کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ پولیس پہلے ہی سیاسی مداخلت کے باعث قانون پر عمل درآمد اور عوام کے جان و مال کی حفاظت سے دستبردار ہو کر مکمل طور پر پروٹوکول فورس بنی ہوئی تھی، اب مکمل طور پر حکمرانوں کی مٹھی میں آگئی ہے۔ یہ کام سندھ اسمبلی سے مشرف دور کا پولیس قانون بعض ترامیم کے ساتھ منظور کرانے سے نظر آرہا ہے۔ اس بل منظور ہونے کے بعد پولیس کے تمام اختیارت وزیراعلیٰ نے اپنے پاس رکھ لئے ہیں۔ اب ایس ایس پی سے آئی جی تک کے افسران کا تقرر وزیراعلیٰ کر سکیں گے۔ آپریشن اور انوسٹٹیگیشن پولیس کے دو الگ الگ محکمے ہونگے۔ پولیس پبلک سیفٹی کمیشن کے سامنے جوابدہ ہوگی۔ پولیس سندھ حکومت کا محکمہ ہے اس پر اختیار اور کنٹرول صوبائی حکومت کا ہی ہونا چاہئے۔ اب تک اس محکمے میں جو حالات خراب ہوئے ہیں وہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ پولیس کو سندھ کے منتظمین ، وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، سیاسی شخصیات اور منتخب نمائندوں نے بطور پروٹوکول فورس کے استعمال کیا ہے۔ ان کے نجی بنگلوں پر بھی گارڈ کے طور پر پولیس تعینات ہے۔ حکمران جو گڈ گورننس کی دعویٰ کرتے ہیں، امن و امان کی بات کرتے ہیں، وہ خود بلٹ پروف شیشے کے پیچھے کھڑے ہو کر تقاریر کرتے ہیں۔ کمانڈوز کے محاصرے میں ہوتے ہیں۔ پولیس کے تحفظ میں ہوتے ہیں، لیکن عوام کا تحفظ کون کرے؟ پولیس افسران کا تقرر بھی سیاسی شخصیات کی فرمائش پر کیا جاتا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد ہی نہیں، پہلے ہی ایس ایس پیز تعینات سیاسی لوگوں کی مرضی سے کئے جاتے رہے ہیں۔ پھر یہ افسران سیاسی رہنمائوں، وزراء، مشیروں کے جاہ و جلال، رعب، دبدبے اور بادشاہی برقرار رکھنے کے ایجنڈے پر عمل کرتے نظرآتے ہیں۔ اس بل کی منظوری کے بعداس مداخلت کو قانونی تحفظ مل گیا ہے۔ اگر محکمہ پولیس کے اہم عہدوں پر تقرریوں کے اختیارات حکومت سندھ کے سربراہ کے پاس چلے جائیں گے تو پھر آئی جی سندھ پولیس اور محکمہ داخلہ کا کیا کام رہ جاتا ہے؟ پولیس افسران آئی جی کے بجائے ان کی تعینات کرانے والے بااثر شخص کے احکامات کی تعمیل و تکمیل کریں گے۔ جس مہا مجرم پر بااثر سیاسی شخصیت کا دست شفقت اور سرپرستی ہوگی، وہ آئی جی کے زور لگانے کے باوجود گرفتار نہیں ہو سکے گا۔ اس ضمن میں ضلع خیرپور کے ذلو وسان کی مثال تازہ ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ قانون خواہ کتنے ہی اچھے کیوں نہ بنائے جائیں، اس محکمے میں جب تک سیاسی مداخلت ختم نہیں ہوگی تب تک نہ امن و امان قائم ہو سکے گا اور نہ ہی لوگوں کی داد رسی ہو سکے گی۔

سندھ میں بڑی تعداد میں سائبر کرائم کے کیس رپورٹ ہورہے ہیں۔یہ واقعات تعلیمی اداروں اور چھوٹے شہروں میں ہورہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور موبائیل فون کے ذریعے خواتین کو ہراساں یا بلیک میل کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ مہران انجنیئرنگ یونیورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس کو بھی سائبر کرائم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک لڑکی کے نام کا جعلی اکائونٹ بنا کر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر افسران پر الزام تراشی کی ۔انہیں ہراساں اور بلیک میل کیا۔

’’روزنامہ پہنجی اخبار‘‘ اداریے میں لکھتا ہے کہ ٹنڈو غلام علی میں سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ کے باعث خودکشی کرنے والی انیلا کا درد اگر کوئی سمجھنا چاہے ، اس کے آخری خط کی دو سطور ہیں جس میں اس نے کہا ہے کہ میں جینا چاہتی ہوں، میری مدد کی جائے۔‘‘ مگر جب تک مدد کا کوئی ہاتھ اس تک پہنچتا، تب تک موت کے مضبوط ہاتھ اس کے کمزور گلے تک پہنچ چکے تھے۔ یہ ایسا واقعہ ہے جس نے ہمارے سماج میں سائبر دنیا کے اس مکروہ چہرے کو سامنے لا کھڑا کیا ہے جہاں مجرمانہ ذہنیت کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ انہیں نہ قانون کا خوف ہے اور نہ اخلاقیات کا لحاظ۔ نتیجۃ اکثر معصوم زندگیاں آسانی سے وحشیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جو کہ ٹیکنالوجی سے لے کر اس کے کئی پہلوئوں سے بے بہرہ ہوتی ہیں۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں کوئی بھی ایجاد اپنے جوہر میں نقصان دہ نہیں ہوتی مگر اس کو استعمال کرنے والے اس کے منفی اور مثبت رجحانات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اگر مثبت ہاتھوں میں ہے تو اس کا کارآمد استعمال اجتماعی مقاصدکے لئے انتہائی فائدمند ہوتا ہے۔ جس طرح سے کسی معاشرے میں خراب اطوار و عادات کے لوگ ہوتے ہیںاسی طرح سے سائبر کی دنیا بھی اس طرح کے رجحانات سے خالی نہیں۔جیسے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اس کے مثبت اور منفی رجحانات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔پاکستان میں بھی سائبر شکایات ہر سال بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران اڑھائی ہزار شکایات پر ایف آئی اے کے سائبر کرائم سرکل نے تحقیقات کی ۔بدقسمتی سے ان میں اکثریت خواتین کو ہراساں یا بلیک میل کرنے سے متعلق تھیں۔ اگرچہ ایف آئی کا سائبر کرائم کنٹرول کرنے کے لئے نیشنل ریسپانس سینٹر موجود ہے۔ لیکن سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی اکثریت لاعلم ہے کہ یہ سینٹر کہاں ہے اور کیا کرتا ہے؟ سائبر دنیا اب مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کی پناہ گاہ بنتی جارہی ہے۔ جہاں سوشل میڈیا پر دوستی رکھ کر اغوا کرنے سے لیکر ہراساں اور بلیک میل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ آگاہی کی ملک گیر مہم چلائے، لوگوں کو بتائے کہ لوگ کہاں اور کس طرح سے اپنی شکایات درج کراسکتے ہیں۔ تاکہ سوشل میڈیا کی دنیا خاص طور پر خواتین اور کم عمر بچوں کے لئے محفوظ پلیٹ فارم بن سکے۔


ای پیپر