انسانیت بڑی چیز ہے اس کی قدر کرو
24 May 2019 2019-05-24

موسم گرم تھا ،ایک دم ٹھنڈی ہوا چلی تو میں ٹہلتے ٹہلتے پارک میں جا نکلی، خوبصورت موسم خوشگوار احساس پیدا کر رہا تھا،اچانک میری نظر پھولوں پر پڑی تو بے ساختہ میں نے آگے بڑھ کر ایک پھول توڑ لیا اوراس کی خوشبو محسوس کرنے لگی کہ اچانک ایک کلی بھی نیچے جا گری میرا دھیان پھول کی طرف تھا کہ قدموں کی چاپ سنائی دی جیسے کوئی دبے پائوں چل رہا ہو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو استاد جی میری طرف آ رہے تھے۔ میں نے گھبراہٹ میں استاد جی کو سلام کیا اس دوران میرا پائوں گری ہوئی کلی پرآ گیا۔ استاد جی نے سلام کا جواب دیا اورخاموشی سے میرے پائوں میں پڑی ہوئی بری طرح مسلی ہوئی کلی کوپکڑکرنم آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور بولے۔

بچہ جی! یہ کلی بیچاری کھلنے سے پہلے مسلی گئی۔

پتہ ہے اس نے ابھی پھول بننا تھا، اپنی خوشبو بکھیرنی تھی باغ میں

شہد کی مکھی نے اس سے شہد لینا تھا جس سے رب کی مخلوق نے فائدہ لینا تھا۔

آہ۔۔۔ یہ جو تمارے ہاتھ میں پھول ہے اپنی شاخ سے ٹوٹ گیا اورکچھ ہی دیر میں مرجھا جائے گا

کسی کے کام کا نہیں رہے گا۔ ابھی تو اس نے تیز ہوائوں میں پھنسے پروانوں بھنوروں کو راستہ بتانا تھا اپنی خوشبو سے آہ۔۔۔۔

یہ کہتے ہوئے استاد جی میرے سر پہ ہاتھ رکھ کے بولے۔

بیٹا انسانیت بڑی چیز ہے اس کی قدر کرو؟

یہ کہ کر وہ تو چل دیے اور میں ان کی باتوں میں کھوئی ہوئی بوجھل قدموں کے ساتھ گھرواپس پہنچی اوراستاد جی کی باتوں میں حکمت تلاش کرنے لگی۔

ایک دم میری نظرنیوزچینل پر پڑی توسکرین پر چلنے والی خبر سن کر میرے منہ سے آہ نکلی۔

آہ، ایک اور کلی مسلی گئی۔

دس سالہ فرشتہ مہمند کے ساتھ ہونے والی حیوانگی کی تصویر میرے سامنے تھی اور استاد جی کی بات میرے ذہن میں چیخ کی طرح گونج رہی تھی۔

بچہ، انسانیت بڑی چیز ہے اس کی قدر کرو اس کی قدر کرو

اس حیوانی فسٹریشن کے شکار جہالت کی دہلیز پرکھڑے ہولناک معاشرے کی تصویر دورجہالت کی یاد تازہ کر گئی۔

جس خونخوارمعاشرے میں درندہ صف لوگ بستے ہوں

جس بستی میں میں سزائے موت پانے والے کو پھانسی دینے کے دو سال بعد بری کر دیا جائے کہ تم بے گناہ تھے اب وہ دوبارہ زندہ کیسے ہوں؟

جس معاشرے میں امیر کی سزا معاف اورغریب کی 5دن کی سزا 6 سال میں کاٹنی پڑجائے

جس بستی میں انصاف بکتا ہو اورغریب کی کوئی شنوائی نہ ہو

ایسی بستی بھی کوئی بستی ہے جو صرف انسانیت کو ڈستی ہے۔

جہاں نیکی کرنے والے کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں اور درندوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔

ایسی بستی کو درندوں کی بستی کیوں نہ کہا جائے ۔

جہاں ظالم کو مظلوم اورمظلوم کو ظالم ثابت کرنے کے لیے بولیاں لگتی ہوں

جہاں دن دیہاڑے ماڈل ٹائون میں قتل عام ہو

جہاں دھرنوں پر بہو بیٹیوں کو سرعام نچوایا جائے

جہاں ساہیوال جیسے واقعہ کے قاتل آزاد ہوں

جہاں بلدیہ فیکٹری میں جلائے گے 350 زندہ افراد کا مجرم وی آئی پی اور نفیس کہلائے۔۔۔۔

جہاں حکمران روز انصاف کرپشن مظلوموں کی داد رسی کے بھاشن دیتے ہوں لیکن عمل صفر ہو۔۔۔۔ معصوم بچی فرشتہ مہمند گم ہو گئی

ماں باپ ڈھونڈنے نکلے

کون سی جگہ تھی جہاں تلاش نہ کیا ہو

غم کے مارے مظلوم غریب والدین پولیس کے پاس گئے غریب کی کون سنتا ہے آپ کراچی کو روتے ہیں یہ اسلام آباد کی پولیس کا کردارہے، بے حس پتھردل ظالم افسر نے رپورٹ تک درج نہ کی جو اس وقت تھانے میں اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔

5 دن سے اسلام آباد سے لاپتہ ہونیوالی معصوم فرشتہ جسکو وحشی درندوں نے اغوا کیا تھا او اس معصوم کو زیادتی کرنے کے بعد اسکی مسخ شدہ لاش ویرانے میں پھینک دی۔؟زمانہ جاہلیت سے معاملہ آگے بڑھ چکا، تب معصوم بچیوں کو صرف زندہ درگورکیا جاتا تھا اب موجودہ جدید جاہلیت میں بچیوں کو درگور کرنے سے پہلے ان کی عزتوں سے بھی کھیلا جاتا ہے۔

یہ کس نوعیت کی ہوس ہے کہ معصوم کلیوں کو مسلا جا رہا ہے۔ مسخ شدہ لاش برآمد ہونے پر لواحقین پولی کلینک ہسپتال اسلام آباد لے کر گئے، جہاں پوسٹ مارٹم سے انکار کیا گیا، بچی کی لاش سڑک پررکھ کر پولی کلینککے سامنے دھرنا دیا گیا، اسلام آباد انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی اور پوسٹ مارٹم سے انکار قاتلوں کی طرفداری سے کم نہیں، مہمندایجنسی کی بیٹی پوری قوم کی بیٹی ہے۔

یہاں تو سوال اٹھتا ہے۔۔؟

کیا یہ دشمن کی سازش ہے کہ پہلے ایسے واقعے کرائے جائیں پھر رپوٹ نہ درج ہونے دی جائے پھر اس معاملے کو طول دے دیا جائے کہ آگ لگ جائے معاشرے میں اورانارکی خوف و ہراس پھیلے اورپھر موقع پرستوں کو سیاست چمکانے کا موقع دیا جائے۔

لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں نفانفسی کا عالم بپا کر دیا جائے بچیوں کو پابند سلاسل کر دیا جائے سکولوں، تعلیم سے دورکر دیا جائے۔

یہ ایک دفعہ سخت سزا کیوں نہیں دے دیتے ایسے مجرموں کو کہ یہ عبرت کا نشان بن جائیں اورمجرم جرم کرتے وقت خوف کھائیں۔

لیکن لگتا ہے ہمارے حکمران ایسا نہیں چاہتے شاید وہ بھی اس معاشرے کی گراوٹ میں پارٹ آف گیم ہیں یا پھران کی کمزوریاں ان کر کچھ کرنے نہیں دیتیں۔۔۔

کوئی کہتا تھا کہ ''ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔۔۔۔ہرشہری سے پیار کرے گی۔۔۔۔عدل ملے گا ہر انساں کو۔۔۔۔ ظلم کو جنتاختم کرے گی۔۔۔۔

ظلم کا تو پتہ نہیں۔۔۔ البتہ اب اس ریاست سے انسانیت ضرور ختم ہونے لگی ہے۔

وہ ماہ مقدس جس میں شیطان بھی قید ہوتا ہے تو کیا انسان شیطان سے بھی زیادہ مکروہ ہوگیا ہے کہ اتنا قبیح فعل کرڈالا اس ماہ میں۔

اور پھر وہ شیطان۔۔۔۔۔جن کا کام ہی عوام کی خدمت ہے وہ ایک باپ کی داد رسی کی بجائے اس کی مظلومیت کا مذاق اڑانے لگ گئے۔

یاد رکھیں ہم نے اپنی اسی بے حسی کے ہاتھوں کئی فرشتے اور پریاں کھودی ہیں۔

یہاں پراستاد جی کی پھول کے مرجھا جانے کی بات سے وہ ایک پرائیویٹ سکول ٹیچر عاصمہ کا واقعہ سامنے آگیا جو اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے جاب کررہی تھی مگر روزے کی حالت میں اسے انتظامیہ کی طرف سے شدید ذہنی دبائو کا سامنا تھا جس کی وجہ سے وہ چکرا کر گر پڑی اور سر پر شدید چوٹ لگی مگر انتظامیہ نے ایمبولینس منگوا کر اسے ہسپتال تک نہ بجھوایا تاخیر سے ہسپتال پہنچنے کے باعث عاصمہ کی موت واقع ہوگئی۔ وہ پھول جو اپنی محنت سے تھوڑی سی خوشبو خرید کر اپنے گھر کو مہکاتا تھا وہ زمانے کی بے حسی کے ہاتھوں وقت سے پہلے مرجھا گیا۔

بس اگر یہی بے حسی جاری رہی تو ایسی عاصمہ، زینب اور فرشتہ جیسی کلیاں مسلی جاتی رہیں گی۔

خدارا اگر آپ میں انسانیت کی ہلکی سی رمق بھی باقی ہے تو آئیں آواز اٹھائیں، احتجاج کریں اور شمع سے شمع جلاتے رہیں جب تک اندھیرے کا خاتمہ نہ ہوجائے۔


ای پیپر