حب الوطنی اور فتوؤں کوچھوڑئیے ، بس پیسہ کمانے دیجئے؟
24 May 2019 2019-05-24

جب معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہوتاہے تو پھر انسان حلال اور حرام کے درمیان تمیز کھو دیتا ہے ۔ وہ انفرادیت کو اجتماعیت پر ترجیح دیتا ہے ،تعلیم و تہذیب کے بنیادی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ایسے کارنامے سرانجام دیتا ہے کہ حیوانیت بھی اس کی مافوق الفطرت حرکتوں پر شرمسار ہوجاتی ہے ۔ اگر آج کا انسان صرف پرندوں ہی سے کچھ سیکھ لے تو اس کی مشکلات کافی حد تک آسان ہوجائیں مگر سیکھنا چاہتا ہی کون ہے۔ یہاں تو صبروبرداشت کا اتنا قحط ہے کہ آج کا انسان کچھ سننا گوارا ہی کہاں کرتا ہے وہ تو ایسے وعظ کرتا ہے جیسے اسے سب معلوم ہے وہ کانوں سے زیادہ زبان کا استعمال کرنے پر بضد ہے حالانکہ یہ بات فطری اصولوں کے بھی خلا ف ہے اللہ پاک نے انسان کو دوکان دئیے اور ایک زبان، اب ہونا تویہ چاہیے تھا کہ انسان دوکانوں سے سنے زیادہ اور زبان کو کم استعمال کرے کیونکہ یہ کان کے مقابلے میں ایک عدد کم ہے ۔ قول وفعل میں تضاد کی بہتات بھی اسی وجہ سے کہ ہے ہم عمل کرنے سے زیادہ صرف باتیں کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں یہی اصل مسائل کی جڑ ہے ۔

اوپرپرندوں سے سیکھنے کی بات کی گئی تھی ، پرندے ہرروز صبح سویرے اس یقین کے ساتھ اپنے گھونسلوں سے رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں کہ ’’رازق‘‘انہیں بھوکا نہیں رکھے گا ۔ یہ پرندے اپنے گھونسلوں میں نہ تو دانا دنکا ذخیرہ کرتے ہیں نہ ہی کوئی ایسا کاروبار جس میں نفع و نقصان کا احتمال ہو۔’’رازق‘‘ اگر پرندوں کو رزق فراہم کرتا ہے تو آج کے انسان کو اس بات پرکامل یقین کرلینا چاہیے کے وہی’’رازق‘‘ اشرف المخلوقات قراردی جانے والی مخلوق کو بھی رزق فراہم کرتا ہے ۔ پھر کیوں آج کا انسان زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس میںمبتلا ہوگیا ہے ۔خوراک کی ذخیر ہ اندوزی مخلوق کی ’’خالق ‘‘ سے دوری کا سبب بنتی ہے۔ اگر انسان اپنے رب کے دئیے ہوئے رزق پر راضی ہوجائے تو وہ کبھی خود غرض بن کر دوسرے انسان کا معاشی استحصال نہ کرے۔لالچ و ہوس جیسی بری بلائیں آج کہ انسان کو سفاکانہ اقدامات پر اکسا رہی ہیں۔ مال جمع کرنے کی طمع انسان کو انسانیت کے درجے سے گرارہی ہے ۔آپ عدالتوں کا چکر لگا لیں وہاں آدھے سے زیادہ زیرالتواء مقدمات آپ کو وہ ملیں گے جس میں بھائی نے اپنے دوسرے بہن بھائیوں کا حق مارا ہوگا ۔فیملی کورٹس میں علیحدگی اور بچوں کے خرچوںکے الگ مقدے ہیں۔ ان ہی عدالتوں میں آپ کو چندپیسوں کے عوض جھوٹی گوائیاں دینے والے گواہ بھی ملیں گے ۔ اب ایک لمحے کے لیے رکیے اور ذہن پر تھوڑ ا زور دے کر سوچیے یہ سب ایک اسلامی معاشرے میں کیوں ہورہا ہے۔ کیا اسلامی ملک کے باشندوں کو وراثت کے معاملات کا نہیںپتہ، کیا انہیں نہیں معلوم کہ یتیموں کامال کھانے، ذخیرہ اندوزی کرنے والوں اورجھوٹی گواہی دینے والوں کے بارے میں کیا وعید ہے؟ انہیں سب معلوم ہے بس پیسوں کی چربی ان کی آنکھوں پر چڑھی ہوئی ہے یہ ڈالر جمع کرکے معیشت کو جام کریں ، مقدس ماہ میں ذخیرہ اندوزی کرکے مصنوعی طریقے سے زیادہ منافع حاصل کریں یا پھر جھوٹ کا پرچارکریں انہیں کسی مفتی یا علماء کے فتوے کی ضرور ت نہیں یہ حکومت میں ہوں یا نہ ہوں یہ حکومتی نمائندوں کے فر نٹ مین بن بھی ’’سیزن ‘‘ لگانے میں ماہر سمجھے جاتے ہیں ۔ یہ آئین کی صرف ان شقوں کا پرچا رکرتے ہیں جو ان کے مفادات سے متعلق ہوں ۔ ان کی نسلیں پیدا ہوتے ہی ارب پتی بن جاتیں ہیں اور حکمرانی کا خواب آنکھوں میں سجا لیتی ہیں۔ یہ وہ لو گ ہیں جو ذرا سی مشکل میں اپنا پیسہ ملک سے باہر منتقل کرنے میں دیر نہیں لگاتے بلکہ مصیبت پڑنے پر خود گورے کے دیس میں اپنا قیام بڑھا لیتے ہیں۔ پیسے کی طمع جب حب الوطنی کے تقاضوں پر غالب آجائے تو پھریہ فتوؤں کی پرواہ کہاں کرتے ہیں ۔ بحیثیت قوم بھی ہمار ا مجموعی طرز عمل یہی ہے، دیہاڑی دار ملازم سے لیکر تاجر تک پیسوں کی مالا میں پروئے ہوئے ہیں ۔ انسان سے زیادہ اس کے عہدے یا سٹیٹس کی عز ت کی جاتی ہے۔ہم تنقید و تحقیر کے نشتر چلانے میں ماہرہیںہم گلے پھاڑکر ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہیں، ہم آزادی کے ترانے گاتے ہیں، ہم تھڑوں پر بیٹھ کر حکمرانوںکو کو ستے ہیں ۔ ہم ایک منٹ میں ماہرمعاشیات بن کر ملکی اکانومی کا پوسٹ مارٹم کردیتے ہیں ، ہم یورپ اور امریکا کے شہریوں کو میسر سہولتوں کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے۔ان سب باتوں کے برعکس جب بات اپنے پر آتی ہے تو ہم پلک جھپکتے ہی اپنی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیںکیونکہ سننا ہم گوارا ہی کہاں کرتے ہیں ہم تو وعظ اور نصیحت کرنے کے عادی ہیںجہاں’’ عمل‘‘ کی بات آجائے وہاں ویسے ہی ہمار اخون کھول اٹھتا ہے ۔ ہمارے حکمران کشکول لے کر ملکوں ملکوں پھرتے ہیں لیکن عوام ٹیکس نہ دے کر شیخیاں بھگارتی ہے یہ رشوت کیلئے 25لاکھ دینے کو تیار ہے مگر ٹیکس دینے کیلئے ان کی جیب میں 25ہزار وپے بھی نہیں ۔یہی عوام ٹریفک اشارے پر نہ رک کر اپنے آپ کو بڑا سمجھتی ہے ۔یہ حکمرانوں کے پروٹوکول پرباتیں بناتے نہیں تھکتی لیکن جب انہیں کسی حکومتی محکمے میں خود پروٹوکول نہ ملے تو گلاپھاڑکر وہاں بیٹھے افسروں کوگالیاں دینے لگ جاتی ہے ۔ یہ قانون کی دھجیاں بکھیر کر فخر محسوس کرتی ہے۔ یہ لائن میں لگ کر کوئی چیز لینا اپنی توہین سمجھتی ہے ۔

جب معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہو تو وہاں صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلتا ہے ۔ حب الوطنی اور فتوؤں کی اہمیت سے ایسے معاشرے کے افراد ناآشنا ہوتے ہیں۔ایسے معاشرے میں بھوکے کو کھانا کھلا کر ثواب کمانے کے بجائے بھوکے کے منہ سے نوالہ چھین کر فخر محسوس کیا جاتا ہے ۔ دینی تعلیمات سے دوری کے باعث ایسامعاشرہ بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے ، ایسے معاشرے میں علمائے کرام اور مفتی صاحبا ن کی جگہ موٹیویشنل سپیکر لے لیتے ہیں جن کے پاس عوام پیسے دے کراپنے ڈپریشن کا وقتی علاج کرانے کیلئے لائنوں میں لگی ہوتی ہے ۔


ای پیپر