مزاح کے نئے رنگ اور فیس بک والے؟؟
24 May 2019 2019-05-24

نزیر انبالوی نے جب مزاحیات کا انسا ئکلوپیڈیا.. تیار کیا تو سب سے پسندیدہ بات وہ جملے وہ فقرے وہ چٹکلے تھے جو مختلف رکشوں ،ٹرکوں یا ایسی ہی سواریوں کے پیچھے لکھے ہوتے تھے.نزیر انبالوی نے یہ ’’ اچھا کام‘‘ ہماری درخواست پر کیا تھا۔۔ مشہور ریڈیو فنکارنظام دین نے کتاب لکھی۔’’ اکھان‘‘ ۔۔اس میں کچھ پنجابی محاورے تھے وہ باتیں وہ فقرے وہ تیکھے تیر جیسے جملے تھے جو عوام گلی محلہ چوکھٹ چوبارے ’’ ڈیرہ‘‘ چو پال یا عوامی مقام پر بولتے ہیںاور داد دیتے ہیں۔یہ اکھان یہ محاورے گفتگو میں رنگ بھر دیتے ہیں

آپ کا موڈ خراب ہو۔۔ بیٹا بات نہ مانے بیوی حسب عبادت بے عزتی کرے لیکن وہ شہزاد سپرا کے بقول:

ظالم ہووے پھاویں زمانہ

ٹھگاں نے وی ایتھوں ای کھانا

یعنی بیوی سے بے عزت ہوکے بھی تو لوٹ کے بدھو کو گھر آنا ہے۔ڈالر آسمان کو چھو رہا ہے۔عمران خان قوم کو کبھی نہ پورے ہونے والے عجب بے خواب دکھا رہے ہیں اسد عمر پھر سے کسی اعلیـ منصب پر براجمان ہونے کو ہیں اپنے محبوب عامر لیاقت پھر سے چینل پر ہیںسنا ہے اُن کی ’’ پہلی ‘‘ (دوسری تیسری وغیرہ سے ہمیں کیا۔۔)بشری عامر بھی اب کے کسی چینل پر رمضان کی نشریات کر رہی ہیں۔امید ہے اگلا رمضان ان دونوں کو ایک ساتھ رمضان نشریات کرتا دیکھیں گے۔انتظار کریں۔۔پریشان نہ ہوں۔وسیم اختر عدیم کے والد محترم فوت ہوئے ہم حسب عادت قصور جا کر افسوس نہ کر پائے بہر حال چونکہ ہمیں وسیم اختر عدیم سے محبت ہے ہم نے فون پر فیس بک پر تعزیت کر لی اور سمجھا کہ ہم سرخرو ہو گئے۔حالانکہ ہم شرمندہ ہو گئے۔۔ اور باتیں بدل گئیں رسم و رواج بدل گئے۔محبوب بدل گئے محبتیں بدل گئیں راستے بدل گئے منزلیں بدل گئیں۔۔وسیم اختر عدیم رانا ابوبکر کی طرح فیس بک والوں کو ہنسانے گد گدانے میں مگن رہتا ہے۔عادل گلزار فیصل آبادی بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں؟؟ ثقلین گوندل پولیس میں سب انسپکٹر ہیں لیکن گانے خوبصورت خوش کر دینے والی گفتگو۔۔ اور اپنی فنکاری سے لوگوں کے دل موہ لیتے ہیں۔ یعنی پولیس کی نوکری نے ثقلین گوندل کا کچھ نہیں بگاڑا۔۔ہمیں اِک اچھا فنکار بھی مل گیا اور پولیس کے کرخت و تلخ انداز میں یہ خوش رنگ آفیسر دلوں کو لبھانے لگا۔

وسیم اختر عدیم کا تازہ ٹکڑا دیکھیں۔(ایسے خوبصورت ہنسا ہنسا کے لوٹ پوٹ کرنے والے ٹکڑے یہ وسیم ۔۔۔ فیس بک پر عوامی تفریح کے لئے لگاتا ہے )

’’مسجد میں سب سے قابل رشک چیز وہ بابا ہوتا ہے

جس کو ہرپنکھے کے بٹن کا ٹھیک ٹھیک ’’ اڈریس‘‘ معلوم ہوتا ہے‘‘

وسیم نے ہمیں صبح سویرے ہنسایا اور بہت کچھ یاد دلایا۔۔آپ تھکے ہارے گھر آئیں تو اندھیرے کمرے میں داخل ہوں تو ہاتھ کو ہاتھ سمجھائی نہیں دیتا۔۔آپ غصے میں سارے بٹن دباتے ہیں ابّا جی سوئے ہوں تو پھر جو کچھ سننا پڑتا ہے خدا کی پناہ۔۔ مساجد میں بہرحال ایسے بابے ہوتے ہیں جو مسجد پر بھی نظر رکھتے ہیں مولوی پر بھی اور نمازیوں پر تو اُن کی یقیناّنظر ہوتی ہی ہے۔۔محلے کی بزرگ عورتوں کی طرح۔( جو طلاقیں کروانے خواصورت لڑکیوں کے رشتوں کی راہ میں رکاوٹ ڈال کر خوش ہوتی ہیں خود کو فنکار سمجھتی ہیںحالانکہ ایسی عورتوں کے میاں اکثر دوسری شادی کر کے فلاح پا چکے ہوتے ہیں)

وسیم اختر عدیم کا ایک اور چٹکلا ملاحظہ ہو۔۔

’’ پنجابی بلاشبہ عمدہ زبان ہے مگر پنجابی زبان میں الفاظ ا کے ستعمال میں کچھ احتیاط بھی ضروری ہے جیسا کہ آپ کسی بھی ادھیڑ عمر خاتون کو احترام سے ’’ ماں جی‘‘ کہ سکتے ہیں مگر کسی بھی ادھیڑ عمر مرد کو ’’ ابّا جی‘‘ نہیں کہ سکتے مختصر لکھیں تو پنجابی میں۔۔ ’’ ماں بہن سانجھی ہے مگر ’’ ابّا‘‘ ( (Father اپنا اپناہوتا ہے؟؟

ٰٰٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖ فیس بک پر اور ’’ ٹک ٹاک ‘‘ پر آپ کو چھوٹے چھوٹے ویڈیو کلپس ملیں گے جو نہایت مزیدار ہوں گے۔۔لیکن ان ویڈیو کلپس میں ہیروئن بازار سے نہ ملنے پرلڑکے یا مرد۔اپنی بہن یا پھو پھو۔۔خالہ کو بھی ہیروئن بنا کر پیش کر رہے ہیں اور داد بھی وصول کر رہے ہیں ۔۔کیونکہ ’’ شوق دا کوئی مل نئی‘‘۔(ویسے بھی رشتوں کا تقدس اب نہیں رہا۔نہ ہمارے ہاں نہ ہی ان کے ہاں ؟)

معیظ کی اماں نے آج صبح ایک لطیفہ سنایا۔۔جو سارا دن میرے سر کے گرد گھومتا رہا۔ اور میں سوچتا رہا کہ ’’ پہلے لطیفے سکھوں کے گرد گھوما کرتے تھے اب لطیفے خیر سے ’’ میاں بیوی‘‘ کے ہی گرد گھومتے ہیں۔ملاحظہ کریں ۔۔

’’بچہ سکول دیر سے پہنچا تو مس نے ڈانٹا اور غصے سے بولی۔

تم سکول دیر سے کیوں آئے ہو‘‘؟؟

بچہ:’’ میرے امّی ابّو کی لڑائی ہو رہی تھی‘‘؟؟

مس:’’ اِس لڑائی سے تمہارا کیا تعلق‘‘؟؟

بچہ:’’ مِس جی میرا اِک جوُتا امی کے ہاتھ میں تھا جبکہ دوسرا جوتا ابو کے ہاتھ میں ‘‘؟؟

ویسے میں اس دنگے فساد کے حق میں ہوں ۔۔میں سمجھتا ہوں کہ میاں بیوی کو ہر روز لڑ جھگڑ کے ۔۔توتو۔۔توتو (یہاں میں نہیں ہوتی) کر کے اِک دوسرے کو گالی گلوچ کر کے ۔۔جوتے ۔۔۔ کے ۔۔چپل کا کام استعمال کر کے ۔۔رات ٹھیک اڑھائی بجے سے پہلے پہلے صلح کر لینی چاہیئے۔۔؟!! اور صبح سویرے بیوی کو چاہیے کہ وہ ’’ محبت سے پوچھے۔۔۔’’ آپ ناشتے میں کیا لیں گے؟!

اور مرد جاتے ہوئے پوچھے۔۔

’’ بیگم رات جو تمھاری سینڈل لڑائی مار کٹائی کے دوران ہمسائے کے گھر جا گری تھی۔۔کو کوشش کرنا وہ کسی طرح سے مل جائے۔۔اگر نہ ملی تو شام تیار رہنا۔۔میں تمہیں نئی سینڈل لے کر دونگا۔؟؟!!

طلاق اور علیحدگی سے لڑنا جھگڑنا ،جھگڑنا پھر لڑنا کہیں بہتر ہے یہ میرا مشورہ ہے لیکن کریں گے تو آپ وہی جو آپ کا دل چاہے یا آپ کی بیگم پسند کرے؟!!


ای پیپر