”ذمہ دار عمران خان نہیں ہے“
24 May 2019 2019-05-24

آپ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی تصاویر پر تبصرے کرتے ہوئے اخلاقیات کی ہر حد پار کرجانے والوں کی ذمہ داری عمران خان پر عائد کرتے ہیں، نہیں نہیں ، آپ غلط کر رہے ہیں، عمران خان اس کے ذمے دار نہیں ہیں، یہ المیے جیسی سوچ انہوں نے پیدا نہیں کی، انہوں نے تو اس سوچ کو اپنے لہجے، الفاظ اور انداز کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے محض ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے، جی ہاں، وہی سوچ جسے بی بی سی اُردو نے ایک خاتون مہوش اعجاز کے ٹوئیٹ سے اپنی تحریر ’ دیسی دماغ ولیمے کی فوٹو سے زیادہ سوچنے کی اہلیت نہیں رکھتا‘ کے عنوان کے طور پر پیش کیا ہے۔

درست ہے ناں کہ مریم نواز کسی نوخیز لڑکی کانام نہیںجو کسی نوجوان سے ملنے کے لئے ڈھکے چھپے گئی تھی، پینتالیس برس سے زائد عمر کی ایک میچور خاتون، تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کی بیٹی جو ایک نوجوان بیٹے کی ماں ہی نہیں بلکہ اس کی ایک بیٹی بھی ماں بن چکی ہے۔وہ ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک کو عملی طور پر لیڈ کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور ایک دوسری بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ سے افطارڈنر پر ملاقات کرتی ہے تو پوچھا جاتا ہے، ’اس پیار کو کیا نام دوں‘ میں نے کہا، اس پیار کو وہی نام دو جو تم اپنے بیٹے، بھائی، کزن یا کسی بھی قرابت دار سے ملتے ہوئے دیتی ہو، ہاں، اگر تم کوئی خاندان رکھتی ہو۔ چھوٹے گھروں سے سکرین تک کا بڑا سفر کرنے والی عورتوں میں سے ایک نے پوچھا، اس کا خاوند کیپٹن صفدر کہاں ہے۔ جواب تو اسے ترنت ملے کہ جب تم اپنے چینل پر بیٹھ کر پروگرام کرتی ہو تو کیا اپنے خاوند کو ساتھ بٹھاتی ہو اور اس ذہن کے اس گند کو پھیلانے میں کچھ سیاسی تجزیہ کار بھی پیچھے نہیں رہے لیکن معذرت کے ساتھ وہ شائد سیاسی تجزیہ کار نہیں ہیں، وہ بھانڈ ہیں، جگت باز ہیں، میراثی ہیں (میراثیوں سے معذرت کے ساتھ کہ وہ بھی ایک میراث لئے ہیں)، کیا انہیں اس تصویر میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کی جگہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نظر نہیں آئے، افسوس، ہمارے پاس اب کوئی نوابزادہ نصرا للہ خان بھی نہیں کہ جو ایسے لوگوں کی ذہنی، علمی اور فکری اصلاح کر سکے، قحط الرجا ل سا قحط الرجال ہے۔

مگر میں اس کے باوجود کہوں گا کہ اس کا ذمہ دار عمران خان نہیںہے۔ عمران خان تو آٹھ ، نو برس پہلے سیاسی طور پر دیکھا اور سنا نہیں جاتا تھا کہ پھر اسے بڑی ذمہ داری کے لئے منتخب کر لیا گیا۔ گھٹیا اور ذومعنی باتیں کرنے والوں کی ذمہ داری عمران خان پر عائدکرنے سے پہلے ہمیں ان لوگوں کے والدین اور اساتذہ کرام کے بارے بھی تلاش گم شدہ کا اشتہار دینا چاہئے ، پوچھنا چاہئے کہ جب ان کی اولاد سوشل میڈیا پر کوئی گالی دیتی ہے، فحش جملہ لکھتی ہے یا کسی کی تضحیک کرتی ہے وہ کہاں ہوتے ہیں۔کتنے والدین ہیں جو اپنے بچوں کے سوشل میڈیا پیجز کی نگرانی کرتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر اسی طرح نظر رکھتے ہیں جیسے کمپیوٹر اور فون سے باہر عملی زندگی میں رکھنے کی ضرورت ہے، افسوس، ہمارے تعلیمی ادارے بھی صرف ڈگریوں کی پیداوار والی فیکٹریاں رہ گئی ہیں، یہاں تعلیم تو ہو سکتا ہے کہ بہت اچھی دی جاتی ہو مگر تربیت کا بدترین فقدان ہے بلکہ جو جتنا منہ پھٹ اور بدتمیز ہے وہ اتنا ہی انقلابی ہے، اتنا ہی ہیرو ہے۔ میرے پاس دلیل موجود ہے کہ عمران خان کو اقتدار میںآئے ہوئے ابھی دس، گیارہ ماہ ہی ہوئے ہیں مگر یہ سارا کچرا تو پہلے سے موجود ہے، اس وقت سے جب معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری خود نواز شریف، شہباز شریف، بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے پاس تھی تو انہوں نے معاشرے کی اعلیٰ اقدار کے فروغ کے لئے تعلیمی اداروں میں اور تعلیمی نصاب میں کیا اصلاحات کیں، کیا انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کو بھی اہمیت دی۔ چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بنے تو مار نہیں پیار کا نعرہ لگایا، بہت اچھا نعرہ تھا ( اور ہے) کہ ہم اپنے بچوں کو چند جنونی اساتذہ کے ہاتھوں مروانے کے لئے سکولوں میں نہیں بھیجتے مگر کاش ایسا بھی ہوتا کہ کوئی استاد اس وقت تھپڑ مار کے اس طالب علم کاوہ منہ لال کردیتا جس سے گالی نکلتی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ والد اور استاد کا ایسا تھپڑ کسی بھی نوجوان کو عمر بھر یاد رہتا، ایسے نوجوان پھر سوشل میڈیا پر وہ کچھ کرنے لگتے جو کچھ وہ کر رہے ہیں تو ایک لمحے کے لئے ان کے ہاتھ ضرور کانپتے۔

پروفیسر چودھری احسن اقبال نارووال والے، اب مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں مگر جس وقت یہ وژن ٹوینٹی فائیو بیچا کرتے تھے تو اس وقت انہوں نے ایک تعلیمی ادارے میں تقریر کی اور کہا کہ پاکستان کو سیاسیات ، سماجیات اور تاریخ جیسے فارغ مضامین پڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ، پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو نوجوانوں کو ایسے علوم پڑھائے جائیں جن سے وہ روزگار کما سکیں، یعنی انہیں پلمبر اور الیکٹریشن بننے کی تعلیم دینا ہسٹری، پولیٹیکل سائنس، سوشیالوجی اور اسلامیات پڑھانے سے کہیں بہتر ہے۔ بہت ساروں نے اس پر تالیاں بجائیں اور میں نے سر پکڑ لیا۔ معاملہ یہ ہے کہ تعلیم روزگار کے لئے اہم ہے مگر تعلیم صرف روزگار کے لئے اہم نہیں ہے۔ یہ انسان کو انسان کے لئے اہم ہے۔ تاریخ اخلاقیات اور اچھائی کی طرف رہنمائی کرتی ہے لہٰذا گندے اخلاق اور گندے کردار والے لوگ تاریخ سے بھاگتے ہیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا مگر افسوس ہم تاریخ کو پڑھنے اور پڑھانے کو بھی تیار نہیں کیونکہ وہ براہ راست روپے نہیں دیتی۔ اب سوشل میڈیا پر ڈگریوں کے انبار والے گدھے ڈھینچوں ڈھینچوں کر رہے ہیں،دولتیاں جھاڑ رہے ہیں حالانکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر تربیت بھی ہوتی تواس میں ان حیوانوں کو انسانوں میں بدلنے کی طاقت تھی۔

مجھے کہنے دیجئے کہ جب مریم نواز اور بلاول بھٹو کی ملاقات پرکمنٹس ہوتے ہیں کہ یہ سیاستدانوں کی جمہوریت اور عوام کی خاطر ملاقات نہیں بلکہ لٹیروں کی ہے اور لوٹ مار کے تحفظ کے لئے ہے تو اس کا ذمہ دار بھی عمران خان نہیں بلکہ شائد نواز شریف، شہباز شریف، ان کا وزیرتعلیم رانا مشہود ا ور اس جیسے دوسرے نام نہاد جمہوریت پسند کہیں زیادہ ہیں جن کے ادوار میں تعلیمی نصاب کچھ اداروں کے تقدس کو تو آسمانی صحیفوں جیسا واجب الاحترام بنا کے پیش کرتے رہے مگریہ کہیں نہ لکھا کہ انہی میںا یک ادارہ پارلیمنٹ بھی ہے جسے مدر آف دی آل انسٹی ٹیوشنز کہا جاتا ہے، کیا انہوں نے کبھی اپنی نسلوں کو بتانے کی کوشش کی کہ پارلیمنٹ اپنی اس حیثیت میں دوسرے تمام اداروں سے کہیں زیادہ اہم ، مقدس اور احترام کے قابل ہے ، افسوس، اس کے برعکس ہر کوئی اس غریب اور لاوارث ماں کو گالی دیتا ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے تقدس کے تحفظ کی ذمہ داری جن پر ہے وہ وہ اپنی ماں کی بجائے ان بھائیوں سے زیادہ ڈرتے ہیں جن کے پاس چھڑی، ہتھوڑا اور بندوق ہے اور یوں اداروں کی ماں اپنے ہی بیٹوں کے ہاتھوں عزت گنواتی رہتی ہے اور میری بات پلے سے باندھ لیجئے کہ اس میں قصور پارلیمنٹ کے دشمنوں کا نہیں ، نام نہاد دوستوں کا ہے۔


ای پیپر