کراچی ۔۔۔الگ صوبہ بنانے کی آواز یں بھی اُٹھنے لگیں
24 مئی 2018 (22:07) 2018-05-24

اسلام آباد:قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان نے فاٹا انضمام کے بعد کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ الگ صوبے کے مطالبے پر پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج کیا اور دونوں جماعتوں کے ارکان میں شدید تلخ کلامی ہوئی ۔ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے "سندھ میں ہوگا کیسے گزارا، آدھا ہمار آدھا تمہارا©" کے نعرے لگائے۔ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ حل کر رہے ہیں تو ایک اور مسئلہ ”کاٹا“کا بھی ہے جس سے مراد کراچی ایڈمنسٹریٹو ٹرائیبل ایریا ، سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے استحصال ہواہے ،سندھ کے شہری علاقوں کو انکا حق نہیں دیا جارہا ،سندھی شہری علاقوں کا ایسا استحصال ہوا ہے کہ فاٹا سے کم تر حالات کراچی کے ہو گئے ہیں.

اس ایوان نے کراچی کی طرف توجہ دی تو حالات مزید کشیدہ ہو جائیں گے31ویں آئینی ترمیم کے ساتھ ساتھ کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی قرارداد بھی منظور کی جائے۔وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر اظہار خیال کر رہے تھے ۔ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اکیسویں آئینی ترمیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ،آئینی ترمیم کوئی بھی ہو وہ ہمیشہ اہم نوعیت کی ہوتی ہے جس پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہونا چاہیے ، آئینی ترمیم کو ایک ہی دن منظور کروانے سے اچھا پیغام نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کل بھی پاکستان کےساتھ کھڑی تھی ،آج بھی پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ، ہم نے عملی طور پر اس کا ثبو دیا ہے ، ہم فاٹا سے متعلق آئینی ترمیم کی حمایت کرتے ہیں مگر فاٹا کے حوالے سے ہمارا پہلے دن سے ایک مو¿ قف رہا ہے ۔

ایم کیو ایم نے جنوبی پنجاب اور ہزارہ ڈویژن کے ساتھ فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا ، ہم نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ نے انضمام کرنا ہے یا الگ صوبہ بنانا ہے تو وہاں ریفرنڈم کروائیں ۔ فاروق ستار نے کہا کہ اگر یہ پاکستان کی تکمیل کا ایجنڈا ہے تو ہم اس کی حمایت کرتے ہیں ، فاٹا کی عوام کی ستر سالہ قربانیوں کو مگر مچھ کے آنسو بہا کر مرہم نہیں لگانا چاہتے ، اگر جلد بازی میں فاٹا کا انضمام ہو گیا اور بعد میں فاٹا کو الگ صوبہ بنانا پڑا تو پھر بڑی مشکل ہوگی کیونکہ الگ صوبہ بنانے سے متعلق آئین بڑا مشکل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں متعدد لوگ انضمام کی مخالفت کر رہے ہیں جن کی اکثریت فاٹا سے تعلق رکھتی ہے ، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ”مدعی چست اور گواہ سست“اس آئینی ترمیم کی حمایت کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم اپنے مزید انتطامی یونٹس کے قیام کے مطالبے سے دستبرار ہو رہے ہیں ، ہماری تجویز کے مطابق خیبرپختونخوا کے چار انتظامی یونٹس بن سکتے ہیں ، ہمارا شروع دن سے مطالبہ ہے کہ تمام علاقوں کو ان کی خود مختاری دینی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی آئینی ترمیم کی حمایت کےلئے اپوزیشن اور حکومتی پارلیمانی رہنما ہمارے پاس آئے ، ہم اپنی سیاسی برادری کے ساتھ ہیں ، آج ہم فاٹا کا مسئلہ حل کر رہے ہیں تو ایک اور مسئلہ ”کاٹا“کا بھی ہے جس سے مراد کراچی ایڈمنسٹریٹو ٹرائیبل ایریا ہے ۔

کراچی پاکستان کی ترقی کا مرکز ہے اس لئے اس مسئلے کو بھی حل کرنا ہوگا ۔ا س موقع پر پیپلزپارٹی کے ارکان نے احتجاج کیا اور نو نو کے نعرے لگائے ۔ اس موقع پر ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ سپیکر ایاز صادق نے ڈاکٹر فاروق ستار کو صرف فاٹا تک محدود رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایوان میں فاٹا کا ایشو زیر بحث ہے اس لیے صرف فاٹا کی حد تک بات کی جائے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ وفاق اور صوبائی حکومت کی طرف سے استحصال ہواہے ، جو شور مچا رہے ہیں میں تو صرف ایک سوال کا جواب مانگتا ہوں کہ 2008 سے2018تک کراچی کو ایک قطرہ پانی دیا ہے ؟حیدر آباد کو ایک یونیورسٹی دی ہے ؟سندھی شہری علاقوں کا ایسا استحصال ہوا ہے کہ فاٹا سے کم تر حالات کراچی کے ہو گئے ہیں ، اس ایوان نے کراچی کی طرف توجہ دی تو حالات مزید کشیدہ ہو جائیں گے اور کراچی میں ملک دشمن عناصر دوبارہ آجائیں گے ، ہم پاکستان کی آخری شیلڈ ہیں ۔ آئینی ترمیم کے ساتھ ساتھ کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی قرارداد بھی منظور کی جائے ، کیا کراچی پاکستان کا حصہ نہیں ہے ، کئی سالوں سے ہم سنتے آرہے ہیں ، آج ہماری بات بھی سنی جائے ۔اس موقع پر ایم کیو ایم کے ارکان نے بھی شدید نعرے بازی کی اور (سندھ میں ہوگا کیسے گزارا، آدھا تمہارا آدھا ہمارا)۔


ای پیپر