File Photo

 آ ئندہ الیکشن میں طالبان خواتین امیدواروں کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ،سنسنی خیز انکشافات
24 مئی 2018 (16:31) 2018-05-24

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سینیٹر عبدالرحمان ملک نے انکشاف کیا ہے کہ آمدہ الیکشن میں صوبہ خیبر پختون خواہ میں طالبان کی جانب سے الیکشن میں حصہ لینے والی خواتین کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کے پی میں سیکورٹی تھریٹس موجود ہیں ، سوشل میڈیا پر آزاد خیال مسلمانوں کے خلاف قتل کے فتوے دئیے جا رہے ہیں سائبر کرامز ونگ کی جانب سے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی کمیٹی نے موبائل کمپنیوں کی جانب سے ایف بی آرٹیکس کی تفصیلات طلب کر لیں ۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا، اجلاس میں عبدالرحمن ملک ، ڈاکٹر اشوک کمہار، رخسانہ زبیری ، ثناجمالی نے شرکت کی ۔ اجلاس میں آنے والے اجلاسوں کے بارے میں ایجنڈہ کے بارے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ سینیٹر عبدالرحمن ملک نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا میں مخالفین کو گالی گلوچ دی جارہی ہیں ۔کچھ تنظیموں کی جانب سے مخالفین کو ٹارگٹ کر کے انہیں تشددکا نشانہ بناتی ہیں، حال ہی میںوزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے جب ملک کے سیکورٹی چیف پر حملہ ہوا۔

جب سائبر کرائمز کے ذریعے تھریٹ آجاتی ہے تو کون سی کمیٹی اس معاملے کو دیکھتی ہے صوبہ خیبرپختون خواہ میں طالبان کی جانب سے الیکشن میں حصہ لینے والی خواتین کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کے پی میں سیکورٹی تھریٹس موجود ہیںوہاں پر سیاست میں حسہ لینے والی خواتین نشانے پر ہیں اگر حملہ ہواتو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ ہمیں اس بارے میں گائیڈ لائن دینی ہو گی اس معاملے میں ایف آئی اے کا سائبر کا قانون پورا اترتا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی روبینہ خالد نے کہاکہ کہ اس معاملے میں جلد ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کو کمیٹی میں بلوا رہے ہیں ۔

کمیٹی سیکرٹری نے اجلاس میں بتایا آنے والے اجلاسوں میں پی ٹی اے کو بلوایا جا رہاہے جسمیں ان سے ملک بھر کے موبائل کی سموں کا ریکارڈ اور موبائل آئی ایم ای نمبر کو یقینی بنا یا جائے ڈاکٹر اشوک کمہار نے مطالبہ کیا کہ آنے والے اجلاس میں موبائل کمپنیوں کی طرف سے بریفنگ دی جائے جس میں بتایا جائے کہ وہ ایف بی آر کو ٹیکس دے رہی ہیں ، رحمان ملک نے کہا کہ کمیٹی میں برطانیہ اور جرمنی کا سائبر سسٹمز کا جائزہلیا جائے ہمارا ابھی تک گیٹ وے سسٹم مکمل نہیں ہے ان ممالک میں کمپیوٹر پر خطرے کی نشاندہی والے الفاظ ڈال دئیے جاتے ہیں جب بھی کوئی ان الفاظ کو بولتا ہے تو اس کی کال تھریٹس میں شامل کر لی جاتی ہیں۔


ای پیپر