Nai Baat Magazine Report
24 مارچ 2021 (15:29) 2021-03-24

جان توڑ محنت کے بعد 50روپے اور بے حساب گالیاں ہی ان کے حصے میں آتی ہیں...ورکشاپ کے چھوٹے کی دل دہلا دینے والی داستان

شہریار اشرف 

ہمارے ہاں بچوں سے محنت مزدوری کروانے کا رواج عام ہے۔ یومیہ نہایت کم اُجرت پر بچوں سے مزدوری کروانا چائلڈ لیبر کہلاتا ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں سیکڑوں بلکہ ہزاروں بچے مختلف شعبوں میں مزدوری کرتے نظر آئیں گے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان بچوں سے زبردستی مزدوری نہیں کروائی جاتی، یہ بچے یا تو بچپن میں ہی تعلیم سے باغی ہو کر سکولوں سے بھاگ جاتے ہیں یا پھر گھریلو حالات انہیں اس دلدل میں دھکیل دیتے ہیں جہاں سے نکلنا ان کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے جس کے بعد ایسے بچے ہمیشہ کے لیے اپنے بچپن سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اُستاد کی طرف سے کی جانے والی سختی اور غلط ناموں سے پکارے جانے پر یہ بچے دلبرداشتہ ہو کر کام سے بھاگ بھی جاتے ہیں لیکن انہیں پھر واپس یہیں آنا ہوتا ہے۔

اگر تصویر کا دوسرا رُخ دیکھا جائے تو ان معصوموں کے ساتھ انتہا درجے کی ناانصافی ہوتی ہے۔ جب مسلسل 12گھنٹے کام لینے کے بعد ان کی ہتھیلی پر 50روپے کا نوٹ تھما دیا جاتا ہے جس کے وہ مالک نہیں ہوتے بلکہ گھر جاکر یہ معمولی رقم والدین کے حوالے کر دیتے ہیں۔ کم عمری میں محنت مزدوری کرنے والے یہ بچے ’’چھوٹے‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ روزگار کے ٹھکانے پر قدم کیا رکھا کہ پھر تمام دن اس کے کان چھوٹے چھوٹے کی آوازیں سُن کر پک جاتے ہیں۔

چھوٹے یہ کرو، چھوٹے مجھے 8 ایک کا ٹی راڈ پکڑائو، چھوٹے مجھے پلگ پانہ پکڑائو، چھوٹے تم نے کام غلط کردیا ہے اور ساتھ ہی چھوٹے کی گال پر دو تھپڑ رسید، چھوٹے جائو دکان سے چائے کے برتن واپس لے آئو، چھوٹے رِکشے کی تمام فٹنگ ہو گئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

ہمارے معاشرے کا یہ ’’چھوٹا‘‘ درحقیقت بہت محنتی ہوتا ہے لیکن اس کا حد درجہ استحصال کیا جاتا ہے۔ اس کی وہ تمام خواہشات بھی چھین لی جاتی ہیں جن پر اُس کا حق ہوتا ہے۔ آج ہم آپ کو ایسے ہی چھوٹوں کی کہانی سنا رہے ہیں جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے ہاتھ ہمیشہ کے لیے ان اوزاروں کی کالک سے میلے ہو گئے جسے دھوئیں بھی تو یہ کالک ان کے ہاتھوں کی جان نہیں چھوڑتی۔

محمد عدیل کی عمر صرف 12برس ہے۔ اُس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ والدہ لوگوں کے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی ہے۔ عدیل سے جب ہماری ملاقات ہوئی تو وہ موٹرسائیکل کی سیٹ کھولنے میں مصروف تھا، اُس سے پوچھا کہ سکول کیوں نہیں جاتے؟ ہمارا سوال سُن کر عدیل نے ہاتھ میں پکڑا ٹی راڈ ایک طرف رکھا اور پُراعتماد لہجے میں جواب دیتے ہوئے بولا: میں دوسری جماعت میں پڑھتا تھا، میرے ابو اینٹیں اُٹھاتے تھے کہ اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا جس کے بعد ہمارے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ گھریلو اخراجات پورے ہوسکیں۔ میری والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں لیکن انہیں  بھی بہت کم تنخواہ ملتی ہے۔ ابو کے انتقال کے بعد میری پڑھائی چھڑوا کے امی نے مجھے اس کام پر لگا دیا ہے۔ تقریباً ایک سال سے یہ کام کررہا ہوں اور کافی زیادہ کام سیکھ بھی لیا ہے۔ اسی دوران اُستاد کی آواز آئی ’’چھوٹے‘‘ موٹرسائیکل کی سیٹ لگا کر دوسری موٹرسائیکل کی سیٹ کھولو، جس کے بعد عدیل کام کرنے لگا اور ساتھ ساتھ سوالوں کے جواب بھی دیتا گیا۔ اُس نے بتایا کہ اُسے روزانہ 80روپے ملتے ہیں، گھر جانے کے بعد وہ یہ پیسے والدہ کے حوالے کر دیتا ہے جس سے والدہ دودھ خرید لیتی ہیں۔

پیکوروڈ ٹائون شپ میں گاڑیوں کی ڈینٹنگ پینٹنگ کی کئی ورکشاپس ہیں جہاں کافی تعداد میں بچے کام کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں ہماری ملاقات 15سالہ قاسم سے ہوئی جو گاڑی پر ریگمار مارنے میں مصروف تھا۔ اس سے پوچھا کہ کتنے عرصے سے یہ کام کررہے ہو تو کہنے لگا، دوسال ہو گئے ہیں اور 80فیصد کام سیکھ چکا ہوں۔ اُستاد کی غیرموجودگی میں مجھے ہی سارا کام کرنا پڑتا ہے۔ قاسم سے پوچھا کہ آخر یہ کام شروع ہی کیوں کیا، تمہاری عمر کے بچے تو سکول جاتے ہیں تو کہنے لگا: میری پڑھائی میں دل نہیں لگتا۔ اس وجہ سے اس طرف آگیا ہوں۔ قاسم سے کچھ فاصلے پر اس کا اُستاد اور ورکشاپ کا مالک محمد اقبال عرف ’’کالا رنگساز‘‘ بیٹھا تھا، اُس نے ہماری طرف اشارہ کیا اور اپنے پاس آنے کو کہا۔ محمد اقبال رنگساز سے ملاقات کی تو اُس نے کہا کہ ورکشاپوں پر کام کرنے والے زیادہ تر بچے وہ ہیں جن کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا، جس کے بعد ان کے والدین مجبوراً انہیں ہمارے پاس چھوڑ جاتے ہیں جس کے بعد ہم ان سے کام لیتے ہیں جس کے لیے ان بچوں پر سختی بھی کی جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ کریں تو پھر یہ کام ٹھیک کرنے کی بجائے خراب کر دیتے ہیں۔ اُستاد کالے نے بتایا کہ جس طرح سکول میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں بالکل اُسی طرح یہاں انہیں ہنر سکھایا جاتا ہے۔ یہ بچے چونکہ ابھی سیکھنے کے مراحل میں سے گزر رہے ہوتے ہیں لہٰذا انہیں روزانہ 50 سے 100روپیہ اُجرت دی جاتی ہے اور جب کاریگر بن جاتے ہیں تو یہ اُجرت بڑھ کر 700 سے 800روپے بھی ہو جاتی ہے۔ اُس نے گاڑی پر رنگ کرنے والے رنگساز کو اپنے پاس بلایا اور ہمیں  بتایا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ میں اسے بھی دوسرے بچوں کی طرح ’’چھوٹا‘‘ کہہ کر ہی پکارتا تھا تاہم اب اسے یہ کام کرتے ہوئے 10سال ہو گئے ہیں، اس وجہ سے اب اس کا نام لے کر پکارتا ہوں۔ میں اسے بھی 50روپے یومیہ دیتا تھا لیکن اب اسے ماہانہ تنخواہ ادا کرتا ہوں۔ یہاں ہمیں دس بارہ اتنے چھوٹے بچے بھی نظر آئے جنہیں کام کرتے دیکھ کر ترس آرہا تھا کہ ان بچوں کے ساتھ تو بہت ظلم کیا جارہا ہے تو پتہ چلا کہ حال ہی میں کوویڈ19 کی وجہ سے سکول بند ہونے کے بعد ان بچوں کے والدین نے انہیں ورکشاپس پر بھیج دیا ہے تاکہ یہ گلیوں میں آوارہ پھرنے سے محفوظ رہیں۔

لٹن روڈ پر موٹرسائیکل مارکیٹ میں کام کرنے والے ننھے عثمان نے بتایا کہ اُس نے دوسری جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران سکول سے تین ماہ کی چھٹیاں ہو گئیں جس کے بعد اُس نے سکول جانا چھوڑ دیا۔ اُس کے والد قبرستان میں قبروں کی رکھوالی کرتے ہیں جس کی ماہانہ تنخواہ صرف 5ہزار روپے ہے۔ عثمان کا اُستاد اُسے ’’چھوٹا‘‘ کہہ کر پکارتا ہے جبکہ عثمان کو ورکشاپ پر ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس عرصے میں اُس نے کافی کام سیکھ لیا ہے۔ ہمارے پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ وہ موٹرسائیکل کا چین گراری سیٹ، کلچ کی تار، ٹینکی لگانا، کھولنا، بیرنگ ڈالنا سیکھ چکا ہے۔ اُسے روزانہ 100روپے اُجرت ملتی ہے جو وہ اپنی والدہ کے حوالے کر دیتا ہے۔ عثمان نے بتایا کہ اُسے پڑھائی سے زیادہ یہ کام سیکھنے کا شوق ہے، وہ تین چار سال یہاں کام کرے گا اور پھر کسی ایسی ورکشاپ پر چلا جائے گا جہاں اُسے یومیہ اُجرت کی بجائے ماہانہ تنخواہ ملے تاکہ اُس کے گھریلو اخراجات آسانی سے پورے ہوسکیں۔ 

عثمان کے ساتھ اس کا ہم عمر احمد بھی کام کرتا ہے جسے یہاں دو سال ہوچکے ہیں۔ احمد کا پڑھائی میں بالکل بھی دل نہیں لگتا جس کے بعد اُس کی والدہ اُسے یہاں چھوڑ گئیں۔ احمد کے والد سائیکل پر تمام دن موٹرسائیکل اور گاڑیوں کے انجن سے نکلنے والا ناکارہ تیل اکٹھا کرتا ہے۔ احمد روزانہ صبح 8بجے دکان پر آتا ہے اور رات 8بجے اسے چھٹی ہوتی ہے، اُسے ہر اتوار کو کام سے چھٹی ہوتی ہے۔ چھٹی کا دن وہ اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیل کر گزارتا ہے۔ اسی دوران عثمان اور احمد کے اُستاد محمد ابوبکر نماز پڑھ کر آگئے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے حالات ہی ایسے ہو چکے ہیں کہ کم آمدنی والے والدین اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت نہ کرنے کی وجہ سے انہیں مختلف ورکشاپوں پر کام سیکھنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ احمد کے والد کے معاشی حالات بہت ہی خراب ہیں، وہ ناکارہ موبائل آئل فروخت کر کے اپنے پانچ بچے پالتا ہے، اُس نے احمد کو تین مرتبہ سکول داخل کروانے کی کوشش کی کیونکہ کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتے کہ اُن کا بچہ تعلیم حاصل نہ کرے لیکن کچھ بچے ہی ایسے ہوتے ہیں جن کا پڑھائی کی طرف زیادہ رُجحان نہیں ہوتا۔ محمد ابوبکر سے بچوں کو دی جانے والی روزانہ اُجرت کے بارے میں پوچھا کہ آیا یہ اس کے ساتھ زیادتی نہیں کہ تمام دن کام کرنے کے بعد ان کے ہاتھ میں 50 یا 100روپے تھما دیے جاتے ہیں تو کہنے لگا کہ کاروباری حالات بہت خراب ہیں، گاہک بھی بہت مشکل سے پیسے دیتا ہے۔ ان بچوں کو دوپہر کا کھانا بھی ہم ہی کھلاتے ہیں۔ پھر اکثر گاہک ایسے بھی آجاتے ہیں تو خوشی سے ان بچوں کو 50یا 100روپے دے دیتے ہیں، وہ پیسے ہم ان سے نہیں لیتے۔ اس کے علاوہ موٹرسائیکل سے نکلنے والا ناکارہ سامان اور گتے کے ڈبے فروخت کرنے سے جو رقم ملتی ہے وہ بھی ان بچوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ محمدابوبکر کی دکان سے کچھ فاصلے پر ہمیں ایک بچہ ایسا نظر آیا جس کا اُستاد اُسے ربڑبیلٹ سے مار رہا تھا جبکہ بچہ بلند آواز میں زاروقطار رو رہا تھا۔ اُستاد سے جب دریافت کیا کہ کیا ماجرا ہے؟ اس پر کیوں تشدد کررہے ہو تو محمداکبر نامی اُستاد نے جواب دیا کہ یہ صبح کا 1500روپے کا نقصان کرچکا ہے، میری غیرموجودگی میں اس نے موٹرسائیکل میں پُرزے ڈالے لیکن دوران فٹنگ وہ ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے مجھے اپنی جیب سے 1500 روپے ادا کرنا پڑے۔ بچے کو پُرزے ڈالنے کی اجازت کیوں دی جب اسے یہ کام آتا ہی نہیں تھا، یہ سُن کر محمداکبر نے کہا کہ اسے متعدد مرتبہ سمجھا چکا ہو کہ میری غیرموجودگی میں کوئی بھی پُرزہ فٹ نہ کیا کر لیکن اسے عمر سے پہلے ہی مکینک بننے کا شوق ہے اور اس شوق میں یہ میرا نقصان کر دیتا ہے، اسے میں متعدد مرتبہ کام سے فارغ کرچکا ہوں لیکن اس کا والد اسے پھر یہاں چھوڑ جاتا ہے۔ ہمیں ان بچوں پر بہت محنت کرنا پڑتی ہے لیکن یہ ساتھ ساتھ ہمارا نقصان بھی بہت کرتے ہیں۔

دھرم پورہ کے علاقے میں ایک ہوٹل میں کام کرنے والے 14سالہ سفیان سے ہماری ملاقات ہوئی۔ سفیان چائے کے برتن دھونے میں مصروف تھا لیکن اسی دوران اس کے استاد نے بلند آواز لگائی ’’چھوٹے‘‘ پرچون کی دکان پر ہاف سیٹ چائے دے کر آئو، اُستاد کی آواز کان میں پڑنی تھی کہ سفیان نے جلدی سے ٹرے پکڑی اور چائے کے برتن ٹرے میں رکھ کر بھاگتا ہوا دکان سے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد واپس آیا تو اُس سے پوچھا کہ آخر چائے کے برتن اُٹھانے کا انتخاب ہی کیوں کیا، تمہاری عمر تو پڑھنے کی ہے؟ سفیان کہنے لگا: مجبوری اور گھریلو حالات نے یہ کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میرے والد نشہ کرتے ہیں جبکہ والدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ دو بھائی اور بہن مجھ سے چھوٹے ہیں۔ سارے گھر کی کفالت میرے ذمہ ہے۔ اسی دوران سفیان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور روتے ہوئے کہنے لگا کہ جب کبھی ابو کو کُل پیسوں میں سے دس روپے بھی کم دو تو وہ مجھے مارنے پیٹنے لگتے ہیں۔ پھر اتنی بے دردی سے مارتے ہیں کہ کئی دن مجھے درد ہوتا رہتا ہے۔ ابوسارے پیسوں کا نشہ خرید لیتے ہیں اور بعض اوقات ہم بہن بھائی سارے دن میں صرف ایک مرتبہ کھانا کھاتے ہیں۔ محمد سفیان کا کہنا تھا کہ صبح سے رات تک چائے کے برتن دھونے، چائے دینے اور خالی برتن واپس لانے میں مصروف رہتا ہوں۔ اگر تھک ہار کر دو منٹ کے لیے بیٹھوں تو اُستاد فوراً آواز دے کر کہتا ہے ’’چھوٹے‘‘ ٹیبل نمبر 2 پر روٹیاں رکھو، اگر چائے کا کام نہ ہو تو مجھے ٹیبل پر گاہکوں کے سامنے روٹیاں اور سالن رکھنا پڑتا ہے۔

برانڈرتھ روڈ لاہور میں ایک طرف سے کافی زیادہ تعداد میں الیکٹرک موٹریں فروخت کرنے کی دکانیں ہیں تو دوسری طرف جلی ہوئی موٹریں ٹھیک کرنے کی بھی کافی دکانیں ہیں جہاں پر صبح سے شام تک موٹر وائنڈنگ کا کام ہوتا ہے۔ یہ کام دس سال کے بچوں سے لے کر 30سال کے جوان کرتے ہیں۔ یہیں ہماری نظر ایک ننھے مکینک پر پڑی جو اپنے نرم نرم ہاتھوں سے پوری طاقت کے ساتھ موٹر کی پیتل کی تاریں کاٹنے میں مصروف تھا۔ یہ ننھا مکینک بھی سکول کے نام سے باغی ہے اور پڑھنا نہیں چاہتا لہٰذا اُس کے والد اُسے یہاں چھوڑ گئے۔ جہاں سارا دن کام بھی کرتا ہے اور اُستاد کی مارپیٹ کا سامنا بھی کرتا ہے۔ دکان کے مالک اور استاد محمد ندیم نے بتایا کہ ورکشاپوں پر کام کرنے والے بچوں کی تین اقسام ہوتی ہیں۔ پہلی قسم نہایت مجبور بچوں کی ہے، دوسرے نمبر پر سکول سے بھاگنے والے اور تیسرے نمبر پر شوقیہ کام کرنے والے ہیں۔ 100میں سے صرف 5فیصد بچے نہایت مجبور ہوتے ہیں جن کے گھریلو حالات بہت کمزور ہوتے ہیں یا ایسے بچوں کے والد کچھ نہیں کرتے، نشہ کرتے ہیں، نکھٹو ہوتے ہیں یا سارا دن گھر بیٹھ کر گزار دیتے ہیں جس کی وجہ سے گھریلو اخراجات پورے نہیں ہوتے اور بچوں کو مجبوری کے تحت کوئی کام کرنا پڑتا ہے۔ 

95فیصد بچوں میں سے تقریباً 10 سے 15فیصد بچے ایسے ہوتے ہیں جو شوقیہ اس فیلڈ میں آتے ہیں جبکہ باقی 75فیصد بچے سکولوں سے بھاگنے والے ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کے والدین انہیں آوارہ ہونے اور بے راہ روی کا شکار ہونے سے پہلے ہی انہیں مختلف کام سیکھنے کے لیے کہیں شاگرد بٹھا دیتے ہیں جبکہ 5فیصد مجبور والدین میں سے 3تو ایسے ہوتے ہیں جن کے دماغ میں یہ بات بیٹھ چکی ہوتی ہے کہ ہم نے ٹائم پاس کرنا ہے لہٰذا اُنہیں جو پیسے ملتے ہیں وہ اکثر خود ہی ہڑپ کر جاتے ہیں، ان میں سے باقی 2فیصد بچ جانے والے حقیقت میں کام سیکھ کر آگے کچھ کرنا چاہتے ہیں جبکہ شوق سے کام کرنے والے بچے اس فیلڈ میں دل لگا کر کام کرتے بھی ہیں اور بہت جلد کام کو سمجھ بھی جاتے ہیں ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ بھی ہوتا ہے۔

اُستاد ندیم نے بتایا کہ سکول سے بھاگنے والے بچوں کو مار پیٹ کر ہی کام سکھانا پڑتا ہے۔ ان پر سختی کرنا ہماری مجبوری ہوتی ہے کیونکہ وہ اس کام کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ ہم ایسے بچوں کے والدین کو پہلے ہی آگاہ کر دیتے ہیں کہ اگر یہ صبح کام کے لیے گھر سے نکلے تو سیدھا کام پر آئے نا کہ کہیں اور نکل جائے اور آپ یہ سمجھتے رہیں کہ ہمارا بچہ تو کام پر گیا ہوا ہے۔ اگر یہ بچہ راستے میں سے غائب ہو جاتا ہے تو ہم اس چیز کی ذمہ داری کبھی قبول نہیں کرینگے۔ شام کو والدین ہمیں آکر یہ شکایت کرتے ہیں کہ آپ بچے کو خرچہ نہیں دیتے جس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ بچہ کام پر آئے گا تو خرچہ ملے گا، وہ تو صبح کا آیا ہی نہیں۔ اگر بچہ راستے میں کسی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے تو والدین اس کا قصوروار بھی ہمیں ٹھہراتے ہیں۔ اگر بچہ وقت پر کام پر نہ آئے تو ہم اُسی وقت اُس کے والد یا والدہ کو فون کر کے آگاہ کر دیتے ہیں کہ آپ کا بچہ کام پر نہیں پہنچا، اس کی کیا وجہ ہے۔ مشاہدے سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے بچوں کی مائیں ان پر پردہ ڈالتی ہیں کہ آج اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آج اُس نے بجلی کا بِل جمع کروانے جانا ہے۔

ہمارے پاس جب والدین بچہ چھوڑ کر جاتے ہیں توہم اُسے ایک مہینہ دیکھتے ہیں کہ آیا یہ بچہ کام سیکھنے میں سنجیدہ بھی ہے کہ نہیں۔ کہیں یہ اپنا بھی ٹائم  ضائع کررہا ہے اور ہمارا وقت بھی ضائع کرے گا۔ ہم والدین کو پہلے ہی یہ تنبیہ کر دیتے ہیں کہ اگر آپ بچہ ہمارے پاس چھوڑ کر جارہے ہیں تو اب اس کے پیچھے نہیں آنا۔ کل آپ آجائیں کہ ہم نے فلاں جگہ پر جانا ہے، بچے کو چھٹی دے دیں۔ اس نے ہسپتال عیادت کرنے جانا ہے، اسے کچھ دیر کے لیے ہمارے ساتھ جانے دیں یا اس نے پانی کا بِل جمع کروانے جانا ہے جس کی وجہ سے وہ آج کام پر نہیں آئے گا تو ایسی صورت میں ہم والدین کو پہلے ہی آگاہ کر دیتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ کرنا ہے تو پھر بچے کو گھر ہی رکھیں، ہمارے پاس نہ بھیجیں۔

ہمارے پاس جب کوئی بچہ کام سیکھنے کے لیے آتا ہے تو اُسے تین ماہ تک صرف اپنے سے سینئر کاریگروں کا کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اس دوران یہ بچہ اپنے سینئر کاریگروں کی چھوٹی موٹی مدد بھی کرتا ہے۔ بچے کو مختلف پیمائش کرنا سکھائی جاتی ہیں۔ وہ تین مہینے تک روزانہ ہم سے خرچہ بھی لے کر جارہا ہے۔ تین مہینے بعد جب اُسے خود کام کرنے کا کہا جاتا ہے تو وہ اس دوران نقصان کر دے تو پھر اُس کو مار ابھی جاتا ہے کہ تین مہینے تک تم سیکھتے رہے ہو اور اب جب کام کرنے کی باری آئی ہے تو تم نے سارا کام ہی غلط کردیا ہے۔

محمد ندیم نے بتایا کہ جو شاگرد ابھی کام سیکھ رہا ہوتا ہے اُسے روزانہ 50روپے اُجرت دی جاتی ہے جو ہلکا پھلکا کام کرلیتا ہے اُسے 100 روپے روزانہ دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوپہر کا کھانا اور چائے بھی دی جاتی ہے۔ ہم بچوں پر اتنا تشدد نہیں کرتے کہ اُن کے والدین اُنہیں یہاں سے واپس ہی لے جائیں، صرف رات دیر تک بٹھائے رکھتے ہیں کہ جو کام شروع کیا ہے اُسے ختم کر کے جائو، بے شک رات کے 12بج جائیں۔ جب بچوں کو اس چیز کا احساس شروع ہو جاتا ہے کہ کام غلط کرنے پر سزا کے طور پر رات تک یہیں رہیں گے تو پھر وہ کام میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ جہاں تک مارنے کا تعلق ہے تو یہ حربہ ہم اُس وقت استعمال کرتے ہیں جب وہ چوری کرتا ہے یا کسی کے ساتھ حد سے زیادہ بدتمیزی کرے یا سمجھانے سے نہ سمجھے۔

محمد ندیم نے یہ کہا کہ چھوٹا بڑا بھی ہو جاتا ہے لیکن چھوٹا ہمیشہ چھوٹا اس لیے رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں مثبت کاموں میں خرچ نہیں کرتا۔ جب وہ یہاں سے چھٹی کرنے کے بعد اپنے سے بڑھے لڑکوں میں بیٹھے گا تو اُس کی عادات خراب ہونا شروع ہو جائیں گی جس کے نتیجے میں وہ بے راوہ روی کا شکار ہو جائے گا۔ آوارہ گردی کرنے لگے گا جس کے نتیجے میں وہ ساری عمر چھوٹا ہی رہ جائے گا۔ جو بچہ دماغ استعمال کرتا ہے اور کام سیکھنے میں سنجیدہ ہوتا ہے وہ ترقی کرتا ہے، اگر کوئی بچہ موٹر وائنڈ کرنا سیکھ جائے تو اس کے لیے روزگار کے مواقع بھی کھل جاتے ہیں اور تنخواہ بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا میرے آٹھ سے دس شاگرد اسی کام کی بنیاد پر دوسرے ممالک میں چلے گئے ہیں، تین شاگرد جنوبی افریقہ میں یہی کام کررہے ہیں، دو انگلینڈ میں کام کررہے ہیں جبکہ برانڈرتھ روڈ پر میرے بیس سے پچیس شاگردوں کی دکانیں ہیں جنہوں نے مجھ سے کام سیکھا اور اب اپنی دکانیں بنا چکے ہیں۔

آخر میں ہماری ملاقات ننھے کلیم اللہ سے ہوئی جو گزشتہ ایک سال سے موٹر مکینک کا کام سیکھ رہا ہے۔ اس کی عمر صرف 9سال ہے۔ جب اس سے یہ پوچھا کہ سکول کیوں ہیں گئے تو انتہائی معصوم چہرہ بنا کر کہتا ہے کہ گھروالے بھیجتے نہیں، وہ متعدد مرتبہ اپنے والد سے یہ کہہ چکا ہے کہ وہ سکول جانا چاہتا ہے۔ کلیم اللہ کا والد چونکہ نشہ کرتا ہے لہٰذا وہ اسے سکول کی بجائے موٹر مکینک کی دکان پر بھیج دیتا ہے۔ 12گھنٹے کام کرنے کے بعد کلیم اللہ کو صرف 50روپے ملتے ہیں، اُس نے بتایا کہ اُس کا اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کو بہت جی کرتا ہے لیکن اُس کے والدین اُسے بچوں کے ساتھ کھیلنے نہیں دیتے، اچانک ہی کلیم اللہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے، ہم نے پوچھا کہ رو کیوں رہے ہو ؟ تو کہنے لگا کہ استاد چھوٹی چھوٹی باتوں پر مارنے لگتا ہے، کوئی کام غلط ہو جائے تو تھپڑ پڑ جاتا ہے۔

٭…٭…٭


ای پیپر