Dr Azhar Waheed, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
24 مارچ 2021 (11:40) 2021-03-24

ہم مسلمان قوم شاید دنیا کی سب سے زیادہ ناشکرگزار قوم ہیں۔ بنی اسرائیل کی ناشکرگزاری کی نشاندہی قرآن میں ہو گئی ‘ لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم بھی اُن تمام نعمتوں کو یکسر بھلائے بیٹھے ہیںجو ہمارے رب نے اپنے محبوب رسولؐ کے صدقے میں ہمیں عطا کی ہیں۔ ہمیں لہک لہک کر شکوہ پڑھنا تو خوب آتا ہے لیکن جوابِ شکوہ پڑھنا بھول جاتے ہیں۔ 

سچی بات ہے کہ اگر میں اُن تمام نعمتوں کو یاد کروں جو ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر عطا کی گئی ہیں اور پھر ان نعمتوں کے متعلق اپنے انفرادی اور اجتماعی رویے کو دیکھوں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ آج صبح ہی کی بات ہے،نرم گرم بستر ہی سے بیگم سے گرم پانی میں شہد لانے کو کہا، گلے میں کچھ خراش سی معلوم پڑتی تھی۔ نیک اور اطاعت شعار بیگم بھی اللہ کی نعمت ہے،اس اللہ کی بندی نے فوراً شہد ملا گرم پانی گلاس میں ایک چھوٹی سے ٹرے میں بڑی نفاست سے رکھ کر پیش کردیا۔ یہ ٹرے ہم نے مدینہ منورہ سے لی تھی۔ حرمین شریفین کی حاضری ایسی نعمت ہمیں سالہا سال لگاتار عطا ہوتی رہی  … لیکن ہم نے ان حاضریوں کی نعمت کی کہاں تک قدر کی؟  ہم نے حاضری کو حضوری میں کب تبدیل کیا؟؟  ہم تو اپنے ہم سفر کی قدر بھی نہ کر سکے۔ مجھ ایسے بے ترتیب اور متلون مزاج آدمی کے ساتھ گزارا کرنا اِسی باترتیب اور مستقل مزاج خاتون کا ہنر تھا۔ میں سمجھتا ہوں‘ اس بیچاری کے ساتھ دھوکہ ہو گیا ، اسے بتایا گیا تھاکہ تمہارا ہونے والا شوہر ڈاکٹر ہے، اور شادی کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہ ڈاکٹر بعد میں ہے‘ پہلے شاعر اور ادیب ہے… اِس پر مستزاد یہ کہ تصوف کے خارزاروں میں وقت بے وقت بادیہ پیمائی کا شوق!!  سونے کا وقت‘ نہ کھانے کی کوئی ترتیب… چلیں میرا تو کاروبارِ شوق ٹھہرا لیکن اِس شریف زادی کا کیا قصور کہ رات گئے ہماری محفلوں کے ختم ہونے کا انتظار کرے اور وقت بے وقت کے مہمانوں کو چائے پانی اور کھانا مہیا کرے۔ بچوں کو دینے کی لیے وقت بالکل نہ تھا ، بچے اگر کسی مقام پر ہیں تو سراسر اپنی ماں کی توجہ سے ہیں۔ بچوں کو دین دنیا اسی نے سکھائی، کیونکہ شوہرِ نامدار کے پاس دوسروں کو سکھانے ہی سے فرصت نہ تھی۔ اب ڈھلتی عمر میں اس نعمت کی ناقدری کا اِحساس ہوتا ہے تو اندر ہی اندر ندامت کا اِحساس سر کو جھکا دیتا ہے۔ 

شہد والے پانی نے اشہب ِ خیال کو تازیانہ لگایا تھا۔ ابھی چند گھونٹلیے کہ معلوم ہوا ‘پانی زیادہ گرم ہے، گلاس وہیں رکھ دیاتا کہ تھوڑا سا ٹھنڈا ہو لے تو پیتے ہیں، اتنے میں دوبارہ نیند کی وادی میں لڑھک گئے۔ ایک گھنٹے کے بعد آنکھ کھلی تو وہی پانی پینے کی کوشش کی ، پانی ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ معاً خیال وارد ہوا کہ وقت گزر جائے تو گرم پانی ٹھنڈا ہو جاتا ہے، چائے ٹھنڈی ہو جاتی ہے، نماز بھی تو اسی طرح 

ٹھنڈی ہو جاتی ہو گی!!  کتنی نمازیں یونہی سستی میں ، غفلت میں ٹھنڈی کر کے پڑھی ہیں۔ حضوری کا طالب بروقت حاضری بھی نہ دے سکا!! 

ہم اپنے نظام الاوقات کو نمازوں ہی کے تابع کر لیتے تو زندگی میں کتنی برکت آجاتی۔ ہمارے تاجر لوگ بارہ بجے سے پہلے مارکیٹ نہیں کھولتے اور جوا زیہ پیش کرتے ہیں کہ گاہک بارہ بجے سے پہلے نہیں نکلتا، گاہک کہتا ہے کہ صبح جانے کا فایدہ نہیں‘ تاجر دوپہر سے پہلے مارکیٹ نہیں کھولتا۔ گویا پہلے مرغی یا پہلے انڈہ والی بحث شروع ہے۔ ہماری دعویٰ ہے کہ ہم مسلمان ہیں ، مومن ہیں، مردِ مجاہد ہیں … اور اس کے علاوہ بھی دعووں کی بھرمار ہے، پدرم سلطان بود کا ایک طومار ہے… کیا مومنین پرمقررہ اوقات پرنماز فرض نہیں کر دی گئی؟ کیا ہمیں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ سورج نکلتے ہی رزق کی تلاش میں نکل پڑو۔ چائینہ سے آنے لوگ بتاتے ہیں کہ وہاں سب مارکیٹیں صبح چھ بجے کھل جاتی ہیں اور سرِ شام بند ہو جاتی ہیں۔ ان لوگوں نے صرف سورج ایسی نعمت کی قدر کرتے ہوئے اپنے نظام الاوقات کو سورج کی روشنی کے تابع کر لیا… یہاں ہمیں ظاہر و باطن میں چمکتے ہوئے سورج ایسی روشن اور حسین ذات کی خوشنودی مطلوب ہے ‘ اور ہم ہیں کہ صبح خیزی سے غافل ہیں ، آدابِ سحر گاہی سے ناواقف ہیں اور اُس ’’سراجاً منیر‘‘ کی تعلیمات کی روشنی سے عملاً روگرداں ہیں‘ جس کی ضیا پاشیاںعالمین پر  جاری وساری ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ کریم نے اپنی سب سے بڑی نعمت یہی گنوائی اور پھر احسان بھی جتلایا کہ ہم نے مومنین پر بڑا اِحسان کیا کہ ِان میں اپنا رسولؐ بھیجا جو انہیں ہماری آیات سناتا ہے ، کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور اِن کا تزکیہ کرتا ہے۔ غور طلب بات ہے ‘ اگر ہم آیات پر غور نہ کریں ، کائنات میں جابجا بکھری ہوئی رب کی نشانیوں کی طرف توجہ نہ کریں، کتاب سے غافل ہو رہیں،  دروسِ حکمت سے اجنبی بن کر گزر جائیں اور تزکیہ نفس کیلیے مجاہدہ نہ کریں تو یہ اس نعمت ِ عظمیٰ کی ناقدری ہے‘ جو اِس نعمتؐ کے خالق نے احسان جتلاتے ہوئے ہمیں عطا کی ہے۔ تحقیق سے غافل اور تسلیم سے روگرداں قوم کے لیے تو …ـ ’’ نہ خدا ہی ملا ‘ نہ وصالِ صنم‘‘

نعمتوں کی ناقدری کی انتہا ہے۔ ہماری زمین زرخیر ہے… وطن کی مٹی بھی اور اِ س وطن کے سپوت بھی زرخیزی میں اپنی مثال آپ ہیں‘ لیکن ہمارے پاس انہیں ذرا سا نم دینے کی فرصت نہیں۔ یہ عدیم الفرصتی آخر کیا ہے؟ وقت کی کمی دراصل خود غرضی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ جب ہم لذاتِ نفس اور ہوسِ زَر میں مشغول ہو جاتے ہیں تو کسی تعمیری کام کے لیے ہمیں وقت نہیں ملتا۔ پھلوں اور سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا رونا روتے رہتے ہیں اور اپنے گھروں کے لانوں میں، چھتوں میں، بالکونیوں میں ذرا سی محنت اور توجہ سے گھر کی صاف ستھری آرگینک سبزیاں حاصل نہیں کرتے۔ پچھلے ہفتے فیصل آباد جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ موٹر وے کے دونوں اطراف جنگلے لگے ہوئے ہیں ، سڑک اور جنگلوں کے درمیان تقریباً اڑھائی سو میٹر طویل رقبہ دونوں طرف سینکڑوں میل تک حکومت کی ملکیت ہے، حکومت اس کے پیسے ادا کر چکی ہے۔ اگر اس زمین کو پھلوں ، سبزیوںاور نقد آور فصلوں ‘درختوں کے لیے استعمال کر لیا جائے توموٹر وے کے ارد گر د ماحول بھی خوبصورت اور خوشگوار ہو جائے گااور فارسی محاورے کے مطابق ’’ہم خرما و ہم ثواب‘‘ یعنی کھجور بھی کھاؤ اور ثواب بھی لو۔ ہمارے دین میں شجر کاری کی ترغیب دی گئی ہے۔ احادیث میں بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص درخت لگاتا ہے تو وہ اِس کے لیے صدقہ جاریہ ہو جاتا ہے، پھلدار درخت سے اگر کوئی انسان اپنی بھوک مٹاتا ہے تولگانے والے کو ثواب ملتا ہے، کوئی اِس کے سائے میں پناہ لیتا ہے‘ تو اِسے اجر ملتا ہے،  یہاں تک کہ اگر کوئی پرندہ اُس درخت کا پتہ اپنی چونچ سے نوچ کر کھاتا ہے تویہ بھی اُس کے حق میں اَجر و ثواب کی صورت ہے۔ برسبیل ِ تذکرہ یاد آیا‘ شجر کاری کے حوالے سے مرشدی واصف علی واصفؒ کا ایک پنجابی شعر بہت معروف ہوا ، شجر کاری کے موسم میں محکمہ جنگلات والے اس کے بینر بھی بنوا کر لگواتے رہے۔ 

اُچّیا ں لمّییاں ٹاہلیاں، گھنی جنّہاں دی چھاں

اج ایہہ چھا ں دْھپاں نے مل لئی، جایئے کیہڑی تھاں

ہماری زمین وجود بھی اسی طرح بنجر پڑی ہوئی ہے، ہم اس میں عمل کا بیج نہیں بوتے ہیں، ریاضت کا ہل نہیں چلاتے، بروقت آنکھوں کا پانی اسے مہیا نہیں کرتے… یہی تو وہ نم ہے‘ جو زمین ِ وجود کو زرخیز کرتا ہے… اور یہ سارے کام بروقت کرنے کے ہیں۔

کرونائی بلا کے آگے بڑے بڑے پہلوان ڈھیر ہو گئے، بڑی بڑی معاشی اور فوجی طاقتیں کھیت رہیں، لیکن رب ِ کریم کا خاص کرم تھا کہ ہمارے وطن میں وہ جانی اور مالی نقصان نہ ہوا‘ جس کا شکار دنیا کی باقی مملکتیں ہو گئیں۔ گویا قدرتِ کاملہ نے ہمیں ہاتھ دے کر بچا لیا۔ کسی حادثے میں نقصان سے بچ جانا بھی ایک نعمت ِ خداوندی ہے… لیکن ہم اس نعمت کی قدر بھی کب کر سکے؟؟ چاہیے تھا کہ توبہ تائب ہوتے اور آئندہ کے لیے اپنے فکر و عمل کا رخ سیدھا کر لیتے… لیکن وہی ڈھاک کے تین پات!! 

آئیں !  آج ۲۳ مارچ ہی کے دن اپنے باطن کی اسمبلی میں ایک اور قرار داد پاس کریں، آج کرونا کی اِس تیسری بلاخیزلہر میں ہم تیسری بار توبہ کریں۔ ہم توبہ کرتے ہیں کہ رب تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر کریں گے… وقت ، وجود اور وسائل ایسی نعمتیں ضائع نہیں کریں گے اور شریعتِ محمدیؐ کے آفاقی اصولوں پر کاربند ہو رہیں گے … تاکہ دنیا میں ہماری مٹی خراب نہ ہو اور مابعد بھی محفوظ رہے!!  شہد ملے نیم گرم پانی کی طرح اِس وجود کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے توبہ کا سجدہ ادا کر لیں۔ قضا آنے پہلے کہیں یہ سجدہ قضا نہ ہو جائے!!


ای پیپر