”پنجاب پبلک سروس کمیشن توڑدو ۔۔“
24 مارچ 2021 2021-03-24

ابھی مجھے یہ علم نہیں ہوا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے لیکچررز سے تحصیلداروں اور پولیس سے اینٹی کرپشن کے عہدیداروں کی بھرتیوں کے پرچے فروخت کرنے کی کالک اپنے منہ سے دھونے کے لئے کیا اقدامات کئے سوائے یہ کہ نئے چیئرمین نے کچھ لئے گئے امتحانات کو معطل کیا مگرپھر انہی کے انٹرویوز کے شیڈول آنے لگے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو فائدہ ہے کہ اس کے معاملات محدود ہاتھوں میں ہیں لہٰذا بہت سارے سکینڈلز منظر عام پر ہی نہیں آتے مگر تازہ ترین تباہ کن معاملہ یہ ہوا کہ اڑھائی ماہ پہلے پی ایم ایس کے امتحانات ہوئے جس میں 555 امیدوا تحریری امتحان میں کامیاب ہوئے مگر حیرت انگیز طور پرسائیکالوجیکل ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والوں کی تعداد 619 ہو گئی یعنی کمیشن اپنے کچھ امتحان فروش ایجنٹوں کی گرفتاری کے باوجود اپنی اسی مکروہ روش اور بے ڈھنگی چال پر رہا۔ سوال یوں ہے کہ پرونشل مینجمنٹ سروس کے اس اہم ترین نتیجے کے بعد یہ 64نئے لوگ کہاں سے آئے جبکہ اصول اورمنطق یہ کہتے ہیں کہ سائیکالوجیکل ٹیسٹ کے بعد امیدواروں کی تعداد کم ہوجانی چاہیے تھی۔

مجھے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں کرپشن پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے واٹس ایپ پیغامات بھیجے ہیں۔وہ سوال کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکے نوٹس لینے اور چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کی انکوائری کے بعد بھی اگر یہی معاملات ہیں تومطلب ہواکہ پنجاب حکومت کے کارپردازسرکاری نوکریاںبیچنے کے دھندے میںبراہ راست ملوث ہیں ورنہ کسی سرکاری ملازم کی یہ جرا¿ت کیسے ہوسکتی ہے کہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے نوٹس اور اعلانات کے باوجود نوکری فروشی کا نیٹ ورک چلاتا رہے۔ میں اپنے پورے یقین سے کہتا ہوںکہ میں نے جس طرح پروگرام کئے اورکالموں میں بھی صورتحال کو واضح کیا تواسکے بعد اگر پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف ہوتے تو وہ سرکاری نوکری فروش گروہ کو اس کے انجام تک پہنچا چکے ہوتے۔ وہ ایسے پروگراموں اور کالموں پر فرسٹ ہینڈ انفارمیشن لیتے اوراس کے بعد ذمے داروں کو عبرت کا نشان بنا دیتے تھے مگرمیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ پنجاب اور عوام کی خدمت کے جرم میں احتساب کی عدالت میں ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر اپنے بیٹے کے ہمراہ بیٹھے جج صاحب کا انتظار کر رہے تھے۔ مجھے دکھ ہوتا ہے کہ ہم نے پنجاب کی تعمیر اور ترقی کی کنجی کو گنوادیا ہے۔ وہ شخص اس وقت کوئی سیاسی بات کرنے کے بھی قابل نہیں ہے۔میری ملاقات ہوئی تو ادھر ادھر کی باتیں تھیں مگر وہ بات نہیں ہوسکی کہ یہ قافلہ کیوں لٹا، راہزن رہبر کیوں بنے اور ہمیں احساس زیاں تک کیوں نہیں ہے۔

میں نے اس کالم کا عنوان” پنجاب پبلک سروس کمیشن توڑ دو “، بہت سوچ سمجھ کر اور بہت دردمندی سے رکھا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ہم اس آسیب کا دم درود کرنے کے قابل نہیں ہیں جس آسیب نے ملک و قوم کو جکڑ رکھا ہے، بقول منیر نیازی مرحوم، ’ منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے، کہ حرکت تیز تر ہے اور رفتار آہستہ آہستہ‘۔ میں یوم پاکستان پر، اپنے وطن سے تجدید عہد کے دن پر، یہ کالم لکھ رہا ہوں تو سوچ رہاہوں کہ ہمارا راستہ اور ہماری منزل کہاں ہے۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا جب میں نے سپیکٹیٹر انڈیکس پر آئی ایم ایف کی طرف سے دنیا کے مختلف ممالک کی اس برس کے لئے پروجیکٹڈ جی ڈی پی گروتھ دیکھی۔نریندر مودی، جو ہمارا دشمن ہے، ہندو انتہا پسند ہے، قاتل اورقصائی ہے، جس نے کوئی ورلڈ کپ نہیں جیتا اور جس کے پاس کرشماتی شخصیت والا کوئی گُر نہیں ہے اس کا انڈیا، جس کی جی ڈی پی کا حجم ٹریلینز آف ڈالرز میں ہے ، گیارہ اعشاریہ پانچ کی شرح سے اکانومی میں اضافہ کرے گا جبکہ ہمارے پاس وہ وزیراعظم ہے جس نے ورلڈ کپ جیت رکھا ہے، جس کی عمر ستر برس کے قریب ہونے کے باوجوداس کی تصویریں نوجوان لڑکیاں چومتی ہیں، وہ تقریر کرتا ہے تو ولی اللہ لگتا ہے اس کابنایا ہوا نیا پاکستان ، جس کی جی ڈی پی کا حجم گذشتہ دو ، تین برسوں میں ستر بلین ڈالر کم ہو گیا، اس کی معیشت ایک اعشاریہ پانچ کی شرح سے ترقی نما جرم کرے گی۔ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ ہماری معیشت میںکمی کورونا کی وجہ سے ہوئی مگر کرونا چین، انڈیا اور یوکے سمیت بہت سارے ممالک میں ہے مگر معیشت میں ہم ہی ہیں جو نائیجریا اور افغانستان سے بھی پیچھے جانے لگے ہیں۔

معذرت، بات کالم کے عنوان کی تھی، میں گذشتہ سہ پہر ایوان وزیراعلیٰ کے سامنے ڈیوس روڈ اورمال روڈ کے سنگم پر تھا جہاں ہمارے سیکنڈری سکولز ایجوکیٹرزاور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرزچار،پانچ روز سے احتجاج پر ہیں۔ان کے بارے میں وزیرتعلیم پنجاب مراد راس پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ یہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان دینے سے بھاگ رہے ہیں۔ مراد راس پنجاب کے ان سیانے وزرا ءمیں سے ایک ہیں جو درخت کی اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں جس پر وہ خود بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے یہ صاحب پنجاب ایجوکیشن فاو¿نڈیشن جیسے شاندار ادارے کومروانے، کفنانے، دفنانے کی پوری کوشش کر چکے۔ میں نے دیکھا وہاں ہماری خواتین اساتذہ بھی شدید بارشوں والے موسم کے باوجود اپنے دودھ پیتے بچوں کو لے کر بیٹھی ہوئی تھیں۔میں نے ان کے سامنے مراد راس والی زبان ہی بولی، پوچھا، آپ لوگ پبلک سروس کمیشن کے امتحان سے کیوں بھاگتے ہیں ،جواب ملا، ہم سے مذاکرات کرنے والے وزیر صاحب ہماری برطرفیاں کر رہے ہیں جو بدترین اخلاقی زوال کی نشانی ہے، حقیقت یوںہے کہ ہمیں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کیا گیا اور کہا گیا کہ تدریس کے نتائج کی روشنی میں پانچ برس میں مستقل کر دیا جائے گا مگر اب کہا جا رہا ہے کہ دوبارہ پی پی ایس سی کا امتحان دیں، ایک سوال یہ ہے کہ ایک ہی پوسٹ کے لئے دو ، دو مرتبہ امتحان کیوں دیا جائے اور دوسرے اس پبلک سروس کمیشن میںکیوں دیا جائے جہاں نوکریاں اور پیپرز دس، دس لاکھ سے ایک، ایک کروڑ میں فروخت ہو رہے ہوں۔ میں نے ان کی گفتگو سے اندازہ لگایا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن اب وہ اعتبار،ساکھ اور عزت بھی نہیں رکھتا جو بات بات پر رشوت مانگنے اور رشوت نہ دینے پر جعلی پولیس مقابلوں میں مار دینے والی پنجاب پولیس کی ہے۔ ہماری پڑھی لکھی نوجوان نسل میرٹ پرسرکاری نوکریاں دینے والے اس ادارے کو اب نوکریاں بیچنے والے ادارے کے طور پر دیکھتی ہے ۔

فیصلہ سازوں سے بصد احترام محض اتناکہنا ہے کہ یہ ملک میرا بہت کم ہے، آپ کا بہت زیادہ ہے اوریوں شائد میر انقصان بھی بہت کم ہے اور آپ کا بہت زیادہ ہے، اگر آپ دیکھ سکیں، محسوس کرسکیں۔


ای پیپر