”کُرونا“....قیامت
24 مارچ 2020 2020-03-24

مجھے نہیںمعلوم کہ آج کل کی ابتدائی کلاسوں میں، جب ہم پرائمری سکول میں تھے، تو ایک بات ہمارے ذہن نشین کرادی گئی تھی، کہ پہلے ”تولوپھربولو“

مجھے یوں لگتا ہے، کہ یکساں نظام تعلیم کے دعوے داروں نے ایسی نصیحتوں کو نصاب سے نکال دیا ہے، مجھے اس کایقین کئی دنوں سے مسلسل میڈیا پہ پڑھ کر اور سن کر ہوگیا تھا، کہ کرونا وائرس کے بارے میں وزیراعظم قوم کو اعتماد میں لے لیں گے، مگر دنیا کا واحد حکمران جو انتہائی اہم ترین موضوعات پر فی البلدیہ تقریر کرنے کا عادی ہو، تو پھر وہ کب اور کیسے بات کو تولتا ہوگا۔ یہی وجہ ہے، کہ وزیراعظم کی کابینہ کے ارکان انتخاب ہار کر مگر وزیراعظم کے دل جیت کر وزارت کے منصب پہ بٹھا دیئے گئے ہیں، حالانکہ بقول وزیراعظم عمران خان کہ کچھ وزیر اپنے دفتروں میں بیٹھنے کی بجائے اسلام آباد، مارگلہ کی پہاڑیوں کی کیفے ٹیریا میں بیٹھے رہتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ عوام الناس کی ضروریات کے لیے ہرممکن تگ ودو کریں، یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ صدر ایوب خان نے پاکستان کے درالخلافے کا نام اسلام آباد رکھا تھا، اور جدید ریاست مدینہ کو یہ نام وراثت میں مل گیا۔

قارئین ، چونکہ ہم وطن عزیز کے کروڑوں باسی مسلمان ہیں، لہٰذا میں نے سوچا کہ حضور کی ریاست مدینہ کی چشم کشا باتیں کرلیں، تمام اسلامی ممالک تلوار کے زورپر فتح ہوئے، لیکن مدینہ منورہ صرف قرآن کے ذریعے فتح ہوا، مورخین کے مطابق اسلامی ممالک کے علاوہ مکہ مکرمہ بھی مدینہ ہی کے ذریعے اسلام کے زیرنگین ہوئے، اور مدینہ منورہ صرف اور صرف قرآن پاک کے ذریعے فتح ہوا، اللہ تعالیٰ نے رسول پاک کی اعانت کے لیے مدینے کے لوگوں کو منتخب کیا، کیا اب ریاست مدینہ کا نام لینے والے کی مدد اہلیان وباشندگان اسلام آباد کررہے ہیں؟ بلکہ آئے روز ڈی چوک میں دھرنے، کبھی حزب اختلاف والے اور کبھی حکمران موجود لمبا عرصہ تک وہاں دھرنا، اور دھماچوکڑی کے ہیرو بنے رہے۔

اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کی سرزمین کو اپنی ذات کی طرف منسوب فرمایا، اور اس مقدس شہر مدینہ کو امن وقرار کی جگہ قرار دیا، قرآن مجید میں ہے کہ ”کیا خدا کی زمین کشادہ نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے اس شہر محبوب کا گھر قرار دے کر اسے ان کی طرف بھی منسوب کیا ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس شہر محبوب کی قسم بھی کھائی ہے۔

سورة البلد، سورة بنی اسرائیل اور قرطبی کے مفسرین کے مطابق آپ کی قبراطہر کے ذریعے سے برکتوں سے نوازا، نیز فرمایا :

رب الدخلنی مدخل صدق واخرجنی مغرج صدق

اے پروردگار مجھے داخل ہونے کی سچی جگہ میں داخل کر اور نکلنے کی سچی جگہ سے نکال

مدینہ منورہ کی سرزمین پاک ہی میں ایک ایسی مقدس جگہ پائی جاتی ہے جس کے بارے میں علماءامت کا اجماع ہے کہ وہ دنیا کی تمام جگہوں سے افضل ہے، اور وہ ہے قبراطہر سید کائنات اور مدینہ پاک میں اور جنت البقیع میں بہت سے جلیل القدر صحابہ کرامؓ مدفن ہیں راہ خدا میں اپنی جان عزیز کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا محفوظ خزانے کی طرح سرزمین پاک میں مدفن ہیں، سیدنا امام مالکؓ مدینہ منورہ کی عظمت اور فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ دارالجرت ہے اور شہداءکرام سے لبریز ہے۔ فخر کائنات نے اس شہر کو حرم قرار دیا ہے، اور آپ نے اپنے دست مبارک سے اس میں مسجد تعمیر فرمائی۔ مدینہ شریف کو یہ شرف بھی نصیب ہے کہ اس سرزمین میں حجرہ¿ نبوی اور منبر نبوی کے درمیان جنت کا ایک باغ ریاض الجنہ واقع ہے، اور وہاں نماز اور نوافل پڑھنے کو مسلمان سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں، کیونکہ مسجد نبوی میں وہ ذی شان منبر پایا جاتا ہے، جس کے پائے جنت میں ہیں، اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب دنیا بھر کی مسجدوں سے پچاس ہزار گنا زیادہ ملتا ہے، صرف مسجد حرام کا ثواب اس سے زیادہ ہے، یعنی کعبہ شریف میں اور آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری اس مسجد پاک میں جس مسلمان نے چالیس نمازیں باجماعت ادا کرلیں ، اللہ تعالیٰ اسے نفاق اور عذاب جہنم سے بری کردیتا ہے۔

مسجد نبوی میں تعلیم وتعلم کا خصوصی حکم صادر ہوا ہے، انبیاءعلیہم السلام کی تعمیر کردہ مساجد میں سب سے آخری مسجد مدینہ کریم ہی میں تعمیر ہوئی، اور اس کی زیارت کرنے کے لیے سفر کا اہتمام کرنے کی بھی اجازت ہے۔ مدینہ منورہ میں مزارات بڑی کثرت سے پائے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت امام مالکؓسے کہ آپ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر ہونا زیادہ پسند فرماتے ہیں یا مکہ معظمہ میں تو انہوں نے کہا کہ مدینہ منورہ میں، کیونکہ اس شہر کا کوئی راستہ ایسا نہیں ہے، کہ جس راستے پر حضور نہ چلے ہوں، اور پائے کے نعلین مبارک کے نقش نہ ثبت ہوئے ہوں، اور آپ کے فرمان کے مطابق یہ شہر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دارالسلام رہے گا، اور قیامت کے قریب سب سے آخر میں ویران ہوگا، اور ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ دینی علوم کے ماہر مدینہ منورہ کے علاوہ دنیا میں نہیں ملے گا، اور قیامت کے دن امت رسول کے محترم اور اشراف لوگوں کا حشر اسی شہر سے ہوگا۔

قارئین محترم، مجھے دراصل انتہائی کرب وقلق سے دوچار ہونا پڑتا ہے کہ ہم اس خطہ زمین کا نام ”ریاست مدینہ“ رکھ دیتے ہیں، جہاں زینب جیسی معصوم بچی کو جان سے مار دیا جاتا ہے، جہاں حرام خوری، اور حرام کاری، گاﺅں گاﺅں، قریہ قریہ ، شہر شہر، اس طرح سے پھیل گئی ہے کہ ہماری نام نہاد اسلامی مملکت خداداد پاکستان میں اغوا، زنا، تاوان کی خبروں کے لیے، اور قوم لوط ؓ، اور قوم ثمودکی امت کے مشاغل کی روزانہ خبریں دینے کے لیے اخبارات کو ایک دو صفحے مخصوص کرنے پڑتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ان حالات وواقعات کے لیے کرونا وائرس نہ آتا، تو کیا اللہ تعالیٰ آسمان سے کنکریاں برساتا، یا طوفان نوحؓکا منہ برساتا،یہ بے وقت کی بارش اور دنیا کے بدلتے موسم، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ناراضگی کا مظہر ہیں، اور قیامت کی نشانی بھی، اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کے صدقے، شاید رمضان المبارک میں ہماری دعائیں قبول فرمائے، بجائے اس کے کہ حکمران توبہ تائب ہونے اور اللہ سے رجوع کرنے کی تائید کرتے کہتے ہیں کہ ہم اس آفت ناگہانی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور عوام بھی کہتے ہیں کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔ بقول نیر

میرا دشمن مرامقدر ہے

اس کو برباد کرنہیں پایا!

شہروالوں سے کیا گلہ نیر

کوئی فریاد کر نہیں پایا!


ای پیپر