23مارچ اور ہمارے قول وفعل!
24 مارچ 2020 2020-03-24

مجھے یقین ہے قول وفعل میں تضاد کو اب باقاعدہ ایک خوبی سمجھنے والے ہمارے محترم وزیراعظم پاکستان عمران خان کے نزدیک قائداعظمؒکایہ اعلیٰ کردار رتی بھر اہمیت کا حامل نہیں ہوگا! نامور صحافی شریف فاروق مرحوم اپنی کتاب” برصغیر کامردحریت“ میں لکھتے ہیں 23مارچ 1940ءکو میں نے دیکھا آج کے اقبال پارک اور اُس دور کے منٹو پارک میں حدنگاہ رضاکاروں کے کیمپ لگے ہوئے تھے، اُن میں بہار سے لے کر یوپی اور پنجاب تک کے رضاکاران اپنے اپنے کیمپوں سے باہر نکل کر اپنے عظیم قائد (قائداعظمؒ)کا استقبال کرنے کے لیے صف بستہ ہیں، مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ منٹو پارک میں ہندوستان کے طول وعرض سے آئے ہوئے رضاکاروں کے کیمپ تھے جو مسلمانان برصغیر کے اتحادووحدت کی گواہی دے رہے تھے، ایسا سادہ مگر دل افروز منظر کم ازکم میں نے اِس سے پہلے ہرگز نہ دیکھا تھا، قائداعظم کی زیرقیادت مارچ 1940ءسے لے کر 14اگست 1947ءیعنی حصول پاکستان تک تحریک کا سفر کوئی بہت طویل مدت نہیں ہے، اتنی کم مدت میں ایک آزاد اسلامی مملکت کا دنیا کے نقشے پر اُبھرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ قوموں کی زندگی میں کسی ملک کا حصول ہی نہیں، تشکیل بھی ایک منفرد واقعہ ہے،اِسی طرح چودہ اگست 1947ءسے لے کر آج تک قومی وعالمی سطح پر دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں لاتعداد آزاد ملکوں کا جلوہ گر ہونا، دنیائے عرب کے پاس تیل کی دولت کی فراوانی، یورپ اور امریکہ کا عسکری اور اقتصادی قوت کے طورپر اُبھرنا، سوویت یونین کا عروج کے بعد زوال ، سویت یونین کی تحلیل کے بعد امریکہ کا عالمی سپرپاور کے دعویٰ کے ساتھ سامنے آنا کم حیرت ناک نہیں تھا، لیکن 11ستمبر 2001ءکے بعد امریکی تباہ کارانہ جارحیتیں ایک ہولناک عہد سے کم نہیں، خاص طورپر ایک ایسا ہولناک عہد جس میں انصاف اور اعتدال کا کوئی دخل نہیں، اِسی لیے آج دنیا کی تمام کمزور قوموں کی طرح ہمارے سامنے بہت سے مسائل سے عہدہ برا ہونے کے چیلنج درپیش ہیں۔ میں اِس وقت اقوام عالم یا عالم اسلام میں واقع ریاستوں اورمملکتوں کا جان بوجھ کر ذکر نہیں کرنا چاہتا لیکن میں پاکستان کا ذکر ضرور کرنا چاہوں گا جس کے بارے میں یورپ، امریکہ، ایشیائی ممالک، جن میں انڈیا سب سے زیادہ نمایاں تھا پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنے کی مہم پورے جذبے سے چلا رہے تھے ، اِس کے علاوہ امریکی یورپی اور بھارتی میڈیا کے تھنک ٹینک ہماری قوم کو ذہنی مرعوبیت کا شکار بنانے پر تُلے ہوئے تھے، حالانکہ جس قوم کے آٹھ ہزار سائنسدان اور سائنسی کارکن بیس سالوں تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قیادت میں اِس کے رازوں کی جانوں پر کھیل کر ایٹمی دھماکے کرسکتے ہیں ایسی قوم اور اِس طرح کی مملکت کو ناکام ریاست قرار دینا سب سے بڑی حماقت ہے، قائداعظم نے کیا درست کہا تھا ”اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم اور بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازرکھا ہے، ان لامحدود قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ کریں، آپ کو دنیا کی کسی قوم کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی، افسوس ہم نے قائد کے اِس ارشاد عظیم کو بھلا دیا، اور اِس عظیم ووسیع مملکت کے وسائل سے استفادہ کرنے کے بجائے اُنہیں ضائع کرتے رہے، .... قائداعظم ؒ نے ہماری رہنمائی کے لیے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا ”دولت کھوگئی کچھ گم نہ ہوا، جرا¿ت کھوگئی بہت کچھ ضائع ہوگیا، عزت گئی سب کچھ چلاگیااور حوصلہ ہار گئے تو سب کچھ ہار گئے، ....یہ بات قائداعظمؒ نے 3مارچ 1941ءکو مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، اُن کا مقصد تھا حوادثِ زمانہ کس قدر سنگین کیوں نہ ہوں، جدوجہد کس قدر صبرآزما کیوں نہ ہو، حوصلہ نہیں ہارنا، بے روح نہیں ہونا، یہ بہت بڑی ہدایت ورہنمائی تھی جو قائد ؒ نے ہمارے لیے چھوڑی، افسوس اِس طرف ہمارے عوام نے کوئی توجہ دی نہ حکمرانوں نے .... اِسی طرح ایک عظیم یونانی فلسفی ” ہرقلیدس“ نے کئی ہزار سال پہلے تین لفظوں میں افراد اور قوموں کی قسمتوں کا تعین کردیا تھا کہ اگر ہم اِن تین الفاظ کو اپنی زندگیوں کا ایک لازمی حصہ بنالیں تو کامیاب ترین قوم بن سکتے ہیں۔ "Character is Desting"(کردار ہی منزل ہے)۔یعنی جس فرد یا گردہ کا کردار نہیں نہیں اُس کی کوئی منزل بھی نہیں، تعمیرکردار میں بنیادی کردار قول وفعل میں ہم آہنگی کا ہوتا ہے۔ اِس وقت پاکستان سمیت عالم اسلام کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے اُن کے قول وفعل میں تضاد ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہوا ”اے مسلمانوں تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے“ ۔یہ ارشاد باری تعالیٰ افراد اور قوموں کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتا ہے، ہمارے سامنے اللہ کے آخری نبی سے لے کر قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگیاں شمع ہدایت ہیں، اِن عظیم ترین ہستیوں کی عظیم ترین کامیابیوں کی بنیادی وجہ ہی یہی تھی اِن کے قول وفعل میں تضاد کا تصور تک نہیں تھا، آج اگر ہم سب اپنے کردار کے تضاد کو اِس پیمانے میں تولیں تو صاف نظر آئے گا ہم کس قدر چھوٹے ہیں، کسی سیاسی جماعت میں شاید ہی کوئی ایک رہنما ایسا دکھائی دے جس کے قول وفعل میں تضاد نہ ہو، ہمارے محترم وزیراعظم اِس معاملے میں سب سے آگے نکلنا باقاعدہ ایک اعزاز سمجھتے ہیں، کسی رہنما کی اصل خوبی اور بنیادی قوت ہی یہی ہوتی ہے وہ اپنے لوگوں کی تقدیر بدلنے میں مخلص ہو، وہ بددیانت نہ ہو، کسی ہوس، حرص، لالچ کا شکار نہ ہو، حتیٰ کہ اقتدار کی ہوس کا شکار بھی نہ ہو، صاحب کردار رہنما ہی ایک زندہ معاشرہ پیدا کرسکتے ہیں، ایسا معاشرہ جو خودداراور غیرت مند قوموں کا سرمایہ ہوتا ہے، ایسے معاشرے کی حامل قوم ہی ایسی مملکت بناسکتی ہے جسے دنیا کے سامنے مثالی مملکت قرار دیا جاسکے، اگر ہم بددیانتی، وعدہ شکنی اور دروغ بے فروغ ، منافقت کی دلدل میں پھنسے رہیں گے جیسا کہ اب من حیث القوم بلکہ ” من حیث الہجوم“ ہماری حالت ہے تو ہم ڈوبتے چلے جائیں گے، آپ اپنی چاروں جانب نظریں دوڑائیں ہم فقروغنا سے عاری ہوکر دولت کی ہوس کے ناقابل علاج کینسر میں مبتلا ہوچکے ہیں، اِس کینسر کا شکار زیادہ تر اربوں کھربوں پتی لوگ ہیں، اسلام اُنہیں کسبِ زرسے منع نہیں کرتا مگر وہ اِس دولت کو ارتکاز کے بجائے ”جنریشن آف ویلتھ“ کا راستہ تجارت اور صنعتکاری کے ذریعے دکھاتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ یہ دولت فلاح عامہ اور قومی بہبود پر بھی خرچ ہو،.... اگر ہمارے حکمران اپنے اسلامی وقومی ہیروز کی زندگی میں سے صرف قول وفعل کی ہم آہنگی کو اپنا بنیادی اصول بنالیتے تو آج ہماری مشکلات اس قدر ہرگز نہ بڑھتیں.... اگلے روز ہمارے محترم عالم دین مولانا طارق جمیل حکمران وقت کے بارے میں رورو کر لوگوں کو یہ یقین دلارہے تھے ”وہ بہت ایماندار ہے“ .... قول وفعل میں تضاد بھی اُن کے نزدیک اُن کی شاید اُن کی ایمانداری ہی ہوگی!!


ای پیپر