ہوائی قلعے، الزامات کی بھرمار
24 مارچ 2019 2019-03-24

23 مارچ ’’یوم قرار داد پاکستان‘‘ اسی دن 23 مارچ 1940ء کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں بابائے قوم حضرت قائد اعظمؒ کی آواز گونجی تھی۔ ’’ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح‘‘ کے نغمے نے کروڑوں مسلمانوں کے اس عزم کو پختہ کردیا تھا کہ وہ اپنی جان و مال، عزت و ناموس اور عقیدے کے تحفظ کے لیے علیحدہ مملکت بنا کر رہیں گے۔ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے قرار داد منظور کی گئی، بعد کے 7 سالوں میں قائد اعظم اور ان کے پر عزم ساتھیوں نے بھرپور جدوجہد سے بکھرے مسلمانوں کو ایک قوم بنا دیا۔ ملک قرارداد کے سات سال بعد بنا۔ اس تمام عرصہ میں نو یوٹرن، قائد اعظم کی زندگی میں صرف رائٹ ٹرن تھا۔ یو ٹرن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ 72 سال بعد آنے والوں نے یوٹرن کو اپنا موٹو بنا لیا۔ اسی کو عظمت کی علامت قرار دیا۔ 8 ماہ سے کیا ہو رہا ہے؟ ہوائی قلعے تعمیر کیے جا رہے ہیں جو تعمیر کے ساتھ ہی مسمار ہوجاتے ہیں، ابو الاثر حفیظ جالندھری نے جانے عمر کے کس حصہ میں کہا تھا کہ

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں

کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے

روز خوشخبریاں، ملک کو جنت بنانے کے بہلاوے، شاید اسی جنت کے بارے میں مرزا غالب نے کہا تھا کہ ’’ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن، دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘ بھولے بھالے عوام اب تک اسی ’’فردوس بریں‘‘ سے بہل رہے ہیں، ملکی معیشت کا استحکام، ایک کروڑ درخت، 50 لاکھ گھر، نئے شہر بسانے کا اعلان (پرانے سنبھل نہیں رہے) کھربوں کے زرعی منصوبے، نیت پر شبہ نہیں صلاحیت و اہلیت پر سوالیہ نشان، ملکی معیشت عالمی بینک کے مہروں کا کھیل، مہرے چار سال تک معیشت کو تھامے رہے، موڈیز کی تعریفیں گواہ، پھر اچانک مہروں کو اِدھر اُدھر کردیا گیا۔ معیشت کسی پرانی عمارت کی طرح دھڑام سے زمیں بوس ہوگئی۔ نئی حکومت نے دہائی دی خزانہ خالی ملا، مہروں کو اِدھر اُدھر کیوں کیا گیا؟ شطرنج کے کھیل میں مہروں کی تبدیلی میں کئی دن لگ جاتے ہیں یہاں چار دن صبر نہ ہوسکا۔ سب کچھ تبدیل۔ تبدیلی سے مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ۔ عوام کے ہوش اڑا دیے گئے یہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تاکہ عوام سڑکوں پر نہ نکل سکیں۔ احتجاج نہ کرسکیں، بھرا پرا خزانہ خالی کیسے ہوگیا؟ خالی ہوگیا تو بھرے گا کیسے؟ ارد گرد پھیلے مشیروں نے قرضے لینے کو واحد آپشن قرار دیا۔ ابتدا ہی قرضوں سے ہوئی۔ مختصر سی مدت میں ساڑھے 9 ارب ڈالر کے قرضے، الامان والحفیظ۔ آگے کیا ہوگا؟ پہلے خود بیرونی دوروں پر نکلے، پھر دوستوں کو بلایا۔ اسے بھی ملکی معیشت کے استحکام کی علامت قرار دیا گیا۔ حالانکہ سارے غیر ملکی دوستوں کے دورے خیر سگالی کے لیے تھے۔ انہوں نے سوچا نیا وزیر اعظم آیا ہے زیارت کی جائے، سنا ہے ’’روحانی قوتوں‘‘ کے بل بوتے پر حکومت چلا رہا ہے۔ انتہائی جدوجہد کر رہا ہے۔ ’’یہ بات ہے تو چلو چل کے دیکھتے ہیں‘‘ خیر سگالی دوروں کو ملکی ترقی کی علامت قرار دینا قبل از وقت، جو دورہ کر کے گیا دوبارہ نہ لوٹا، خیریت کا کوئی خط تک نہ بھیجا۔ ایک وزیر خارجہ آرہے تھے رک گئے ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنے ملک ملائشیا کے نجات دہندہ، ترقی کی علامت مگر الزامات کی زد میں آگئے تھے۔ 16 سال بعد عوام نے پھر وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سونپ دی۔ سارے الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ عوام کا فیصلہ حتمی، یوم پاکستان کے موقع پر ان کا دورہ خوش آئند، کاریں بنانے کا ایک کارخانہ تو لگے گا۔ جو دے اس کا بھلا۔ جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔ کبھی تو دے گا۔ آئی ایم ایف نے بھی ابھی تک کچھ نہیں دیا۔ دلاسے دے رہا ہے۔ ہم نے بھی پیچھا نہیں چھوڑا، کچھ دے کے جاؤ، اللہ تمہارے خزانوں اور بینک اکاؤنٹس میں برکت دے گا۔ مہاتیر محمد دورے کے دوران دن بھر امن و استحکام اور ترقی کی بات کرتے رہے، میزبان کا اولین موضوع کرپشن، ہر جگہ ہر دورے میں کرپشن کا ذکر، مگر 8 ماہ میں کسی کی بھی کرپشن ثابت نہ ہوسکی، عوام کرپشن کرپشن کی گردانیں سن کر یقین کرنے پر مجبور۔ ’’نواز شریف لگداتے نئیں پر شاید‘‘ آصف زرداری پر مقدمات، الزامات ، گیارہ سال جیل کاٹی مگر تمام مقدمات میں بری، مقدمات ری اوپن، پیشیاں، اوپر تلے ضمانتیں، اولین مقصد لیڈروں کو سلاخوں کے پیچھے رکھنا قرار پایا، کہنے کو ایک وزیر نے کہہ دیا کہ نواز شریف اور زرداری کی سیاست ختم ہوگئی مگر اندر سے خوفزدہ، نواز شریف کو آزاد کردیا تو مزید سو سیٹیں لے کر خطرے کی گھنٹی بجا دے گا حالانکہ ’’بڈھا شیر‘‘ جیل میں نڈھال پڑا ہے، ملک کی جو خدمت کرسکتا تھا کرچکا، جو نہ کرسکا اس پر افسوس، لیکن برسوں یاد رکھا جائے گا۔ طیارے موٹر وے پر لینڈ کریں گے تو لوگ نواز شریف کو یاد کریں گے۔ گرمیوں میں بجلی ملے گی تو نواز شریف یاد آئے گا۔ میٹرو بسیں چلیں گی شہر خوبصورت بنیں گے تو ’’وہ یاد آئیں گے اک دن، بہت تڑپائیں گے اک دن‘‘

آٹھ ماہ سے کیا ہو رہا ہے؟ قرضوں پر گزارہ، ہوائی قلعوں کا سہارا اور اپوزیشن کیخلاف الزامات ، بیانات اور ٹوئٹ کے ذریعے مزاحیہ پیغامات میں وقت کا ضیاع۔ ایک وفاقی وزیر نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کے پیچھے پڑا ہے، فل ٹائم نوکری، دوسرا بلاول کی گردن دبوچنے کی کوشش میں اپنی گردن پھنسا بیٹھا۔ غیر ضروری بیانات۔ غیر محتاط رویہ، پیپلز پارٹی نے قتل کا مقدمہ درج کرانے کے لیے درخواستیں دے دیں۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم و مغفور اسی قسم کی ایک ایف آئی آر کھلنے پر تختہ دار تک جا پہنچے تھے، بندے کو بات کرتے ہوئے سوچنا چاہیے۔ عروج و زوال اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ و تعز من تشاء، و تذل من تشا بیدک الخیر۔ خدا نہ کرے، شیخ صاحب مصرع گنگناتے پھر رہے ہوں۔ ’’دھڑن تختہ ہوگیا مذاق ہی مذاق میں‘‘ لگتا ہے نئے آنے والے پہلے سے کچھ سوچ کر نہیں آئے تھے۔ کچن کیبنٹ تک نہیں بنائی تھی۔ خیبر پختونخوا کی حکومت پہلا تجربہ، لیکن پانچ سالوں میں کیا سیکھا۔ شہباز شریف کی میٹرو بس کو جنگلا بس قرار دینے پر زور لیکن پشاور میں وہی جنگلا بس چلانے کی تیاریاں، 23 مارچ کو آزمائشی افتتاح کرنا تھا پھر ملتوی ہوگیا۔ صرف ایک منصوبہ میں 2871 خامیاں اور تبدیلیاں، تین بار بجٹ بڑھایا جو 67 ارب تک جا پہنچا۔ لاہور کی نقل بھی ڈھنگ سے نہ ہوسکی۔ 5 سال میں ایک منصوبہ مکمل نہ ہو پایا۔ پختون خوا کے 19 اضلاع میں 70 جعلی اسکول، 43 ہزار گھوسٹ بچوں کے نام پر قومی خزانہ کو اربوں کا نقصان، کرپشن 19 اضلاع تک پھیل گئی۔ حالات کہاں سنبھل رہے ہیں۔ اورنج ٹرین منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں تھا سابق چیف جسٹس نے رکوا دیا۔ 10 ماہ بعد شروع کرا دیا۔ منصوبہ مکمل کرنے والے چلے گئے اورنج ٹرین اب تک نہ چل سکی۔ بجلی کے کارخانوں میں پیداوار شروع ہوگئی تھی۔ 12 ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگئی۔ بعد میں کیا ہوا کچھ پتا نہیں۔ ہوائی قلعوں کی تعمیر سے فرصت ملے تو سن گن ہو، سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں۔ ایک ڈیم کا بڑا شور مچا۔ وزیر اعظم نے دس ارب جمع ہونے پر پوری قوم کو مبارکباد دے دی۔ یہ نہ بتایا کہ اس پر کل لاگت 1400 ارب آئے گی وہ کہاں سے آئیں گے۔ نہیں آئیں گے تو ان 10ارب کا کیا ہوگا۔ اس کا بھی کوئی ذکر نہیں کہ اسی ڈیم کے لیے نواز شریف حکومت میں 120 ارب کی زمین خریدی گئی تھی۔ ذکر خیر میں کیا حرج تھا لیکن’’ یہ کیا قرض ہے نفرت کا کم نہیں ہوتا ،کہ بڑھتا جاتا ہے جتنا چکائے جاتے ہیں‘‘۔ 8 ماہ میں 300 سے زیادہ اجلاس، ہر اجلاس میں اوسطا 5 منصوبوں کی منظوری، کمیٹیاں، ٹاسک فورس لیکن خالی خزانے کا واویلا، کسی نے سوشل میڈیا پر پوچھ لیا کہ جب تک خزانہ خالی ہے اس وقت تک ہوائی قلعوں کی تعمیر چہ معنی دارد؟ 290 ارب کا زرعی پروگرام ملک بھر میں ڈبل ٹریک، نئے انجن، نئی بوگیاں، ریلوے ملازمین کی خوشحالی غریبوں کو ریلیف مہنگائی اور افراط زر میں کمی اربوں کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ کیا پورا ملک قرضوں پر ہی چلے گا؟


ای پیپر